SHAWORDS
Jauhar Zahiri

Jauhar Zahiri

Jauhar Zahiri

Jauhar Zahiri

poet
2Sher
2Shayari
37Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 37
غزل · Ghazal

ab dard-e-mohabbat ko ai dil minnat-kash-e-darmaan kaun kare

اب درد محبت کو اے دل منت کش درماں کون کرے خود اپنے ہی ہاتھوں الفت کا برباد گلستاں کون کرے جب یاد کسی کی آتی ہے اک برق سی لہرا جاتی ہے جب ہم ہی درد کے خواہاں ہوں پھر درد کا درماں کون کرے اس شان تغافل پر آخر جی چھوٹ گیا دل ٹوٹ گیا جب دل ہی ہمارا ٹوٹ چکا پھر آپ کو مہماں کون کرے جب برق تپاں لہرا لہرا انگڑائی فلک پر لیتی ہو اس وقت نشیمن کیسے بنے تزئین گلستاں کون کرے اب ترک ستم کے کیا معنی ہر روز نیا گل کھلنے دو دو چار درخشاں داغوں سے دل رشک گلستاں کون کرے مقصود ہے قدر و قیمت بھی زیبائش حسن خوباں کی ہر خون کے آنسو کو لیکن اب لعل بدخشاں کون کرے اب یاس کا عالم طاری ہے یہ رات بھی ہم پر بھاری ہے اے جوہرؔ اس کے وعدوں پر اب زیست کا ساماں کون کرے

غزل · Ghazal

juz marg dard-e-ishq se koi mafar nahin

جز مرگ درد عشق سے کوئی مفر نہیں اس کے لئے دوا و دعا کارگر نہیں کس درجہ پر خطر ہیں محبت کی منزلیں اس پر یہ طرہ ہے کہ کوئی راہبر نہیں تیر نگاہ ناز نے کیا کیا ستم کئے مجروح دل نہیں کہ دو پارہ جگر نہیں خود سے بھی بے خبر ہیں ترے انتظار میں اور تیری یاد دل سے جدا لمحہ بھر نہیں جس شے پہ کی نگاہ دکھائی دئے ہو تم کیا ہے اگر یہ حسن فریب نظر نہیں تم نے ہزار بار دئے ہیں ہمیں فریب لیکن ہمارے عشق میں زیر و زبر نہیں جوہرؔ لٹائی ہم نے تو کل کائنات زیست لیکن اس آفت دل و جاں پر اثر نہیں

غزل · Ghazal

raqsaan hain udhar jalve jidhar dekh rahe hain

رقصاں ہیں ادھر جلوے جدھر دیکھ رہے ہیں یہ تیری محبت کا اثر دیکھ رہے ہیں پھر حشر اٹھے گا نئے عنوان سے شاید بدلی ہوئی کچھ ان کی نظر دیکھ رہے ہیں اس درجہ ہمیں عشق نے مجبور کیا ہے آنکھوں سے اجڑتا ہوا گھر دیکھ رہے ہیں اب دست جنوں اپنے گریباں سے ہٹے کیا ہر وقت انہیں پیش نظر دیکھ رہے ہیں جوہرؔ بخدا آج وہ مائل بہ کرم ہیں قسمت سے تمنا کا ثمر دیکھ رہے ہیں

غزل · Ghazal

kuchh aisi kaifiyat se saaqi-e-mastaana aataa hai

کچھ ایسی کیفیت سے ساقیٔ مستانہ آتا ہے کہ جیسے رنگ چھلکاتا ہوا پیمانہ آتا ہے کچھ ایسے بھی ہیں جو محفل میں تشنہ کام رہتے ہیں نگاہ لطف ہٹتی ہے اگر پیمانہ آتا ہے یہ کس کی شکل آنکھیں بند کرتے ہی نظر آئی یہ کس کا نام لب پر خود پئے افسانہ آتا ہے اسے ہم بھول جائیں ہم نے چاہا ہے بہت لیکن خیال آتا ہے اکثر اور بیباکانہ آتا ہے مجھے اس بے خودی پر بھی دل مرحوم اے جوہرؔ بہت یاد آتا ہے جب دور میں پیمانہ آتا ہے

غزل · Ghazal

hayaa ruh-e-gul-e-eazaaz bhi hai

حیا روح‌ گل اعزاز بھی ہے شعور زندگی کا راز بھی ہے محبت راز اندر راز بھی ہے کہیں یہ سوز بھی ہے ساز بھی ہے اسے کیسے نہ دل دے دوں کہ جس میں وفا بھی حسن بھی انداز بھی ہے رہ عشق و وفا میں زندگانی ترانہ بھی ہے سوز و ساز بھی ہے محبت میں نہ دیکھ انجام اے دل یہ اک بے انتہا آغاز بھی ہے تبسم ہی نہیں غارت گر دل بلائے جاں خرام ناز بھی ہے دل جوہرؔ ہے اک عاشق کی دنیا کہ یہ پامال حسن و ناز بھی ہے

غزل · Ghazal

naqaab apne rukh se uThaayaa to hotaa

نقاب اپنے رخ سے اٹھایا تو ہوتا مجھے اپنا جلوہ دکھایا تو ہوتا عبث چارہ سازوں کو دیتے ہو زحمت یہاں تک کوئی اس کو لایا تو ہوتا سر بزم ان کا بگڑنے سے مطلب گناہ محبت بتایا تو ہوتا ہر اک شے سے کیوں پھوٹ نکلی تجلی چھپے تھے تو خود کو چھپایا تو ہوتا نزاکت محبت کی پھر تم سمجھتے کبھی بار الفت اٹھایا تو ہوتا گل تر کی آغوش میں ہنسنے والے مرے غم کدے میں بھی آیا تو ہوتا یہ ممکن ہے وہ راہ پر آئیں جوہرؔ کبھی قصۂ دل سنایا تو ہوتا

Similar Poets