SHAWORDS
Jafar Sahni

Jafar Sahni

Jafar Sahni

Jafar Sahni

poet
1Shayari
26Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 26
غزل · Ghazal

شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہو آگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہو شوق کو اپنے ذرا تیز قدم ہی رکھنا تھامنے ہاتھ کبھی باد رواں ہو کہ نہ ہو سیل کے غیظ سے لرزاں ہے تصور کا بدن بہتے پانی کے تکلم سے گماں ہو کہ نہ ہو دل کے خانے میں کشش خوب ملی ہے روشن اس کی محفل کا سماں رشک جناں ہو کہ نہ ہو درد مندی کی فضا ہم تو کریں گے قائم صحن دل دار لیے عکس فغاں ہو کہ نہ ہو اپنی پلکوں پہ چلو آج نمی کچھ بھر لیں شبنمی حسن میں تر پھر سے جہاں ہو کہ نہ ہو مجھ کو موجود تو ہر موڑ پہ وہ لگتا ہے چاند تاروں کی نگارش سے عیاں ہو کہ نہ ہو سوچ رہتی ہے عقیدت سے شرابور سدا نرم لہجے میں دعا ورد زباں ہو کہ نہ ہو میں تو مشکوک نہیں اس کی وفا سے جعفرؔ ایک موہوم اشارے میں بھی ہاں ہو کہ نہ ہو

shar ki baaton mein tamaazat kaa nishaan ho ki na ho

غزل · Ghazal

ہر سمت اڑی گرد مرے شہر گماں میں محصور تمنا ہے زمانے کے دھواں میں سناٹے کا جو قصہ سنانے میں مگن ہے رقصاں تھا کبھی شور اسی اجڑے مکاں میں خوشیوں کو بدن پر جو لپیٹے ہوئے کل تھا ہے آج شرابور وہی درد نہاں میں معدوم ہوا گل کا نشاں صحن‌ چمن سے خوشبو ہے مگر اب بھی بسی باد رواں میں ہر خواب کی تعبیر نظر آئی ہراساں ناپید ہوا جوش جنوں مرد جواں میں فردا کی گلی میں وہ بڑا کام کرے گی اک ضد ہے کھلونے کی جو معصوم فغاں میں گزری ہوئی ساعت کو پلٹنے میں لگا ہے کچھ بات نظر آئی اسے کار زیاں میں پر کیف ہوئی ساہنیؔ ہر سانس کی آہٹ موہوم اشارہ جو ملا وقت گراں میں

har samt uDi gard mire shahr-e-gumaan mein

غزل · Ghazal

ہر طرف موج بلا کی سی روانی دیکھی اشک کی گود میں مجبور کہانی دیکھی ہم بدلتے ہی رہے عشق میں موسم کے مگر گھر کی چوکھٹ پہ سدا گرد پرانی دیکھی درد کے صحن کو دشمن نہیں جانا ہم نے اس میں دل کش نئی دنیا کی نشانی دیکھی دشت وحشت کی نمائش کا حوالہ دے کر شہر دل دار کے تیور کی جوانی دیکھی چاند تاروں کے تلے ہاتھ میں خنجر تھامے مسکراتی سی کہیں ایک دوانی دیکھی ایک آواز نئی کان میں گونجی اس دم جب بھی تصویر زمانے کی سہانی دیکھی خوش لباسی پہ ہواؤں کی نہ جانا جعفرؔ اس کے حلقے میں پریشان سی رانی دیکھی

har taraf mauj-e-balaa ki si ravaani dekhi

غزل · Ghazal

زرد پتا جو ڈال سے نکلا حسرتوں کے وبال سے نکلا اپنا وہم و گماں قوی کر کے وقت آخر زوال سے نکلا زندگی کا طویل ہنگامہ لال سورج کے تھال سے نکلا لوگ چپ تھے مگر وہ افسانہ وقت کے قیل و قال سے نکلا محو حیرت ہے آج تک منزل راستہ کیسی چال سے نکلا وہ زماں اور مکاں سے آگے تھا مطمئن ہر خیال سے نکلا کیسے طے ہو بچا ہوا رستہ شیر بیٹھا ہے جال سے نکلا لو بغل میں سمیٹ کر رکھ لو ہاتھ ٹھنڈا ہے شال سے نکلا کیسا مبہم جواب اے جعفرؔ میرے واضح سوال سے نکلا

zard pattaa jo Daal se niklaa

غزل · Ghazal

طشت میں دھوپ کے ہر سمت زمیں ہے روشن جگمگاتا ہے مکاں اور مکیں ہے روشن مرغ و ماہی کے بیاں سے نہ گریزاں رہنا خوان پر گرچہ ابھی نان جویں ہے روشن بوسہ دیتے ہوئے پتھر کو قدم تیز کرو درمیاں سنگ کے اک شہر نگیں ہے روشن بزم یاراں میں مچی دھوم نے ظلمت لکھی نرم لہجے میں کوئی گوشہ نشیں ہے روشن رات کے سر پہ ہے اجلا سا دوپٹہ جعفرؔ ہو نہ ہو صحن محبت بھی کہیں ہے روشن

tasht mein dhuup ke har-samt zamin hai raushan

غزل · Ghazal

چاندنی شب بھر ٹہلتی چھت پہ تنہا رہ گئی پیار کی ہر یاد رنگیں بے سہارا ہو گئی جوش دریا کا بنا تھا قہر کشتی کے لیے بے بسی میں ناتواں پتوار رسوا ہو گئی داستان زندگی کی جب کرن خاموش تھی تب ہوا بھی سن کے چپ سارا فسانہ رہ گئی پھول پتے جب چمن سے در بدر ہونے لگے پر سکوں سرسبز دنیا بن کے صحرا رہ گئی ہر گلی میں لطف کا دریا رواں تھا ساہنیؔ میری خواہش ایسی رت میں پھر بھی تنہا رہ گئی

chaandni shab bhar Tahalti chhat pe tanhaa rah gai

Similar Poets