SHAWORDS
K

Kalb

Kalb

Kalb

poet
18Sher
18Shayari
8Ghazal

Sherشعر

See all 18

Popular Sher & Shayari

36 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

ruuh tanhaa gai jannat ko subuk-saari se

روح تنہا گئی جنت کو سبکساری سے چار کے کاندھے اٹھا جسم گرانباری سے طاق طاقت ہے غم ہجر کی بیماری سے بیٹھتے اٹھتے ہیں آہوں کی مددگاری سے حسن رخسار بڑھا خط کی نموداری سے زینت صفحہ ہوئی جدول زنگاری سے تو جو تلوار سے نہلائے لہو میں مجھ کو غسل صحت ہوا بھی عشق کی بیماری سے اور تو ترک کیا سب نے شب فرقت میں بیکسی باز نہ آئی مری غم خواری سے

غزل · Ghazal

ai but hain husn mein tiri mashhur pinDliyaan

اے بت ہیں حسن میں تری مشہور پنڈلیاں ایسی کہاں سے لائے پری حور پنڈلیاں ممکن نہیں کہ یوں تو کسی کی نظر پڑے کھل جائیں نیند میں تو ہیں معذور پنڈلیاں بیداریوں میں آئیں نظر یہ تو ہے محال مخفی ہیں وقت خواب بدستور پنڈلیاں تاباں مثال شمع ہیں فانوس نور سے ہر چند پائچوں میں ہیں مستور پنڈلیاں اے نادرؔ ان کے حسن کی تعریف کیا لکھوں شمع لگن سے بڑھ کے ہیں پر نور پنڈلیاں

غزل · Ghazal

phulon ko apne paanv se Thukraae jaate hain

پھولوں کو اپنے پاؤں سے ٹھکرائے جاتے ہیں مل کر وہ عطر باغ میں اترائے جاتے ہیں اے دل قرار صبر ہے لازم فراق میں بیتابیوں سے کیا وہ تری آئے جاتے ہیں آئے ہیں دن بہار کے صیاد کہہ رہا طائر قفس میں باغ کے گھبرائے جاتے ہیں چہلوں سے چھیڑ چھاڑ سے واقف نہیں ہیں وہ کیا گدگدائیے کہ وہ شرمائے جاتے ہیں تر شرم کے پسینے سے ایسے ہوئے ہیں رات ملبوس خاص دھوپ میں سکھلائے جاتے ہیں نازک کمر وہ ایسے ہیں وقت خرام ناز زلفیں جو کھولتے ہیں تو بل کھائے جاتے ہیں شکر خدائے پاک ہے اے نادرؔ حزیں امت میں ہم رسول کی کہلائے جاتے ہیں

غزل · Ghazal

dil mujhe kufr aashnaa na kare

دل مجھے کفر آشنا نہ کرے بندہ بت کا ہوں میں خدا نہ کرے کاٹتی ہے پتنگ غیروں کی ہم سے تکل ترے اڑا نہ کرے صلح منظور ہے اگر تم کو آنکھ اغیار سے لڑا نہ کرے کیوں نہ آنچل دوپٹے کا لٹکے ہو پری زاد پر لگا نہ کرے ہے وہ بت اب تو محو یکتائی ڈر خدا کا نہ ہو تو کیا نہ کرے پڑھے نادرؔ جو شعر طرز جدید سن کے کیوں خلق واہ وا نہ کرے

غزل · Ghazal

sar kaTaa kar sifat-e-shama jo mar jaate hain

سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیں نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں لاکھوں کا خون بہائیں گے وہ جب ہوں گے جواں جو لڑکپن میں لہو دیکھ کے ڈر جاتے ہیں جنبش تیغ نگہ کی نہیں حاجت اصلاً کام میرا وہ اشاروں ہی میں کر جاتے ہیں ان کو عشاق ہی کے دل کی نہیں ہے تخصیص کوئی شیشہ ہو پری بن کے اتر جاتے ہیں برق کی طرح سے بیتاب جو ہیں اے نادرؔ تار گھر کس کی وہ لینے کو خبر جاتے ہیں

غزل · Ghazal

tashrif shab-e-vaa'da jo vo laae hue hain

تشریف شب وعدہ جو وہ لائے ہوئے ہیں سر خم ہے نظر نیچی ہے شرمائے ہوئے ہیں رخ پر جو سیہ زلف کو کو بکھرائے ہوئے ہیں وہ چودھویں کے چاند ہیں گہنائے ہوئے ہیں پھولوں سے سوا ہے بدن پاک میں خوشبو کب عطر لگانے سے وہ اترائے ہوئے ہیں حمام میں جانے کے لئے کیا کہے کوئی وہ تو عرق شرم میں نہلائے ہوئے ہیں

Similar Poets