hai zeb-e-gulu kab se mire daar kaa phandaa
mujrim huun agar main to sazaa kyuun nahin dete

Kaleem Usmani
Kaleem Usmani
Kaleem Usmani
Popular Shayari
2 totaljab kisi ne qad o gesu kaa fasaana chheDaa
baat baDh ke rasan-o-daar tak aa pahunchi hai
Ghazalغزل
رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کا کتنے درد جگا دیتا ہے اک جھونکا پروائی کا اڑتے لمحوں کے دامن میں تیری یاد کی خوشبو ہے پچھلی رات کا چاند ہے یا ہے عکس تری انگڑائی کا کب سے نہ جانے گلیوں گلیوں سائے کی صورت پھرتے ہیں کس سے دل کی بات کریں ہم شہر ہے اس ہر جائی کا عشق ہماری بربادی کو دل سے دعائیں دیتا ہے ہم سے پہلے اتنا روشن نام نہ تھا رسوائی کا شعر ہمارے سن کر اکثر دل والے رو دیتے ہیں ہم بھی لئے پھرتے ہیں دل میں درد کسی شہنائی کا تم ہو کلیمؔ عجب دیوانے بات انوکھی کرتے ہو چاہ کا بھی ارمان ہے دل میں خوف بھی ہے رسوائی کا
raat ki zulfein bhigi bhigi aur aalam tanhaai kaa
ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہت اب یہ سوچا ہے کہ اپنی ذات میں سمٹے رہیں ہم نے کر کے دیکھ لی سب سے شناسائی بہت منہ چھپا کر آستیں میں دیر تک روتے رہے رات ڈھلتی چاندنی میں اس کی یاد آئی بہت قطرہ قطرہ اشک غم آنکھوں سے آخر بہہ گئے ہم نے پلکوں کی انہیں زنجیر پہنائی بہت اپنا سایہ بھی جدا لگتا ہے اپنی ذات سے ہم نے اس سے دل لگانے کی سزا پائی بہت اب تو سیل درد تھم جائے سکوں دل کو ملے زخم دل میں آ چکی ہے اب تو گہرائی بہت شام کے سایوں کی صورت پھیلتے جاتے ہیں ہم لگ رہی تنگ ہم کو گھر کی انگنائی بہت آئنہ بن کے وہ صورت سامنے جب آ گئی عکس اپنا دیکھ کر مجھ کو ہنسی آئی بہت وہ سحر تاریکیوں میں آج بھی روپوش ہے جس کے غم میں کھو چکی آنکھوں کی بینائی بہت میں تو جھونکا تھا اسیر دام کیا ہوتا کلیمؔ اس نے زلفوں کی مجھے زنجیر پہنائی بہت
hai agarche shahr mein apni shanaasaai bahut
جب سر شام کوئی یاد مچل جاتی ہے دل کے ویرانے میں اک شمع سی جل جاتی ہے جب بھی آتا ہے کبھی ترک تمنا کا خیال لے کے اک موج کہیں دور نکل جاتی ہے یہ ہے مے خانہ یہاں وقت کا احساس نہ کر گردش وقت یہاں جام میں ڈھل جاتی ہے خواہش زیست غم مرگ غم سود و زیاں زندگی چند کھلونوں سے بہل جاتی ہے جب وہ ہنستے ہوئے آتے ہیں خیالوں میں کلیمؔ شام غم صبح مسرت میں بدل جاتی ہے
jab sar-e-shaam koi yaad machal jaati hai
رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرح چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے پاگل کی طرح خشک پتوں کی طرح لوگ اڑے جاتے ہیں شہر بھی اب تو نظر آتا ہے جنگل کی طرح پھر خیالوں میں ترے قرب کی خوشبو جاگی پھر برسنے لگی آنکھیں مری بادل کی طرح بے وفاؤں سے وفا کر کے گزاری ہے حیات میں برستا رہا ویرانوں میں بادل کی طرح
raat phaili hai tere surmai aanchal ki tarah





