teraa aashiq tere qadmon se lipaT jaaegaa
ruThne vaale tujhe aaj manaane ke liye

Ishraque Azizi
Ishraque Azizi
Ishraque Azizi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
پہلے بنتے تھے مکاں بسنے بسانے کے لئے اب مکاں بنتے ہیں دنیا کو دکھانے کے لئے عشق تو یہ ہے ترے نام پہ مٹ جاؤں میں کیوں لکھوں نام ہتھیلی پہ مٹانے کے لئے تیرا عاشق تیرے قدموں سے لپٹ جائے گا روٹھنے والے تجھے آج منانے کے لئے غم زدہ دیکھ کے ہنستا ہے زمانہ اشراقؔ ہنسنا پڑتا ہے یہاں غم کو چھپانے کے لئے
pahle bante the makaan basne basaane ke liye
ترا چہرہ ترا حسن وفا کچھ اور کہتا ہے مگر شیریں لبوں کا ذائقہ کچھ اور کہتا ہے تجھے سب شاعروں نے اپنے اپنے رنگ میں ڈھالا مگر میری غزل کا آئنہ کچھ اور کہتا ہے عجب سی کشمکش میں ہوں زوال عشق ہے لازم صنم کچھ اور کہتا ہے خدا کچھ اور کہتا ہے تری قربت میں چاہت کی کشش دیکھی نہیں لیکن ہمارے درمیاں کا فاصلہ کچھ اور کہتا ہے اندھیروں سے نکل چل جگنوؤں سے دوستی کر لیں ہوا کچھ اور کہتی ہے دیا کچھ اور کہتا ہے ہماری راہ تھی راہ وفا اشراقؔ اب لیکن ہمارے قافلے کا رہنما کچھ اور کہتا ہے
tiraa chehra tiraa husn-e-vafaa kuchh aur kahtaa hai
مرنا جینا وفا حیا کیا ہے ہم سے پوچھو یہ مدعا کیا ہے جو بھی ہے صاف صاف بولے وہ بے خبر ہے خفا خفا کیا ہے میرا محبوب ہے مرا مصرع بول اب تیرا قافیہ کیا ہے جس کو ہم نے نچوڑ پھینکا ہے اس جوانی میں اب بچا کیا ہے میں نے اپنے طبیب سے پوچھا درد وہ ہے تو پھر دوا کیا ہے ہم جوانی تلک پہنچ آئے یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے تم خدائی کا دعویٰ کرتے ہو تم خدا ہو تو پھر خدا کیا ہے پہلے جاں میرے لب تک آ جائے پھر بتاؤں گا حوصلہ کیا ہے خشک لب تین دن کی فاقہ کشی تم نا سمجھو گے کربلا کیا ہے نام اشراقؔ ہے عزیزیؔ ہے سچ بتا تیرا نام کیا کیا ہے
marnaa jiinaa vafaa hayaa kyaa hai
ترے آنچل کو دھانی لکھ رہا ہوں تجھے میں رات رانی لکھ رہا ہوں یہ درد دل یہ آنسو زخم سارے کسی کی مہربانی لکھ رہا ہوں ہے میرے ذہن میں جس کا تصور اسے پریوں کی رانی لکھ رہا ہوں کسی کو لن ترانی لگ رہی ہیں جو باتیں خوش بیانی لکھ رہا ہوں ترے لب میرے لب کے ماحصل ہیں ترے صدقے جوانی لکھ رہا ہوں ہوا کو بھی کبھی میں کاٹ دوں گا ابھی پانی پہ پانی لکھ رہا ہوں جلال الدین اکبر سے نہ کہنا محبت کی کہانی لکھ رہا ہوں جسے کہتی ہے دنیا نوکرانی اسے محلوں کی رانی لکھ رہا ہوں ادب سے بیٹھیے خاموش رہیے بزرگوں کی نشانی لکھ رہا ہوں جسے اشراقؔ جو کرنا ہے کر لے میں اس دنیا کو فانی لکھ رہا ہوں
tire aanchal ko dhaani likh rahaa huun
لگ گئی مجھ کو یہ کس شخص کی ہائے ہائے ایک لمحہ بھی مجھے چین نہ آئے ہائے سسکیاں آہ و فغاں اور میں کیا کیا دیکھوں ظلم اتنا بھی کوئی مجھ پہ نہ ڈھائے ہائے جام ہاتھوں سے پلاتا ہے وہ ہر شام کے بعد کاش ہونٹوں سے بھی اک روز پلائے ہائے میرے محبوب ترے رخ کی زیارت کے لئے چاند کی چاندنی کھڑکی سے بلائے ہائے عشق کے جرم میں کروا کے گرفتار مجھے کوئی پازیب کی جھنکار سنائے ہائے دل چراتے ہیں سبھی دن کے اجالے میں مگر کوئی راتوں کو مرا خواب چرائے ہائے داستاں غم کی میں جب جب بھی لکھوں کاغذ پر عکس اس ماہ جبیں کا ابھر آئے ہائے سامنا ہو تو چرا لے وہ نگاہیں مجھ سے دور جائے تو اشارے سے بلائے ہائے اس کی انگلی میں وہ تاثیر کہ لذت بخشے جب بھی وہ چائے میں انگلی کو گھمائے ہائے اس کو میں دیکھ کے آیا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں اس کے عشاق مجھے دیکھنے آئے ہائے توڑ کر دل وہ مرا جب سے گیا ہے اشراقؔ دل سے ہر وقت نکلتی ہے صدائے ہاے
lag gai mujh ko ye kis shakhs ki haae haae





