"hava chali to koi naqsh-e-motabar na bacha koi diya koi badal koi shajar na bacha"

Kaifi Sanbhali
Kaifi Sanbhali
Kaifi Sanbhali
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalhavaa chali to koi naqsh-e-motabar na bachaa
koi diyaa koi baadal koi shajar na bachaa
Ghazalغزل
yuun to kahne ko mire khuun ke pyaase hain sabhi
یوں تو کہنے کو مرے خون کے پیاسے ہیں سبھی سر قلم کون کرے گا کہ نہتے ہیں سبھی کل جو مسجد میں گئے ہم تو یہ محسوس ہوا ایک ہم ہی ہیں گنہ گار فرشتے ہیں سبھی اب یہ کیوں میری زباں کاٹ رہے ہو صاحب تم تو کہتے تھے کہ اس شہر میں گونگے ہیں سبھی قد بڑھا دے مرا یا شاخوں کو نیچا کر دے جس قدر پھل ہیں مرے ہاتھ سے اونچے ہیں سبھی خود کو اب بیچنے نکلو گے تو جاؤ گے کہاں جتنے بازار میں سکے ہیں وہ کھوٹے ہیں سبھی
sanbhaal qalb-o-jigar tegh uThaa nazar na bachaa
سنبھال قلب و جگر تیغ اٹھا نظر نہ بچا ترا گماں یہ غلط ہے کہ کوئی سر نہ بچا کوئی دیا کوئی بادل کوئی شجر نہ بچا ہوا چلی تو کوئی نقش معتبر نہ بچا سند لئے ہوئے پرواز کی فضاؤں سے میں یوں زمین پہ اترا کہ کوئی پر نہ بچا بجز عمل کوئی نسبت نہ کام آئے گی خدا کے قہر سے تو نوحؔ کا پسر نہ بچا عجیب معرکہ یہ وہم و اعتبار میں تھا اسی کی تیغ چلی اور اسی کا سر نہ بچا
aazaadi-e-zamir sitamgar kharid li
آزادیٔ ضمیر ستم گر خرید لی سر نے ہمارے قوت خنجر خرید لی کچھ زندگی کی خاص ضرورت نہ تھی مگر قدموں کی تیرے خاک سمجھ کر خرید لی جادوگری ان آنکھوں کی مت پوچھئے حضور اک پل میں شورش دل مضطر خرید لی میلے سے بندے بال پنیں کچھ نہیں لئے میری غیور بیٹی نے چادر خرید لی کیفیؔ میں اس پہ موت کو ترجیح کیوں نہ دوں وہ زندگی جو جان بچا کر خرید لی
apne sab zakhmon pe ham soe the aansu baandh kar
اپنے سب زخموں پہ ہم سوئے تھے آنسو باندھ کر آ گئیں پروائیاں پیروں میں گھنگرو باندھ کر ایک اک کر کے تری یادوں کی ساری تتلیاں ہو گئیں رخصت مری پلکوں میں جگنو باندھ کر منزلت سے میری ناواقف نہ تھے مجبور تھے رو پڑے دشمن مرے رسی میں بازو باندھ کر خوش نسب لوگوں کے بیٹوں کو نہیں اس کی خبر شیر مارے جائیں گے جنگل میں آہو باندھ کر مال اور دولت کی اے کیفیؔ تمنا کس لئے ساتھ لے جائے گا دنیا سے تو کیا کیا باندھ کر
siine mein is chubhe hue khanjar kaa shukriya
سینے میں اس چبھے ہوئے خنجر کا شکریہ ہاں شکریہ عزیز برادر کا شکریہ کشتی کو ڈوبنے کا سلیقہ سکھا دیا طوفان کا بھنور کا سمندر کا شکریہ قسمت میں تھے مری یہی تحفے لکھے ہوئے پھولوں کا شکریہ ترے پتھر کا شکریہ زد سے ہمارے عکس کی آزاد ہو گئے آئینے اب ادا کریں پتھر کا شکریہ کچھ تو ہماری پیاس کا تم نے رکھا بھرم اس زہر سے بھرے ہوئے ساغر کا شکریہ سب میرے دشمنوں کے مددگار ہو گئے سارے ہی دوستوں کا برابر کا شکریہ
yuun mausamon ke saath bhi laDnaa zarur thaa
یوں موسموں کے ساتھ بھی لڑنا ضرور تھا لیکن شجر تھا میں تو اجڑنا ضرور تھا اب مضطرب ہیں لمس سے محروم انگلیاں بچپن میں تتلیوں کو پکڑنا ضرور تھا تقدیر میں بھی لکھا تھا اک پیاس کا سفر دریا بھی میری راہ میں پڑنا ضرور تھا رہتے بھی کتنی دیر ہواؤں کے دوش پر ہر تیر کو زمین پہ گرنا ضرور تھا کیفیؔ ہمیں بھی کچھ تو مسافت کا علم تھا اک سنگ میل راہ میں گڑنا ضرور تھا





