SHAWORDS
Irfan Shah Noori

Irfan Shah Noori

Irfan Shah Noori

Irfan Shah Noori

poet
1Shayari
20Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

شاید جھلس رہا ہے گل پیرہن ابھی محسوس ہو رہی ہے ہوا میں گھٹن ابھی ٹکرا گیا تھا راہ میں جو اہل فن ابھی چھو کر میں آ رہا ہوں اسی کے چرن ابھی مدفن غموں کا دل کو بنایا تو ہے مگر بدلا نہیں ہے آپ کا طرز سخن ابھی شاید کہ بھولا صبح کا گھر آئے لوٹ کر کرتے ہیں انتظار کسی کے نین ابھی ڈر ہے کہ جذب ہو نہ کہیں دل کی روشنی شام سیہ سے مانگ لی غم کی کرن ابھی دار و رسن سے آج بھی آتی ہے یہ صدا برق ستم کی زد میں ہے سارا چمن ابھی عرفاںؔ کے دل کو آپ نے دیکھا تو ہے مگر دیکھا نہیں ہے آپ نے دیوانہ پن ابھی

shaayad jhulas rahaa hai gul-e-pairahan abhi

غزل · Ghazal

طرز پھر اپنا ہواؤں کو بدلنا ہی پڑا پھر چراغوں کو ہر اک موڑ پہ جلنا ہی پڑا یہ جو دنیا ہے کھلونوں کی دکانوں جیسی اس کے میلے میں ہمیں روز بہلنا ہی پڑا یوں تو ہر سمت کئی لوگ تھے خوشبو کے سفیر کچھ سیہ ناگ تھے قدموں سے کچلنا ہی پڑا جن کو عادت تھی سہاروں کی وہ سنبھلے ہی نہیں میں اکیلا تھا مجھے تنہا سنبھلنا ہی پڑا ہو جوانی یا ہو بچپن یا لڑکپن عرفاںؔ زندگی تجھ کو سدا موڑ بدلنا ہی پڑا

tarz phir apnaa havaaon ko badalnaa hi paDaa

غزل · Ghazal

ساقی تو محبت سے دو گھونٹ پلائے گا لیکن بھری محفل میں احسان جتائے گا جس ہاتھ کے پتھر نے اوروں کو کیا زخمی پتھر کے کبھی نیچے وہ ہاتھ بھی آئے گا جب منصف و قاتل میں کچھ فرق نہیں باقی پھر کون عدالت کی زنجیر ہلائے گا ظالم کو جو مل جائے گر چھوٹ گلستاں میں وہ ننھے پرندوں کو رہ رہ کے ستائے گا جب درد میں ڈوبی ہو تصویر زمانے کی پھر نغمۂ الفت تو کس راگ میں گائے گا الفاظ کے پردے میں ہر بات چھپا عرفاںؔ کیا کیا ہے ترے دل میں یہ لہجہ بتائے گا

saaqi to mohabbat se do ghunT pilaaegaa

غزل · Ghazal

ساری دنیا سے نرالی ہے غزل کی دنیا ہم نے پلکوں پہ سجا لی ہے غزل کی دنیا اس کے ہر لفظ میں پوشیدہ ہے شاعر کا لہو کون کہتا ہے خیالی ہے غزل کی دنیا پھر سیہ رات سے آئیں گے محبت کے پیام اس نے زلفوں میں سنبھالی ہے غزل کی دنیا چاند تاروں کی طرح ہم نے بھی آ کر دیکھو کیسے ہر سمت اجالی ہے غزل کی دنیا راستہ تکنے لگا پیار سے میرا کوئی جب سے عرفاںؔ نے بسا لی ہے غزل کی دنیا

saari duniyaa se niraali hai ghazal ki duniyaa

غزل · Ghazal

شکوہ ہے میرے لب پہ نہ آنسو نظر میں ہے گزری ہوئی حیات کا آہو نظر میں ہے بجھتے ہیں گر چراغ تو بجھنے بھی دو ذرا اک حسن لاجواب کا جادو نظر میں ہے شہروں میں جس کی مجھ کو زمانہ سے ہے تلاش بھائی وہ میرے گاؤں کا جگنو نظر میں ہے مایوس کیسے ہو بھلا میری نگاہ شوق انصاف کا عظیم ترازو نظر میں ہے اس کے بدن کی خوشبو فضاؤں میں ہے مگر اس کے حسین لہجے کا جادو نظر میں ہے مجھ کو کسی بھی ظلم کا ہوتا نہیں ملال گزرا ہوا وہ دور ہلاکو نظر میں ہے عرفاںؔ یہ دیکھ موت کے سائے میں آج کل اب زندگی کا کون سا پہلو نظر میں ہے

shikva hai mere lab pe na aansu nazar mein hai

غزل · Ghazal

وہ بھی مرے مزاج کے جیسا نہیں رہا شاید فلک سے چاند کا رشتہ نہیں رہا خوشبو کا ذکر کرتا ہے صندل کے پیڑ سے آنگن میں جس کے پھول کا پودا نہیں رہا اب حادثوں کی زد میں بھی آنے لگا سخن دیکھو غزل میں میرؔ سا لہجہ نہیں رہا جس نے انا کی شاخ سے توڑے سدا ثمر اس کا حبیب اس کا شناسا نہیں رہا نیلام ہو رہی ہیں پرانی حویلیاں اسلاف کا ہمارے اثاثہ نہیں رہا ہم میں جو دوریاں ہیں زمانے کی دین ہے ظالم خفا رہا مگر اتنا نہیں رہا ہوگی کسی کے نام سے منسوب دیکھنا عرفاںؔ تری غزل میں جو مقطع نہیں رہا

vo bhi mire mizaaj ke jaisaa nahin rahaa

Similar Poets