"lapka hai ye ik umr ka ja.ega na hargiz is gul se tabi.at na bharegi na bhari hai"

Jaleel Qidwai
Jaleel Qidwai
Jaleel Qidwai
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"payambar se ye kahla diya ki behtar tha niyaz-o-naz ki baten thiin ru-ba-ru karte"
payaambar se ye kahlaa diyaa ki behtar thaa
niyaaz-o-naaz ki baatein thiin ru-ba-ru karte
lapkaa hai ye ik umr kaa jaaegaa na hargiz
is gul se tabiat na bharegi na bhari hai
Ghazalغزل
yahi jo niklaa jo uljhanon kaa dilon ki koi javaab niklaa
یہی جو نکلا جو الجھنوں کا دلوں کی کوئی جواب نکلا ہماری ہستی تھی اک فسانہ فسانہ جو تھا سو خواب نکلا ادھر ہے سرگرمیٔ تغافل ادھر ہے اک ذوق سرفروشی وہ حسن کی ایک فصل نکلی یہ عشق کا اک باب نکلا اک آگ سی دل میں لگ گئی تھی دھواں سا کچھ رہ گیا تھا اٹھ کر فراق کی رات دل کا گھٹ گھٹ کے اس طرح پیچ و تاب نکلا ہمارے حق میں پئے جراحت یہ عشق کے ہیں عجب کرشمے کہ دل تو پہلو سے نکلا لیکن نہ دل سے وہ اضطراب نکلا جو راز دنیا سے بے خبر ہے وہی حقیقت میں باخبر ہے رہا جو اس تجربہ میں ناکام سمجھو وہ کامیاب نکلا ہزار افسوس دیدۂ کور پر کہ اک بار بھی نہ دیکھا وہ لاکھ بن بن کے چاند سورج فلک پہ گو بے نقاب نکلا سنا ہے قید حیات سے چھٹ گیا غریب آج شکر صد شکر کشاکش غم سے بعد مدت جلیلؔ خانہ خراب نکلا
taari hain dil pe kaifiyatein iztiraar ki
طاری ہیں دل پہ کیفیتیں اضطرار کی کیا شوخیاں ہیں اس نگہ سحر کار کی دولت لیے ہوں دل میں غم عشق یار کی کیا فکر مجھ کو گردش لیل و نہار کی باقی رہا کسی کو نہ پھر دل پہ اختیار آئی تھی ایک موج نسیم بہار کی ہے تار تار پیرہن اب کی بہار میں یارب ہو خیر پیرہن تار تار کی اللہ رے فیض بخشیٔ جوش جنون عشق دھجی نہیں ہے پیرہن تار تار کی جب سے سنا ہے آئیں گے وہ مجھ کو دیکھنے حالت عجیب سی ہے مرے قلب زار کی بیٹھا ہوا ہوں دیدۂ دل وا کئے ہوئے لذت اٹھا رہا ہوں غم انتظار کی ہاں اب کریں وہ شوق سے وعدہ خلافیاں عادت سی ہو گئی ہے مجھے انتظار کی آشوب عشق ہی میں ہے پوشیدہ لطف عشق تلخی ہے جان بادۂ ناخوشگوار کی سرمہ سمجھ کے اس کو لگاؤں میں آنکھ سے مجھ کو ملے تو خاک تری رہ گزار کی مجبور ہو کے رسم و رہ عشق سے جلیلؔ کم بخت دل نے راہ وفا اختیار کی
gulshan nahin dekhe ki bayaabaan nahin dekhaa
گلشن نہیں دیکھے کہ بیاباں نہیں دیکھا تجھ سا کوئی اے رشک گلستاں نہیں دیکھا ہر حال میں ممنون ہے وہ تیرے کرم کا دیوانہ کو تیرے کبھی گریاں نہیں دیکھا تھی شاق دم قید جو گلشن سے جدائی منہ پھیر کے بھی میں نے گلستاں نہیں دیکھا ہر چند شب و روز رہی مشق تصور آنکھوں نے مگر وہ رخ تاباں نہیں دیکھا کس درجہ وہ مجبور بھی ہے رحم کے قابل جس کو کہ کسی نے کبھی گریاں نہیں دیکھا ایسا کہ جسے کفر کا عرفان ہو حاصل دنیا میں کوئی صاحب ایماں نہیں دیکھا ہونے کو جلیلؔ اور ہیں ناکام ہزاروں تجھ سا بھی کوئی سوختہ ساماں نہیں دیکھا
har vaqt mubtalaa hai gham-o-iztiraab mein
ہر وقت مبتلا ہے غم و اضطراب میں لگ جائے آگ اس دل خانہ خراب میں اک عمر تک پھرا ہوں تلاش جمال میں آیا نہ کوئی حسن مرے انتخاب میں اللہ میرے جذبۂ دیوانگی کی خیر پھر کچھ کمی ہے آج مرے اضطراب میں کیا دیکھیے ہو حشر گناہ و ثواب کا گزری تمام عمر گناہ و ثواب میں اس صوت جاں نواز سے ملتی ہوئی صدا میں سن رہا ہوں نغمۂ تار رباب میں کہنے لگے کہ آپ کے خط کا جواب کیا ہوں بے جواب آپ کے خط کے جواب میں مانا شراب منع ہے لیکن جناب شیخ فرمائیں کچھ تو آپ شب مہ کے باب میں ساقی مجھے تو آج تو مے بے حساب دے ہیں شیشہ و سبو و قدح کس حساب میں بے شک جناب عشق بہت خوب ہے یہ بات لیکن یہ بات خوب ہے عہد شباب میں مطلب حجاب نفس ہے جب یہ نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ہے پردہ شرم و حجاب میں دیوانہ اک صدا کا ہوں مجھ کو نہیں جلیلؔ کچھ امتیاز نغمۂ چنگ و رباب میں
hai aarzu ki jalva-e-jaanaana dekhiye
ہے آرزو کہ جلوۂ جانانہ دیکھیے روشن جبین یار سے کاشانہ دیکھیے چھٹ جائے جام ضبط نہ پھر ہاتھ سے کہیں مست شراب شوق ہے دیوانہ دیکھیے منزل کا ہوش کچھ ہے نہ ہے راہ کی خبر لے جائے کس طرف دل دیوانہ دیکھیے کس کے جمال سے چمک اٹھے ہیں بام و در کس سے ہوئی ہے رونق کاشانہ دیکھیے رنگین جوش گل سے ہے پھر دامن بہار پھر کہہ رہا ہے کچھ دل دیوانہ دیکھیے لایا تو ہے نکال کے اس بزم سے مجھے لے جائے اب کہاں دل دیوانہ دیکھیے لے کر نگاہ شوق میں اس کی ضیائے حسن ہر ہر قدم پہ جلوۂ جانانہ دیکھیے ذروں کو اک نظر میں گلستاں بنائیے مل جائے پھول خاک میں ایسا نہ دیکھیے نکلے نہ شان حسن میں اک آہ بھی جلیلؔ خاموش مثل نرگس مستانہ دیکھیے
dil ke ehsaasaat mein jis din kami ho jaaegi
دل کے احساسات میں جس دن کمی ہو جائے گی دیکھنا بے لطف اس دن زندگی ہو جائے گی گر کبھی اس کی نگاہ دل بری ہو جائے گی اس تن بے جاں میں رقصاں زندگی ہو جائے گی بڑھتے بڑھتے درد دل ہو جائے گا وجہ سکوں رفتہ رفتہ سوز پنہاں میں کمی ہو جائے گی چارہ گر افسانۂ بربادیٔ الفت نہ پوچھ مضطرب سینہ میں روح عاشقی ہو جائے گی اس کے لب پر دیکھ لیں گے جب تبسم کی بہار جوش زن رگ رگ میں موج سر خوشی ہو جائے گی تم دکھاؤ تو سہی نظارۂ حسن و جمال دیدۂ بے نور میں خود روشنی ہو جائے گی یہ دل مایوس اور تیری جفاؤں سے گریز خوف اتنا ہے مری دل بستگی ہو جائے گی سننے والے دیکھ اس کی دل پذیری پر نہ جا ختم اک دن داستان زندگی ہو جائے گی چند روزہ عیش پر غافل مٹا ہے کس لیے ساز غم کو چھیڑ یہ دنیا نئی ہو جائے گی ذوق دل کے ساتھ ہیں یہ جلوہ ہائے رنگ رنگ یہ نہ ہو تو سرد بزم عاشقی ہو جائے گی اپنی عظمت سے اگر انسان واقف ہو گیا ساری دنیا پرتو نقش خودی ہو جائے گی سوز غم کی گر یہی حالت رہی کچھ دن جلیلؔ دیکھنا یہ جان نذر عاشقی ہو جائے گی





