"saari duniya ke ranj-o-gham de kar muskurane ki baat karte ho"

Javed Quraishi
Javed Quraishi
Javed Quraishi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalsaari duniyaa ke ranj-o-gham de kar
muskuraane ki baat karte ho
Ghazalغزل
dil-e-naadaan ko ho qaraar nahin
دل ناداں کو ہو قرار نہیں پر مجھے تیرا انتظار نہیں بھر گئے زخم سل گیا دامن آنکھ بھی دیکھو اشک بار نہیں کس جگہ جائیں کس سے بات کریں اپنا کوئی بھی غم گسار نہیں اتنے پائے ہیں دوستی میں فریب اب کسی کا بھی اعتبار نہیں
shumaar lamhon kaa sadiyon mein kar rahaa huun main
شمار لمحوں کا صدیوں میں کر رہا ہوں میں عجیب وقت سے یارو گزر رہا ہوں میں یہ سارا فیض اسی آتش دروں کا ہے ہوا ہے کتنا اندھیرا نکھر رہا ہوں میں نظر نظر میں حکایت مرے جنوں کی ہے صحیفہ بن کے دلوں میں اتر رہا ہوں میں مجھے مٹا نہ سکو گے ہزار کوشش سے جہاں ڈبویا وہاں سے ابھر رہا ہوں میں
is taraf se zaraa guzar jaao
اس طرف سے ذرا گزر جاؤ خشک پتوں میں رنگ بھر جاؤ جی اٹھیں جاں بہ لب یہ دیواریں آؤ یہ معجزہ بھی کر جاؤ روح تک تازگی سی پھیلا دو بن کے خوشبو ذرا بکھر جاؤ یہ ہنر بھی تو تم کو آتا ہے پھر سے وعدہ کرو مکر جاؤ
aashiyaane ki baat karte ho
آشیانے کی بات کرتے ہو دل جلانے کی بات کرتے ہو ساری دنیا کے رنج و غم دے کر مسکرانے کی بات کرتے ہو ہم کو اپنی خبر نہیں یارو تم زمانے کی بات کرتے ہو ذکر میرا سنا تو چڑھ کے کہا کس دوانے کی بات کرتے ہو حادثہ تھا گزر گیا ہوگا کس کے جانے کی بات کرتے ہو
sahraa lage kabhi kabhi dariyaa dikhaai de
صحرا لگے کبھی کبھی دریا دکھائی دے حیران ہوں میں کیا ہے جہاں کیا دکھائی دے آواز کوئی ہو میں اسی کی صدا سنوں ہر سمت مجھ کو ایک ہی چہرہ دکھائی دے نادانیوں کا دل کی بھی کوئی علاج ہو بن کے وہ غیر بھی مجھے اپنا دکھائی دے مجھ کو تو انجمن ہی لگا اپنی ذات میں اک شخص دوسروں کو جو تنہا دکھائی دے کس کا یقین کیجیے کس کا نہ کیجیے ہر چارہ گر مجھے تو لٹیرا دکھائی دے جاویدؔ اپنی اپنی بصیرت کی بات ہے سب دن کہیں مجھے تو اندھیرا دکھائی دے





