khizaan kaa zahr saare shahr ki rag rag mein utraa hai
gali-kuchon mein ab to zard chehre dekhne honge
Imdad Hamdani
Imdad Hamdani
Imdad Hamdani
Popular Shayari
2 totalmusaalahat kaa paDhaa hai jab se nisaab main ne
saliqa duniyaa mein zinda rahne kaa aa gayaa hai
Ghazalغزل
کسی کے واسطے کیا کیا ہمیں دکھ جھیلنے ہوں گے شبوں کو جاگنا ہوگا کڑے دن کاٹنے ہوں گے تری سنگیں فصیلوں کو تو جنبش تک نہیں آئی ہوائیں لے اڑیں جن کو وہ اپنے جھونپڑے ہوں گے بھنور تک تو کوئی آیا نہیں میرے لئے لیکن میں بچ نکلا تو ساحل پر کئی بازو کھلے ہوں گے خزاں کا زہر سارے شہر کی رگ رگ میں اترا ہے گلی کوچوں میں اب تو زرد چہرے دیکھنے ہوں گے ہمیں دنیا کی گردش یہ تماشہ بھی دکھائے گی گھروں میں تیرگی ہوگی منڈیروں پر دئیے ہوں گے کوئی دولت نہیں امدادؔ اپنے دست و دامن میں فقط یادوں کے سکے دل تجوری میں رکھے ہوں گے
kisi ke vaaste kyaa kyaa hamein dukh jhelne honge
جو نرم لہجے میں بات کرنا سکھا گیا ہے وہ شخص امدادؔ مجھ کو کندن بنا گیا ہے محبتوں کے نگر سے آیا تھا جو پیامی گرا کے دیوار نفرتوں کی چلا گیا ہے میں وہ مسافر ہوں جس کا کوئی نہیں ٹھکانا یہ نارسائی کا زخم مجھ کو رلا گیا ہے مصالحت کا پڑھا ہے جب سے نصاب میں نے سلیقہ دنیا میں زندہ رہنے کا آ گیا ہے یہاں کے کربل میں کوئی تشنہ دہن نہیں ہے وہ فوج نہر فرات پر کیوں بٹھا گیا ہے میں اس مسافر کو یاد کر کے مطمئن ہوں جو ڈھیر ساری دعائیں دے کے چلا گیا ہے
jo narm lahje mein baat karnaa sikhaa gayaa hai





