"honTon se vo dekhta hai mujh ko ankhon se mujhe pukarta hai"

Jamshed Masroor
Jamshed Masroor
Jamshed Masroor
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalhonTon se vo dekhtaa hai mujh ko
aankhon se mujhe pukaartaa hai
Ghazalغزل
jab jaan pe lab-e-jaanaan ki mahak ik baarish manzar ho jaae
جب جاں پہ لب جاناں کی مہک اک بارش منظر ہو جائے ہم ہاتھ بڑھائیں اور اس میں مہتاب گل تر ہو جائے کب دل کا لڑکپن جائے گا ہر وقت یہی ہے ضد اس کی جو مانگے اسی پل مل جائے جو سوچے وہیں پر ہو جائے اک عالم جاں وہ ہوتا ہے تخصیص نہیں جس میں کوئی اس وقت ہماری بانہوں میں جو آئے وہ دلبر ہو جائے آشوب محبت کا آنسو رکھتا ہے تلون فطرت میں آنکھوں میں رہے تو قطرہ ہے ٹپکے تو سمندر ہو جائے جتنا بھی سمیٹیں آنکھوں میں رہتا ہی نہیں کچھ یاد ہمیں یا رب وہ طلسم عارض و لب اک روز تو ازبر ہو جائے جمشیدؔ متاع حسن جہاں سب اہل نظر کا حصہ ہے جو چاہے قلندر ہو جائے جو چاہے سکندر ہو جائے
baahar damakti barf mein andar mahakti raat mein
باہر دمکتی برف میں اندر مہکتی رات میں اس کے بدن کا پھول ہے جیسے ہوا کے ہات میں کھڑکی سے چھنتے چاند میں نزدیک آتش دان کے زلفوں کا سایہ اوڑھ کے بیٹھی ہیں آنکھیں گھات میں اس کے لبوں سے ٹوٹ کر سیماب مے گرنے لگا گیلے گلابوں سے اڑے جگنو اندھیری رات میں اک نیم روشن کنج کی جادوگری سمٹی ہوئی شانوں کے سیمیں حرف میں آنکھوں کی نیلی بات میں اڑتا ہوا اک لفظ سا ہونٹوں نے آنکھوں سے کہا تحریر میں آنے لگا بکھرا ہوا جذبات میں
yaad ke darichon mein baarishon ke manzar hain
یاد کے دریچوں میں بارشوں کے منظر ہیں کس نگر کی باتیں ہیں کن رتوں کے منظر ہیں اجنبی دیاروں میں شوق دید لے جاؤ کچھ نہیں تو ہر جانب دلبروں کے منظر ہیں عمر ہو گئی لیکن اب بھی ہیں تعاقب میں اس گلی سے آگے بھی تتلیوں کے منظر ہیں دل کی نم زمینوں پر چل رہے ہیں ہم کب سے دور زرد پیڑوں پر آندھیوں کے منظر ہیں میں ہوں اور سمندر ہے پیش ساعد سیمیں در پس رخ زریں پربتوں کے منظر ہیں حسن کم قبا دریا اور ہوا برہنہ پا نقش آج بھی دل پر جنگلوں کے منظر ہیں کیا ہر ایک جانب سے چل کے خود تک آیا ہوں میرے چار سو جمشیدؔ راستوں کے منظر ہیں
shauq ke shahr-e-tamannaa ke Thikaane guzre
شوق کے شہر تمنا کے ٹھکانے گزرے رات پھر ذہن سے کچھ خواب پرانے گزرے چاند جب جھیل میں اترا تو مناظر کی طرح مجھ کو چھوکر ترے بازو ترے شانے گزرے جانے کس شخص کے بارے میں پریشان ہو تم اب ہمیں خود کو بھلاتے بھی زمانے گزرے ہم تو ہر موڑ بچھا آئے تھے دامن اپنا جانے کس راہ بہاروں کے خزانے گزرے بجھنے لگتا ہے کسی شمع کے مانند وجود جب تری یاد ہواؤں کے بہانے گزرے منظر شوق وہی ہے تو سفر کیسا تھا ہم گزر آئے کہ جمشیدؔ زمانے گزرے
dil sulagtaa hai na ab yaad koi aati hai
دل سلگتا ہے نہ اب یاد کوئی آتی ہے گرد سی ہے جو خیالوں پہ جمی جاتی ہے دور پیڑوں سے الجھتی ہے ہر آندھی لیکن زرد پتوں کو مرے گھر میں اٹھا لاتی ہے کرنے آتی ہے منور دل ہر گوشۂ درد چاندنی شہر کی گلیوں میں بھٹک جاتی ہے دل کا برباد جہاں جب بھی کبھی دیکھتا ہوں اپنے ناکام ارادوں پہ ہنسی آتی ہے وہ ہے کس دیس میں کس شہر میں ہوں میں جمشیدؔ بس اسی سوچ میں ہر رات گزر جاتی ہے
tanhaa har ek rah se guzar jaanaa chaahiye
تنہا ہر ایک رہ سے گزر جانا چاہیے جیسے جیے ہیں ویسے ہی مر جانا چاہیے جانے یہ دل کا درد کہاں تک ستائے گا دریا چڑھے تو اس کو اتر جانا چاہیے بجھ کر وجود شعلہ سلگتا ہے کس لیے میں راکھ ہوں تو مجھ کو بکھر جانا چاہیے آوارگی میں کب سے گزرتی ہے رات بھی آخر کبھی تو شام کو گھر جانا چاہیے اے دوستو کھڑے ہو مرے گرد کس لیے کوئی بتاؤ مجھ کو کدھر جانا چاہیے ہر جلوۂ جمال سے تنگ آ چکا ہے جی اک روز زندگی سے بھی بھر جانا چاہیے جمشیدؔ سن رہے ہو سفر کی پکار کیا طوفاں کو یوں نہ رہ میں ٹھہر جانا چاہیے





