ye shahr hai anjaan kahaan raat guzaarun
hai jaan-na-pahchaan kahaan raat guzaarun
Ishrat Kiratpuri
Ishrat Kiratpuri
Ishrat Kiratpuri
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
برسوں تپش غم میں یہ احساس جلے ہے تب جا کے کہیں شعر کے سانچے میں ڈھلے ہے کچھ ایسے تیری بزم میں بیٹھا ہوں اکیلا جس طرح سر راہ کوئی شمع جلے ہے اللہ کسی شخص کو رسوا نہ کرے یوں مجھ سے مرا سایہ بھی تو اب بچ کے چلے ہے اس منزل دشوار سے ہنس ہنس کے گزر جا پگلے کہیں رونے سے شب ہجر ڈھلے ہے ہر روز نیا روپ بدلتی ہے تیری یاد آہوں میں ڈھلے ہے کبھی اشکوں میں ڈھلے ہے ہر شہر میں ہونے لگی انگشت نمائی رسوائی مری مجھ سے بھی کچھ آگے چلے ہے اک روز اسے ٹوٹ ہی جانا تھا بہرحال دل توڑ کے تو کیوں کف افسوس ملے ہے
barson tapish-e-gham mein ye ehsaas jale hai
ممی بنا کے نہ شو کیس میں سجاؤ مجھے میں ایک لاش ہوں دفناؤ یا جلاؤ مجھے یہ مصلحت ہی نہیں وقت کا تقاضہ ہے خوشی کے دن کی طرح تم بھی بھول جاؤ مجھے تمہارے ساتھ تو چلنے میں کوئی حرج نہیں مگر خدا کے لیے راہ تو بتاؤ مجھے میں وہ متاع ہوں جس کا نہیں کوئی وارث عزیز دوستو چپکے سے بیچ کھاؤ مجھے پرانے آئنے چہروں کو چاٹ لیتے ہیں جو ہو سکے تو نیا آئنہ دکھاؤ مجھے میں بن نہ جاؤں کسی اجنبی کا ہم راہی پرائے دیس میں یوں چھوڑ کے نہ جاؤ مجھے
mummy banaa ke na show-case mein sajaao mujhe
تھے مزاجاً ہم بھی ہرجائی بہت پر دکن والوں کی یاد آئی بہت دل کے ملنے اور لٹنے کے لیے ایک لمحے کی شناسائی بہت بن گئے ہیں آج وہ نا آشنا جن سے تھی کل تک شناسائی بہت جب سے ان کی قربتیں حاصل ہوئیں بڑھ گئی ہے دل کی تنہائی بہت
the mizaajan ham bhi harjaai bahut
راتوں کا کرب دن کی تھکن میرے ساتھ ہے یادوں کا اک دریدہ کفن میرے ساتھ ہے برسوں سے جل رہا ہوں میں قربت کی آگ میں نا قابل بیان چلن میرے ساتھ ہے میرے لیے تو سانس بھی لینا محال ہے ماحول کی یہ ساری گھٹن میرے ساتھ ہے آنکھوں میں بس گئی ہے کسی شاخ کی طرح ہر اک قدم پہ یاد دکن میرے ساتھ ہے عہد وفا کو تیری طرح کیسے توڑ دوں میرا مزاج میرا چلن میرے ساتھ ہے
raaton kaa karb din ki thakan mere saath hai
صحن مقتل میں ہر اک زخم تمنا رکھ دو اور قاتل کا نیا نام مسیحا رکھ دو اب تو رسوائی کی حد میں ہے میری تشنہ لبی اب تو ہونٹھوں پہ دہکتا ہوا شعلہ رکھ دو کتنی تاریک ہے شب میرے مکاں کی یاروں ان منڈیروں پہ کوئی چاند سا چہرہ رکھ دو اب کی بارش میں مرا نام چمک جائے گا لاکھ تم ریت کی تہہ میں مرا کتبہ رکھ دو پھر بھی حق بات کے کہنے سے نہ بعض آؤں گا میرے ہاتھوں پہ بھلے دولت دنیا رکھ دو نیند سی آنے لگی زلف کے سائے میں مجھے پھر مرے خوابوں پہ تپتا ہوا صحرا رکھ دو میرے افسانے کو پھر موڑ نیا سا دے دو اور عنوان سلگتا ہوا لمحہ رکھ دو جو سمجھتے ہی نہیں میری زباں کو عشرتؔ ان کے افکار میں میرا لب و لہجہ رکھ دو
sahn-e-maqtal mein har ik zakhm-e-tamannaa rakh do
ہجر دے گا نہ کبھی غم کی گھٹائیں دے گا پاس رکھ کر مجھے قربت کی سزائیں دے گا یہ کھلونے نہیں روزی کا وسیلہ کر دو میرا بچہ تمہیں دن رات دعائیں دے گا ساری بستی تھی مرے قتل کی سازش میں شریک ایک منصف بھلا کس کس کو سزائیں دے گا بے ردا شہر میں تم خود ہی ذرا یہ سوچو میری بہنوں کو بھلا کون ردائیں دے گا دشمنی ختم نہ کرنا کہ بھری بستی میں پھر مجھے آخر شب کون صدائیں دے گا مجھ سے ملنا ہے تو پھر سیدھے چلے آئیے گا راستہ کوئی تمہیں دائیں نہ بائیں دے گا کشت نفرت میں تو جو پیڑ اگے گا عشرتؔ سایہ دے گا نہیں زہریلی ہوائیں دے گا
hijr degaa na kabhi gham ki ghaTaaein degaa





