SHAWORDS
J

Jauhar Meer

Jauhar meer

Jauhar meer

poet
2Sher
2Shayari
3Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

'aib bhi tere hunar lagte hain

عیب بھی تیرے ہنر لگتے ہیں تیری فرقت کا ثمر لگتے ہیں کل جو قدموں میں بچھے جاتے تھے اب وہ سائے بھی شجر لگتے ہیں وہ اڑے پھرتے ہیں حیرت کیا ہے چیونٹیوں کے بھی تو پر لگتے ہیں پی گئیں کتنے سمندر صدیاں اب بھی دریا ہی امر لگتے ہیں ایک سورج ہی تو گہنایا ہے لوگ کیوں خاک بسر لگتے ہیں جل رہا ہے کوئی گلشن شاید اشک آنکھوں میں شرر لگتے ہیں جام جم تھے جو مرے دوست کبھی حادثہ ہے کہ خبر لگتے ہیں ہم جہاں رہتے ہیں وہ دشت وہ گھر دشت لگتے ہیں نہ گھر لگتے ہیں باعث رنج تھے الزام کبھی اب تو یہ رخت سفر لگتے ہیں راستے بند ہیں سارے جوہرؔ پھر بھی وہ راہ گزر لگتے ہیں

غزل · Ghazal

dard ki aankh se tere gham kaa lahu

درد کی آنکھ سے تیرے غم کا لہو بن کے سیلاب بہنے لگا چار سو دامن دل جھٹک کر کوئی چل دیا گنگناتی رہی دیر تک آب جو خشک شاخوں نے دھرتی کا غم کہہ دیا زرد پتوں کی بچ ہی گئی آبرو بین کرتی ہواؤں کی آشفتگی چھین کر لے گئی کاوش جستجو دیکھنے سوگواران یوسف ہمیں کتنے پیغمبروں کی لٹی آبرو پھول اپنی تمازت سے سنولا گئے لاکھ پھیلا رہا دامن رنگ و بو اپنی سانسوں پہ یوں بد گمانی سی ہے کوئی کاٹے بدن تو نہ نکلے لہو میرؔ جی وہ مغنی کہاں کھو گیا ہم تو گھوم آئے ہیں در بدر کو بہ کو

غزل · Ghazal

koi mausam bhi sazaa-vaar-e-mohabbat nahin ab

کوئی موسم بھی سزاوار محبت نہیں اب زرد پتوں کو ہواؤں سے شکایت نہیں اب شور ہی کرب تمنا کی علامت نہ رہے کسی دیوار میں بھی گوش سماعت نہیں اب جل چکے لوگ تو اب دھوپ میں ٹھنڈک آئی تھی جو سورج کو درختوں سے عداوت نہیں اب وہ تو پہلے بھی سبیلوں میں نہیں ہٹتی تھی جس کے بکنے کی دکانوں پہ اجازت نہیں اب اب تو ہر شخص میں برپا ہے خود اس کا محشر ہے کوئی اور قیامت تو قیامت نہیں اب

Similar Poets