hasraton kaa ho gayaa hai is qadar dil mein hujum
saans rasta DhunDhti hai aane jaane ke liye

Jigar Jalandhari
Jigar Jalandhari
Jigar Jalandhari
Popular Shayari
2 totalus zulf ki tausif bataai nahin jaati
ik lambi kahaani hai sunaai nahin jaati
Ghazalغزل
ہو نہ کچھ بات مگر شور مچائے رکھنا اس طرح اوروں کو ہمدرد بنائے رکھنا تم اگر چاہتے ہو سب تمہیں ہنس ہنس کے ملیں اپنا غم اپنے ہی سینے میں چھپائے رکھنا دور کرنا نہ کبھی جلووں کو میرے دل سے اس چمن کو انہیں پھولوں سے سجائے رکھنا اس سے پر نور ہوا میری تمنا کا دیا رخ روشن سے یوں ہی پردہ اٹھائے رکھنا یہ ہمارا ہی کلیجہ ہے کہ تیرے غم کو دل کی مانند کلیجے سے لگائے رکھنا یہ ادا ان کی مسیحا بھی ہے قاتل بھی ہے سامنے آ کے نگاہوں کو جھکائے رکھنا تم اگر چاہتے ہو کوئی تمنا نہ رہے ہاتھ ہر ایک تمنا سے اٹھائے رکھنا در محبوب پہ ہر وقت پڑے رہنا جگرؔ یعنی اس در کو در کعبہ بنائے رکھنا
ho na kuchh baat magar shor machaae rakhnaa
کس کا لب پر مرے فسانا ہے ہمہ تن گوش اک زمانہ ہے زندگی ایک خواب ہے لیکن اس حقیقت کو کس نے جانا ہے کس طرح غم کو چھوڑ دوں یک لخت اس سے رشتہ بہت پرانا ہے اور تھوڑی سی کیجیئے تکلیف دو قدم پر غریب خانہ ہے آپ کو لوٹنے کی دیر ہے بس عمر رفتہ کو لوٹ آنا ہے زندگی تجھ سے کیا میں پیار کروں چال تیری مسافرانہ ہے روبرو دل کے ہے وہ شوخ نظر برق کی زد میں آشیانا ہے ہے تمنا کسی سے ملنے کی موت تو اے جگرؔ بہانا ہے
kis kaa lab par mire fasaanaa hai
اک نہتا آدمی تدبیر سے کیا لڑے تقدیر کی شمشیر سے مسکرانا زیر لب ہر وقت ہی کوئی سیکھے آپ کی تصویر سے پھول سے پیش آئیے نرمی کے ساتھ کاٹیے شمشیر کو شمشیر سے دل میں تیری یاد سے ہے روشنی آنکھ روشن ہے تری تصویر سے اپنے دیوانے کی بیتابی کا حال پوچھیے ٹوٹی ہوئی زنجیر سے
ik nihattaa aadmi tadbir se
بے تابیوں میں اشکوں میں نالوں میں گھر گئے یعنی ہم اپنے چاہنے والوں میں گھر گئے آیا نہ خواب میں بھی کبھی اپنا کچھ خیال ہم اس قدر اندھیروں اجالوں میں گھر گئے سب اہل ظرف راہ عمل پر ہوئے رواں کم ظرف ادھر ادھر کے خیالوں میں گھر گئے ان کے قدم نہ چوم سکیں منزلیں کبھی راہی جو اپنے پاؤں کے چھالوں میں گھر گئے ان کو خوشی میں ان کی محبت میں قید ہوں مجھ کو خوشی وہ میرے خیالوں میں گھر گئے جن کو نصیب ہو نہ سکیں دل کی مستیاں وہ بد نصیب مے کے پیالوں میں گھر گئے اک پل بھی رہ سکے نہ اکیلے ہم اے جگرؔ نکلے جو بھیڑ سے تو خیالوں میں گھر گئے
be-taabiyon mein ashkon mein naalon mein ghir gae
جب کوئی غم ہی نہ ہو اشک بہاؤں کیسے خود کو دنیا کی اداکاری سکھاؤں کیسے تیری ہر ایک جھلک اور بڑھاتی ہے طلب ایسے میں پیاس نگاہوں کی بجھاؤں کیسے خود بخود آنکھوں کے پیمانے چھلک پڑتے ہیں شدت غم کو چھپاؤں تو چھپاؤں کیسے چاند تاروں سے ذرا بھی تجھے تسکین نہیں زندگی اب میں تری مانگ سجاؤں کیسے جس کو آنے کی تصور میں بھی فرصت نہ ملے حال دل اس کو سناؤں تو سناؤں کیسے بچ کے دنیا کی نگاہوں سے خطا کر تو لوں اپنی نظروں سے مگر خود کو گراؤں کیسے آگ ہو تو اسے پانی سے بجھا بھی لوں جگرؔ یہ لگی دل کی ہے میں اس کو بجھاؤں کیسے
jab koi gham hi na ho ashk bahaaun kaise
زیر لب ان کا مسکرا دینا دل میں شہنائیاں بجا دینا جانے والے یہ بات یاد رہے ہم کو آساں نہیں بھلا دینا کہیں بے آسرا نہ کر دے ہمیں اس قدر تیرا آسرا دینا ہم کو رونے کی تو اجازت دو اگر آتا نہیں ہنسا دینا ہو کے ناکام ناامید نہ ہوں تو مجھے اتنا حوصلہ دینا لاکھ حاتمؔ ہو کوئی لاکھ کرن کون دے سکتا ہے ترا دینا سو بہاروں کی ہے بہار جگرؔ ان کا رہ رہ کے مسکرا دینا
zer-e-lab un kaa muskuraa denaa





