dil to pahle hi judaa the yahaan basti vaalo
kyaa qayaamat hai ki ab haath milaane se gae
Iman Qaisrani
Iman Qaisrani
Iman Qaisrani
Popular Shayari
3 totalchaae piinaa to ik bahaana thaa
aarzu dil ki tarjumaani thi
phir kahin baiTh ke pi jaae ikaTThe chaae
phir koi shaam kaa pal saath guzaaraa jaae
Ghazalغزل
کوئی جگنو کوئی دیپک کرن ہو یا ستارہ ہو سفر میں رات آ پہنچی کوئی تو اب ہمارا ہو کسی کے عشق کا نغمہ ہمارے لب پہ بھی گونجے کوئی تو نام لے کر اب ہمارا بھی پکارا ہو کسی کے ہاتھ ایسے ہوں جو مجھ کو تھام سکتے ہوں مجھے ہر ایک لغزش پر سدا جس کا سہارا ہو کوئی تو صبح ایسی ہو کہ جب میں نیند سے جاگوں مری پہلی نظر کو بس وہی چہرہ نظارا ہو کبھی سوچا ہے ممکن ہے جسے تم بے وفا سمجھے وہی لڑکی زمانے میں وفا کا استعارہ ہو تری پلکوں کی چوکھٹ سے جو آنسو چن لیا میں نے وہ اک آنسو وہی جگنو مجھے ہر شے سے پیارا ہو بھنور پاؤں سے الجھے ہیں مگر دل کی طلب یہ ہے مرے جیون کی ناؤ کا ترا سنگم کنارا ہو میں کچی نیند سے جاگی نہ جانے آج پھر کیسے کوئی اس پار سے شاید مجھے پھر سے پکارا ہو جنون عشق میں ایماںؔ فقط اتنا پرکھ لینا جسے جگنو سمجھتی ہوں خبر کیا وہ شرارا ہو
koi jugnu koi dipak kiran ho yaa sitaara ho
اساس تک پہنچ گئیں حواس تک پہنچ گئیں نصیب کی سیاہیاں لباس تک پہنچ گئیں بس ایک سرد آہ سے لبوں پہ نیل پڑ گئے ہماری نارسائیاں ہراس تک پہنچ گئیں پھر آئے دن کی دشمنی محبتوں میں ڈھل گئی کہ گھٹتی گھٹتی تلخیاں مٹھاس تک پہنچ گئیں یہ عشق اور مشک بھی چھپائے کب چھپے بھلا نکل کے سب کہانیاں کلاس تک پہنچ گئیں ہمارے دکھ کی برکتیں سہیلیوں نے بوجھ لیں اور ان کی خوش کلامیاں بھڑاس تک پہنچ گئیں مرے سخن میں ڈھل گئی مرے دکھوں کی داستاں ترے جنوں کی تلخیاں گلاس تک پہنچ گئیں تھکن کے سارے زاویے مسہریوں پہ رہ گئے بدن کی ساری سلوٹیں کپاس تک پہنچ گئیں مرے رحیم آپ کی عطائیں بے شمار ہیں شروع حمد سے ہوئیں تو ناس تک پہنچ گئیں
asaas tak pahunch gaiin havaas tak pahunch gaiin
فغان نیم شبی میں کوئی اثر دے دے جو ہو سکے تو دعاؤں کا اب ثمر دے دے وصال یار کہ جس میں چراغ جلتے ہوں مرے نصیب کو ایسا ہی اک نگر دے دے بس اک سوال ہے اس کے بلند منصب سے قفس نصیب کو ممکن ہے کوئی گھر دے دے میں اپنے زخم خود اپنے لہو سے سینچوں گی مجھے قرار نہ دے کوئی چارہ گر دے دے وہ آنکھ بجھ گئی جس سے چراغ جلتے تھے تمام تیرہ گھروں میں کوئی خبر دے دے میں آشیانے کے تنکے سجائے بیٹھی ہوں ہوا کے ہاتھ میں ننھا سا اک شرر دے دے میں اس کے ظرف کے بارے میں اور کیا لکھوں جو اپنے صحن سے دنیا کو رہ گزر دے دے گنہ ثواب کے سارے ہی رنگ ہوں اس میں فرشتہ چھوڑ کے مجھ کو کوئی بشر دے دے یہ رات بڑھ گئی ایماںؔ کوئی خدا کے لئے خدا سے کہہ دو کہ للہ ہمیں سحر دے دے
fughaan-e-nim-shabi mein koi asar de de
اسیر ہجر کی آب و ہوا بدلنے کو کبھی خوشی بھی ملے ذائقہ بدلنے کو مرا حجاب سلگتا ہے جس کی حدت سے تم اس نظر سے کہو زاویہ بدلنے کو میں تیرے شہر سے نکلی تو مڑ نہیں دیکھا اگرچہ لوگ ملے بارہا بدلنے کو میں جس کے نقش قدم چومنے کو نکلی تھی اسی نے مجھ سے کہا راستہ بدلنے کو ہزار زخم سہے اور پھر یہی سوچا چلو اک اور سہی تجربہ بدلنے کو گر اس کا ساتھ ملے تو ستارے مل جائیں وہ ناگزیر ہوا زائچہ بدلنے کو ملے ہیں ہم کبھی پھر سے جدا نہ ہونے کو چلو یہ فرض کریں فیصلہ بدلنے کو یہاں پہ خود کو بدلنا ہے گر بدلنا ہے سو تم سے کس نے کہا ہے خدا بدلنے کو وہ خود تو کھو چکا دنیا کی بھیڑ میں ایماںؔ مجھے بھی کہہ گیا اپنا پتا بدلنے کو
asir-e-hijr ki aab-o-havaa badalne ko
ہنسنے رونے سے گئے ربط بڑھانے سے گئے ایسی افتاد پڑی سارے زمانے سے گئے وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باسی اپنے سجدوں سے گئے رزق کمانے سے گئے دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے اس قدر قحط وفا ہے مرے اطراف کہ اب یار یاروں کو بھی احوال سنانے سے گئے زخم اتنے تھے کہ ممکن ہی نہ تھا ان کا شمار پھر بھی اے دوست ترے ہاتھ لگانے سے گئے اپنی قامت میں فلک بوس تھے ہم لوگ مگر اک زمیں زاد کے آواز لگانے سے گئے اپنا یہ حال کہ ہیں جان بچانے میں مگن اور اجداد جو تھے جان لڑانے سے گئے تجھ کو کیا علم کہ ہم تیری محبت کے طفیل ساری دنیا سے کٹے سارے زمانے سے گئے
hansne rone se gae rabt baDhaane se gae
مندی آنکھوں سے ہر پل جاگتا ہے کوئی مجھ میں مسلسل جاگتا ہے ادھر سگریٹ دھواں ہونے لگا ہے ادھر آنکھوں میں کاجل جاگتا ہے کوئی پنکھے سے لٹکا ہے جنوں میں کہیں سیجوں پہ صندل جاگتا ہے ابھی دم سادھ کے چپ چاپ بیٹھو ابھی وحشت کا جنگل جاگتا ہے میں بچھڑی کونج ہوں میری بدولت کبھی روحی کبھی تھل جاگتا ہے تہجد میں دعا کے پھول کاڑھے مری امی کا آنچل جاگتا ہے یہ دنیا جس گھڑی سوتی ہے ایماںؔ مرے اندر وہ سوجھل جاگتا ہے
mundi aankhon se har pal jaagtaa hai





