main bahtaa dariyaa huun lekin
biich mein sahraa paD jaataa hai

Iqbal Aslam
Iqbal Aslam
Iqbal Aslam
Popular Shayari
2 totaldarvaaze ko band na rakhnaa
ghar mein jaalaa paD jaataa hai
Ghazalغزل
سانس چلتی ہے جان باقی ہے عشق کا امتحان باقی ہے پر شکستہ نہ جانئے صاحب حوصلوں کی اڑان باقی ہے آخری تیر بھی ہے ترکش میں ہاتھ میں بھی کمان باقی ہے پاؤں کے نیچے ہے زمیں اب تک سر پہ بھی آسمان باقی ہے آندھیاں ہو گئی ہیں پھر ناکام بستیوں میں مکان باقی ہے
saans chalti hai jaan baaqi hai
1 views
وہ پرانا شجر گرا نا بھئی اک پرندہ تھا اڑ گیا نا بھئی جرم کس کا ہے کون مجرم ہے مل رہی ہے مجھے سزا نا بھئی تو نے تلوار ہاتھ میں کیوں لی تو کبوتر اڑا اڑا نا بھئی میں دیا ہوں کہ روشنی بانٹوں تو ہوا ہے تو آزما نا بھئی اک زمانہ تھا میں زمانہ تھا اب زمانہ بدل گیا نا بھئی تیرا لشکر منات و عزا کا میرا اپنا ہے اک خدا نا بھئی ہم نے دل میں جسے بسایا تھا آستینوں میں پل رہا نا بھئی زندگی کیوں سکوت ساحل ہے پھر کوئی موج اٹھا اٹھا نا بھئی
vo puraanaa shajar giraa naa bhai
1 views
آندھی کی وہ زد پر تھے لو کے اپنے تیور تھے ملبہ ملبہ دیکھ تو لوں اور یہاں کس کے گھر تھے میرا جسم تھا شیشے کا اس کے ہاتھ میں پتھر تھے چاروں اور سے حملہ تھا ہم لیکن مٹھی بھر تھے شاید آدھا پانی تھا چھلکے چھلکے گاگر تھے پگڑی ان کے سر پر تھی جن کے ہاتھوں میں سر تھے بوسیدہ سی کشتی تھی طوفانوں کے منظر تھے آپ ابھی کی بات کرو ابتر تھے جب ابتر تھے
aandhi ki vo zad par the
1 views
باقی ہے ابھی زلف میں خم اور ذرا سا اے حسن کرم اور کرم اور ذرا سا خیمے نہ لگاؤ کہ بہت پاس ہے منزل بڑھتے رہو دو چار قدم اور ذرا سا صحراؤں سے نکلا تھا کبھی چشمۂ زمزم آتی ہے صدا آج بھی تھم اور ذرا سا اک عمر سرابوں کو سمجھتے رہے دریا رہنے دو ہمارا یہ بھرم اور ذرا سا پھر چاند نے بادل میں چھپا رکھا ہے چہرہ پھر ہجر کا بڑھ جائے نہ غم اور ذرا سا جاگا ہے کوئی درد تو ہم جاگ اٹھے ہیں کچھ اور ستم اور ستم اور ذرا سا آئینۂ دل ٹوٹنے والا ہے سر شام کرچوں میں بکھر جائیں گے ہم اور ذرا سا اقبالؔ ہیں امڈے ہوئے بادل ابھی دل میں اے چشم ذرا اور ہو نم اور ذرا سا
baaqi hai abhi zulf mein kham aur zaraa saa
1 views
ڈگر ڈگر ہیں بندشیں ترا نگر کمال ہے ہیں لہر لہر سازشیں ندی ندی میں جال ہے یہ جنگ بھی عجیب ہے کہ ہم ہیں مبتلائے جنگ جو آپ کے ہیں اسلحے تو اپنی صرف ڈھال ہے ہے اپنے قافلے کا راہزن ہی اپنا رہنما جو تم کہو مثال ہے تو ہم کہیں زوال ہے ہیں منزلیں بھی گمشدہ تو راستے بھی کھو گئے یہ کیسا موڑ آ گیا قدم قدم محال ہے عجیب اک بہاؤ سا مرے وجود میں نہاں نظر نظر خموش ہے لہو لہو ابال ہے اٹھو کہ ڈھونڈنی ہے پھر وہ چاندنی وہ روشنی یہ روح سو گئی ہے کیوں یہ جسم کیوں نڈھال ہے
Dagar Dagar hain bandishein tiraa nagar kamaal hai
افق پر طلوع سحر دیکھتے ہیں بس اک خواب ہے رات بھر دیکھتے ہیں زمیں پر تو خانہ بدوشی ہے اپنی فلک سے پرے اپنا گھر دیکھتے ہیں ہماری نظر آخری داؤ پر ہے ابھی زیر ہیں پر زبر دیکھتے ہیں زباں اور ہی کچھ بیاں کر رہی ہے ہم اہل نظر ہیں نظر دیکھتے ہیں بہت ٹوٹ کر ہم نے رشتے نبھائے ذرا ایک دن توڑ کر دیکھتے ہیں اب آئینہ ہاتھوں میں رکھتے نہیں ہم ہتھیلی پہ دستار و سر دیکھتے ہیں ہیں اقبالؔ کچھ ایسے منظر بھی جن کو نہیں دیکھنا تھا مگر دیکھتے ہیں
ufuq par tulu-e-sahar dekhte hain





