SHAWORDS
Hina Rizvi

Hina Rizvi

Hina Rizvi

Hina Rizvi

poet
2Shayari
22Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

کھٹکھٹاتا ہے در دل کی بھلا زنجیر کون دے رہا ہے میرے خوابوں کو نئی تعبیر کون میری آنکھوں کے حوالے سے مرے رخسار پر لکھ گیا کاجل سے اپنے درد کی تحریر کون جس کو پانے کے لیے مر مر کے جیتے ہیں سبھی قبر تک لے کر گیا دنیا کی وہ جاگیر کون جب خدا نے ہی نہیں لکھا اسے میرے لیے اس کو دنیا میں بنا دیتا مری تقدیر کون وہ جو کہتے تھے محبت نفرتوں کا ہے جواب ان لبوں پر رکھ گیا نفرت بجھی شمشیر کون یہ زمیں سبزہ یہ پانی آسماں شمس و قمر کون ہے ان کا مصور ہے پس تصویر کون مجھ کو بخشا ہے خدا نے جب یہ غزلوں کا ہنر میرے فن کی پھر گھٹائے گا بھلا توقیر کون فلسفہ غالبؔ کے جیسا کون لکھے گا حناؔ بھر سکے گا شاعری میں پھر سے رنگ میرؔ کون

khaTkhaTaataa hai dar-e-dil ki bhalaa zanjir kaun

غزل · Ghazal

جب سے اک شوخ نظر پھیل گئی چہرے پر آتش برق و شرر پھیل گئی چہرے پر بات چپکے سے محبت نے میرے کان میں کی اور خوشیوں کی خبر پھیل گئی چہرے پر راہ میں اس کی جلائے تھے امیدوں نے چراغ روشنی کی تھی کدھر پھیل گئی چہرے پر کس نے شیشے کی طرح توڑ دیا تھا اس کو چوٹ دل میں تھی مگر پھیل گئی چہرے پر سالہا سال کی راتوں کے پرے آئی تھی عمر بھر کو وہ سحر پھیل گئی چہرے پر سرد جذبوں پہ ترس کھا کے یہ احساس کی دھوپ دل پہ کرنے کو اثر پھیل گئی چہرے پر غم کے کچھ سنگ‌ راں جب سے مرے دل پہ گرے اک ندی تھی جو ادھر پھیل گئی چہرے پر خواب منزل کے سجائے تھے میری آنکھوں نے اور حناؔ گرد سفر پھیل گئی چہرے پر

jab se ik shokh-nazar phail gai chehre par

غزل · Ghazal

تمام لفظ مجھے دستیاب تھے لیکن سوال وہ تھے کہ جن کے جواب تھے لیکن زمین دل پہ لکھا حرف سچ رہا ہوگا نقوش عشق نظر کے سراب تھے لیکن وہ شہر جس کے سبھی راویوں نے چین لکھا پلے اسی میں کئی انقلاب تھے لیکن نکل رہے ہیں ابوجہل ہی کے رشتے دار کسی زمانے میں اہل کتاب تھے لیکن تو کیا کہ عشق کی قیمت پہ چڑھ گئے سولی مری نظر میں وہی کامیاب تھے لیکن جو سینچتے رہے رشتے ثواب کی خاطر انہی کے حصے میں کتنے عذاب تھے لیکن ٹھہر تو جاتے کسی منزل حیات پہ ہم سفر پہ موت کے پا بہ رکاب تھے لیکن ہر ایک شخص تھا خاروں کے ہار پہنے ہوئے حناؔ قدم میں سبھوں کے گلاب تھے لیکن

tamaam lafz mujhe dastiyaab the lekin

غزل · Ghazal

لب ہیں خاموش زباں سلب نگاہیں قیدی زندگی نام کے زنداں میں ہیں سانسیں قیدی کل جو کھلتیں تھیں محبت کی حرارت پا کر ہو گئیں آج وہ بے باق سی باہیں قیدی کوئی آواز نہ سسکی نہ کوئی چیخ کہیں درد محبوس ہے سہمی ہوئی آہیں قیدی دو گھڑی کو ہی حقیقت یہ بھلانے کے لئے خواب دیکھے کوئی کیسے کہ ہیں آنکھیں قیدی یاس کے شہر میں امید سحر کون کرے جب اندھیروں نے بنا رکھی ہوں راتیں قیدی دشت ہستی کا ہے درپیش سفر مدت سے بے نشاں منزل مقصود ہے راہیں قیدی گلشن زیست پہ ڈالا ہے خزاں نے ڈیرا کیا خبر کس کے چمن کی ہیں بہاریں قیدی ہم گنہ گار محبت کی معافی بھی نہیں ہاتھ اٹھتے ہی نہیں لب پہ دعائیں قیدی زخم ماضی کے حناؔ رہتے ہیں ہر دم تازہ دل کے اک بند دریچے کی ہیں یادیں قیدی

lab hain khaamosh zabaan salb nigaahein qaidi

غزل · Ghazal

کبھی کوزہ کبھی کاسہ کبھی ساغر بناتے ہیں یہ کیسی پیاس کی تسکین کوزہ گر بناتے ہیں بناتے ہیں سفینے جو سمندر پار کرنے کو وہی پتوار کے ہم راہ کیوں لنگر بناتے ہیں چلو مانا کے محنت سے مکاں تم ہی بناتے ہو محبت سے مگر اپنی ہمیں تو گھر بناتے ہیں جو پہلے ہتھکڑی اور بیڑیاں تھیں بنت حوا کی اب ان کی شکل کے اہل جہاں زیور بناتے ہیں پھر اس کا وقت رخصت لوٹ کر آنا پلٹ جانا ہم اپنی آنکھ میں ہر رات وہ منظر بناتے ہیں طبیعت خود بخود مائل کیا کرتی ہے جذبوں کو کبھی کیا سوچ کر ہم دوست یا دلبر بناتے ہیں وہ بھولا پھر کسی بھی شام گھر واپس نہیں لوٹا حناؔ ماں باپ جس کا آج بھی بستر بناتے ہیں

kabhi kuuza kabhi kaasa kabhi saaghar banaate hain

غزل · Ghazal

طویل راتوں کے گھپ اندھیروں کے بعد نکلا ہے کیا نیا دن خزاں کی زردی سے زرد ہوتا بجھا بجھا سوگوار سا دن جنوں کے صحرا میں جھلسا جھلسا سلگ سلگ کر گزر رہا تھا پھر ابرآلود عشق سورج کو ڈھک کے تھوڑا بچا گیا دن نہ جانے کتنی بجھی امیدیں تھیں دل بھی شب سے بجھا ہوا تھا کرن جو پھوٹی تو جاگی آنکھوں میں سرخ ڈوروں سا بھر گیا دن خوشی کے جیسی خوشی نہیں تھی مگر تھے غم سب غموں کے جیسے تھا ایک مفلس کے ٹوٹے چھپر میں رات جیسا جلا بجھا دن یہ رات آتی ہی اس لئے ہے کہ دن کی قیمت سمجھ میں آئے مگر ہیں کچھ بد نصیب ایسے کہ جن کو سب کچھ ملا سوا دن مہکنے والی ہے رات جیسے عروس مشک و حنا سے مہکے شفق کا صحرا اتارتا ہے سحر سے دولہا بنا ہوا دن حناؔ یہ شہروں کی زندگی اب تڑپ کے کرتی ہے یاد اکثر وہ گڑ سی باتیں وہ سوندھی مٹی وہ گاؤں والا سکوں بھرا دن

tavil raaton ke ghup andheron ke baa'd niklaa hai kyaa nayaa din

Similar Poets