SHAWORDS
Javed Jamil

Javed Jamil

Javed Jamil

Javed Jamil

poet
1Shayari
19Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

حیات دوڑتی ہے عمر بھر قضا کی طرف جزائے خیر کی جانب کہ پھر سزا کی طرف مقام فکر ہے یہ سمت فکر ٹھیک نہیں سفر ہے تیز مگر ہے کہاں خدا کی طرف رہے میانہ روی ہے یہی طریقۂ عدل جھکیں نہ صفر کی جانب نہ انتہا کی طرف نہ جانے کیسا ہے یہ ارتقا زمانے کا کہ لوٹ لوٹ کے جاتا ہے ابتدا کی طرف یہ کیسی جا ہے جہاں ہے ہوا بھی مصنوعی نکل کے بھاگ چلو قدرتی فضا کی طرف مرض شفا کی تڑپ میں قدم اٹھاتا ہے کبھی دوا کی طرف اور کبھی دعا کی طرف پکارنا ہے ترا کام کام کر جاویدؔ پلٹ کے آئے گی دنیا تری صدا کی طرف

hayaat dauDti hai umr bhar qazaa ki taraf

غزل · Ghazal

یقین شرط ہے اور لازمی ہیں تدبیریں ہر ایک لمحہ بدلتی رہیں گی تقدیریں سبھی چراغ بجھا دو ہوا ہے دل روشن دکھائی دینے لگی ہیں تمام تحریریں ذرا سا وقت لگے گا قدم اٹھانے میں ابھی ابھی تو کٹی ہیں ثقیل زنجیریں وہ خواب کچھ بھی نہیں ہیں فقط تماشا ہیں وہ خواب جن کی نہیں جانتا میں تعبیریں مرے قلم کا سفر لے گیا ستاروں تک مرے بزرگ کی اب بھی وہی ہیں تحریریں ہماری جنگ میں جاویدؔ خوں نہیں بہتا ہمارے پاس ہیں فکر و نظر کی شمشیریں

yaqin shart hai aur laazmi hain tadbirein

غزل · Ghazal

چپکے سے قریب آنا پھر دور نکل جانا ہر پل کا مقدر ہے ماضی میں بدل جانا کر کر کے تری باتیں پڑھ پڑھ کے ترا چہرہ ہر صنف سخن سیکھی ہر رنگ غزل جانا اک فرض ہے ہستی پر ہر پل کی پذیرائی تاریخ کا شیوہ ہے صدیوں کو نگل جانا پڑتی ہیں پہاڑوں پر سورج کی شعاعیں جب مشکل کہاں رہتا ہے پھر برف پگھل جانا کردار ادا کرنا ہر شخص کو پڑتا ہے آساں نہیں قوموں کی تقدیر بدل جانا جاویدؔ ضروری ہے دنیا میں اندھیرا بھی ہے مصلحت یزداں یہ شام کا ڈھل جانا

chupke se qarib aanaa phir duur nikal jaanaa

غزل · Ghazal

ہیں مرے وجود میں موجزن مری الفتوں کی نشانیاں نہ ہوئیں نصیب جو قربتیں انہیں قربتوں کی نشانیاں تھکی ہاری شکل نڈھال سی کسی امتحاں کے سوال سی مرے جسم و جان پہ ثبت ہیں تری فرقتوں کی نشانیاں کبھی آنکھیں غیظ سے تربتر کبھی لعن طعن زبان پر مجھے میری جاں سے عزیز ہیں تری نفرتوں کی نشانیاں ہو وہ بوئے گل کہ ہو راگنی ہو وہ آبشار کہ چاندنی ہیں قدم قدم پہ سجی ہوئیں تری نزہتوں کی نشانیاں کئی بار روز کئی جگہ مری روح پڑھتی ہے فاتحہ مرے پورے جسم میں دفن ہیں مری حسرتوں کی نشانیاں کہیں ناچتی ہوئیں مستیاں کہیں بھوک سے ہیں لڑائیاں کہیں دولتوں کے مظاہرے کہیں غربتوں کی نشانیاں وہ زمین ہو کہ ہو آسماں وہ پہاڑ ہوں کہ ہوں وادیاں ہیں چہار سمت مرے خدا تری رحمتوں کی نشانیاں

hain mire vajud mein maujzan miri ulfaton ki nishaaniyaan

غزل · Ghazal

وہ چاندنی میں کچھ ایسا تھا تر بہ تر تنہا میں دیکھتا رہا منظر یہ رات بھر تنہا ہوئی ہے جیسے ابھی تک گزر بسر تنہا گزار ڈالیں گے باقی کا بھی سفر تنہا پکارتا ہوں ترا نام جیسے صحرا میں ہمیشہ آتی ہے آواز لوٹ کر تنہا عقاب اڑتا ہے جس طرح آسمانوں میں بلندیوں میں کیا کرتا ہوں سفر تنہا ہمیشہ رہتا ہے ہم راہ قافلہ اس کے مصیبت آتی نہیں ہے کسی کے گھر تنہا وہ منتظر ہے کوئی اس کے سائے میں آئے کھڑا ہے دور رہ حق پہ اک شجر تنہا شریک قافلہ ہوتا تو جشن ہو جاتا ملے تھے خضر سفر تھا مرا مگر تنہا چلی گئی ہے ترے ساتھ زندگی جاویدؔ میں ہو گیا ہوں ترے بعد کس قدر تنہا

vo chaandni mein kuchh aisaa thaa tar-ba-tar tanhaa

غزل · Ghazal

دائم ہو اس کے حسن کی نزہت خدا کرے اور مجھ میں یہ جنون کی لذت خدا کرے سنجیدگی کا رنگ ہو تھوڑا سا پیار میں باقی مگر ہو رنگ شرارت خدا کرے مدت سے کوئی تیر نہ خنجر نہ سنگ و خشت دشمن ہو میرا زندہ سلامت خدا کرے غمگین ہوں لطیفے ہیں پھر بھی زبان پر قائم رہے یہ ذوق ظرافت خدا کرے پوشیدہ ہیں گناہوں میں بربادیوں کے راز نازل ہو دل پہ حرف ندامت خدا کرے مجمع کی کیفیات کا منظر عجیب تھا بڑھتا رہے یہ زور خطابت خدا کرے کہتے ہیں اپنی اوروں کی سنتے نہیں ہیں لوگ ہو جائے کاش شوق سماعت خدا کرے کہتے ہیں اہل دین کہ تقویٰ ہی دین ہے وہ جان جائیں کاش اقامت خدا کرے میری دعا یہی ہے شریک سفر کے ساتھ آ جائے ہم کو حسن نظامت خدا کرے تخلیق ہے بلندیٔ افکار کی عطا آئے ترے کلام میں رفعت خدا کرے ہر شخص کاش سیکھ لے آداب پیار کے دل میں نہ ہو کسی کے کدورت خدا کرے جاویدؔ چھین سکتا ہے کیا کوئی اس کا رزق جس شخص کی ہمیشہ کفالت خدا کرے

daaim ho us ke husn ki nuzhat khudaa kare

Similar Poets