ek bosa honT par phailaa tabassum ban gayaa
jo haraarat thi miri us ke badan mein aa gai

Kavish Badri
Kavish Badri
Kavish Badri
Popular Shayari
12 totalab na vo ahbaab zinda hain na rasm-ul-khat vahaan
ruuTh kar urdu to dehli se dakan mein aa gai
shaairi mein anfus-o-aafaaq mubham hain abhi
istiaara hi haqiqat mein khudaa saa khvaab hai
az-sar-e-nau fikr kaa aaghaaz karnaa chaahiye
be-par-o-baal sahi parvaaz karnaa chaahiye
javaab dene ki mohlat na mil saki ham ko
vo pal mein laakh savaalaat kar ke jaataa hai
maahaul sab kaa ek hai aanhkein vahi nazrein vahi
sab se alag raahein miri sab se judaa manzar miraa
meri aavaaz ko aavaaz ne taqsim kiyaa
radio mein huun telephone ke andar huun main
saans lene bhi na paayaa thaa ki manzar gum huaa
main kisi qaabil na thaa varna Thahartaa aur kuchh
ek manzar bhi na dekhaa gayaa mujh se 'kaavish'
saare aalam ko koi dekh rahaa hai mujh mein
sukh ki zamin basit nahin hai to kyaa huaa
dukh to miraa vishaal hai aakaash ki tarah
kahaan vo ruk ke koi baat kar ke jaataa hai
hamesha nisf mulaaqaat kar ke jaataa hai
lafz ki buhtaat itni naqd o fan mein aa gai
maskh ho kar surat-e-maani sukhan mein aa gai
Ghazalغزل
ایک سجدہ خوش گلو کے آگے سہواً ہو گیا اس پہ کوئی معترض ہوگا تو قصداً ہو گیا کفر کا فتویٰ ہوا صادر تو خوش قسمت تھا میں تذکرہ میرا بھی ہر مسجد میں ضمناً ہو گیا آناً فاناً میں کسی نے دستگیری کی مری کام تھا مشکل کا اہلاً اور سہلاً ہو گیا طوعاً و کرہاً بڑھاتے ہیں ملاقاتوں کو ہاتھ سب سے یارانہ مرا موقوف قطعاً ہو گیا خواب ہی اس بار دیکھا تھا کبھی میں نے جسے دو بدو اس سے تصادم اتفاقاً ہو گیا مستحق جنت کا اک کاوشؔ نہیں وہ بھی تو ہے قتل میرا ایک جاہل سے جو شرعاً ہو گیا
ek sajda khush-gulu ke aage sahvan ho gayaa
دست کہسار سے پھسلا ہوا پتھر ہوں میں سر بسر سنگ تراشوں کا مقدر ہوں میں گھونٹ لمحات کی پی پی کے دھلا جاتا ہوں ان گنت وقت کے دھاروں کا شناور ہوں میں کیا ڈبو دیتا ہوں میں دل کے کنویں میں خود کو چشم بے نور میں یوسف کا برادر ہوں میں کرچیاں ذہن میں پیوست ہیں پلکوں کی طرح چشم ایام سے چھوٹا ہوا ساغر ہوں میں اوڑھ لیتی ہے مجھے سرد فضا کی دیوی کرب کی دھوپ میں تپتی ہوئی چادر ہوں میں میری آواز کو آواز نے تقسیم کیا ریڈیو میں ہوں ٹیلیفون کے اندر ہوں میں نئے ماحول سے مانوس نہیں ہوں اب تک ننھے بچہ کی طرح خول کے اندر ہوں میں چند اشعار ملے ٹائپ شدہ دفتر میں ٹائپ رائٹر پہ بٹھایا ہوا بندر ہوں میں
dast-e-kohsaar se phislaa huaa patthar huun main
تیر کی پرواز ہے مشکیزۂ دل کی طرف ہو کے گھائل پھر بھی ہم مائل ہیں قاتل کی طرف گو نہیں پیراک لیکن حوصلہ بڑھنے کا ہے موج کی اک فوج صف بستہ ہے ساحل کی طرف ہر جگہ حاضر ہوں میں اپنے مثالی تن کے ساتھ فاصلے اور وقت بے معنی ہیں منزل کی طرف جیسی اپنی عین ہے اتنی ہی اپنی دوڑ دھوپ قیس محمل کی طرف ہم شمع محفل کی طرف صوت ناقوس و جرس ہو یا اذاں ہو یا جرس راستہ اک اور جاتا ہے سلاسل کی طرف جیسے بے حرف و نوا اتری ہے الہامی کتاب وہ مخاطب ہیں اسی انداز سے دل کی طرف بادہ خواروں میں بھی ہم کاوشؔ ولی بن کر جیے رخ ہمارا تھا تصوف کے مسائل کی طرف
tiir ki parvaaz hai mashkiza-e-dil ki taraf
وجود دل کے دروازوں کی کنجی کون رکھتا ہے فقیروں کے برابر گنج مخفی کون رکھتا ہے وہاں پہنچا دیا ہے مجھ کو انگشت تفکر نے جہاں میرے سوا یاد الٰہی کون رکھتا ہے یہ قطرہ کون ہے یہ نقش عریاں بیج ہے کس کا بدن میں سنگ بنیاد معانی کون رکھتا ہے جلا کر خیر اشیا کو تنور چشم ہستی میں نظر کوئی بقا پر اتنی گہری کون رکھتا ہے لہو صہبا بدن مینائے خاکی بن گیا کاوشؔ ذرا دیکھو تو یوں فیضان ساقی کون رکھتا ہے
vajud-e-dil ke darvaazon ki kunji kaun rakhtaa hai
اور ہوتی میری رسوائی نکھرتا اور کچھ غور کرتا اور کچھ اظہار کرتا اور کچھ یار لوگوں میں سبق بنتی مری آوارگی سانحہ اس شہر میں مجھ پر گزرتا اور کچھ ان دنوں دیدہ بھی لگتا ہے شنیدہ کی طرح کاش حرف و صوت کے من میں اترتا اور کچھ آخری ہچکی سے دم ٹوٹا نہ نبض اپنی رکی تو اگر ہوتا مرے آگے تو مرتا اور کچھ سانس لینے بھی نہ پایا تھا کہ منظر گم ہوا میں کسی قابل نہ تھا ورنہ ٹھہرتا اور کچھ نثری نظمیں کہنے والے تو فرشتے ہیں تمام مجھ گنہ گار غزل پر قہر اترتا اور کچھ بے تکلف اس قدر تھا قتل میرا کر دیا وہ عدو ہوتا تو کاوشؔ مجھ سے ڈرتا اور کچھ
aur hoti meri rusvaai nikhartaa aur kuchh
سنگ اور خشت ملامت سے بچا لو مجھ کو اپنے دربار کی دیوار بنا لو مجھ کو پارہ پارہ ہو انا اور سر مغرور فنا گیند کی طرح فضاؤں میں اچھالو مجھ کو لقمۂ تر نے مرے نفس کو برباد کیا یاد کرتے رہو کنکر کے نوالو مجھ کو جانے کس قبر کا ہے پیکر خالی میرا میں کھلونا ہوں تو بس توڑ ہی ڈالو مجھ کو دشت پر خار میں ہوں اک شجر خام ابھی اپنی دہلیز کا تختہ ہی بنا لو مجھ کو اک نظر ایک نظر ایک نظر ایک نظر صرف دزدیدہ نظر ڈال کے ٹالو مجھ کو کاوشمؔ کیا ہے سمجھ میں کبھی آ جائے گا غم زدہ گیت سمجھ کر کبھی گا لو مجھ کو
sang aur khisht-e-malaamat se bachaa lo mujh ko





