Shayari
ham se aadaab jiine ke sikho
ham buzurgon mein baiThe bahut hain

Hina Taimuri
Hina Taimuri
آپ کے تغافل کا سلسلہ پرانا ہے اس طرف نگاہیں ہیں اس طرف نشانہ ہے منزلوں کی باتیں تو منزلوں پہ کر لیں گے ہم کو تو چٹانوں میں راستہ بنانا ہے تم بھی ڈوبے ڈوبے تھے میں بھی کھوئی کھوئی تھی وہ بھی کیا زمانہ تھا یہ بھی کیا زمانہ ہے فاصلہ بڑھانے سے کیا ملا زمانے کو تب بھی آنا جانا تھا اب بھی آنا جانا ہے
aap ke taghaaful kaa silsila puraanaa hai
اس زمانے میں ایسے بہت ہے جن کے چہرے پہ چہرے بہت ہیں ہم سے آداب جینے کے سیکھو ہم بزرگوں میں بیٹھے بہت ہیں نوجوانوں کی مجبوریاں ہیں سوچتے کم سمجھتے بہت ہیں
is zamaane mein aise bahut hai