SHAWORDS
Karrar Noori

Karrar Noori

Karrar Noori

Karrar Noori

poet
4Sher
4Shayari
28Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

8 total

Ghazalغزل

See all 28
غزل · Ghazal

fan ki aur zaat ki paikaar ne sone na diyaa

فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا دل میں جاگے ہوئے فن کار نے سونے نہ دیا ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ مرے ساتھ گئی زیر سایہ کسی دیوار نے سونے نہ دیا ایک معصوم سی صورت کو کہیں دیکھا تھا پھر بھی چشمان گنہ گار نے سونے نہ دیا میرے ہم سایے میں شاید ہے کوئی مجھ جیسا ہے جو چرچا کسی بیمار نے سونے نہ دیا کل مرے شہر میں اک ظلم کچھ ایسا بھی ہوا رات بھر غیرت فنکار نے سونے نہ دیا جاگتے رہنے کا آرام تو کیا ہم کو بھی چین سے شدت افکار نے سونے نہ دیا کل کچھ ایسی ہی سر بزم مری بات گری کسی پہلو مرے پندار نے سونے نہ دیا ایک دھڑکا سا لگا تھا کہ سحر دم کیا ہو سر پہ لٹکی ہوئی تلوار نے سونے نہ دیا

غزل · Ghazal

har chand apnaa haal na ham se bayaan huaa

ہر چند اپنا حال نہ ہم سے بیاں ہوا یہ حرف بے وجود مگر داستاں ہوا مانا کہ ہم پہ آج کوئی مہرباں ہوا دل کانپتا ہے یہ بھی اگر امتحاں ہوا جو کچھ میں کہہ چکا ہوں ذرا اس پہ غور کر جو کچھ بیاں ہوا ہے بہ مشکل بیاں ہوا اب تم کو جس خلوص کی ہم سے امید ہے مدت ہوئی وہ نذر دل دوستاں ہوا طوفان زندگی میں ضرورت تھی جب تری مجھ کو ہر ایک موج پہ تیرا گماں ہوا آداب قید و بند نے بدلا عجیب رنگ کنج قفس کا نام بھی اب آشیاں ہوا آنسو نکل پڑے ہیں خوشی میں ترے حضور کس تمکنت کے ساتھ یہ دریا رواں ہوا

غزل · Ghazal

rah-e-hayaat mein koi charaagh hi na milaa

رہ حیات میں کوئی چراغ ہی نہ ملا کسی دماغ سے اپنا دماغ ہی نہ ملا غم زمانہ سے فرصت تو مل بھی سکتی تھی تمہاری یاد سے لیکن فراغ ہی نہ ملا صلائے خاص کی لذت کو عمر بھر ترسے کہ ان کے ہاتھ سے کوئی ایاغ ہی نہ ملا بجز لطافت احساس جستجو دل میں نگار رفتہ کا کوئی سراغ ہی نہ ملا تم اس سے پوچھتے ہو لذت غم ہجراں غم حیات سے جس کو فراغ ہی نہ ملا بس اب یہ خون تمنا ہو نذر ویرانہ تلاش تھی ہمیں جس کی وہ باغ ہی نہ ملا تمہی بتاؤ کہ ایسے میں کیا بناتے گھر کہ گھر کے واسطے کوئی چراغ ہی نہ ملا ہر ایک شخص سے ہنس کر ملے جو ہم نوریؔ ہمارے سینے میں دنیا کو داغ ہی نہ ملا

غزل · Ghazal

main lamha lamha nae apne khadd-o-khaal mein thaa

میں لمحہ لمحہ نئے اپنے خد و خال میں تھا کہ جو بھی کچھ تھا میں اپنی شکست حال میں تھا نظر پڑا تو وہ ایسے نہ دیکھا ہو جیسے وہ عکس عکس تھا اور اپنے ہی جمال میں تھا ترے خیال سے میں اس قدر ہوا مانوس تو سامنے تھا مگر میں ترے خیال میں تھا شکست و ریخت نے ہی مجھ کو خود کفیل کیا تھا زخم زخم مگر اپنے اندمال میں تھا تمہارے وعدے سے صدیوں کی عمر لے آیا جو لمحہ قربت و دوری کے اتصال میں تھا

غزل · Ghazal

har taraf tazkira-e-jurm-o-sazaa hotaa hai

ہر طرف تذکرۂ جرم و سزا ہوتا ہے آج ہم سمجھے کہ بندہ بھی خدا ہوتا ہے جیسے رہتے ہوں کسی شخص کی جاگیر میں ہم دل میں رہ رہ کے یہ احساس سا کیا ہوتا ہے ہم نشیں غور نہ کر بات کو محسوس تو کر اس چھٹی حس میں کوئی خطرہ چھپا ہوتا ہے اپنے احساس میں اے واعظ تسلیم و رضا رند پیمانہ بکف ہو تو خدا ہوتا ہے کتنا پیارا ہے وہ نوریؔ مرا وقتی دشمن میری بے راہروی پر جو خفا ہوتا ہے

غزل · Ghazal

vo jaa chuke hain magar khalfashaar baaqi hai

وہ جا چکے ہیں مگر خلفشار باقی ہے جو انتظار تھا وہ انتظار باقی ہے بس اتنی بات مرے شہر یار باقی ہے کہ نشہ ٹوٹ چکا ہے خمار باقی ہے جنوں کی لمحہ شگافی سے صدیاں پھوٹ پڑیں اب ان کا ایک نیا اختصار باقی ہے عجب ہیں کھیل محبت کی بے نیازی کے کہ آگ بجھ بھی چکی ہے شرار باقی ہے ہم اپنا لمحۂ ہستی ابد بنا لائے نئے ازل کا مگر انتظار باقی ہے

Similar Poets