SHAWORDS
Khaleel Rampuri

Khaleel Rampuri

Khaleel Rampuri

Khaleel Rampuri

poet
1Sher
1Shayari
12Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

naam is allaah ke bande kaa bhi rusvaai mein hai

نام اس اللہ کے بندے کا بھی رسوائی میں ہے جو سمندر کی طرح سے اپنی گہرائی میں ہے شاخ سے پتہ بھی اڑتا ہے پرندے کی طرح زندگی کی کوئی چنگاری تمنائی میں ہے دھوپ کا دریا امڈ آتا ہے جب چڑھتا ہے دن کوئی ایسی لہر کیا اس کی بھی انگڑائی میں ہے جب ہواؤں میں اڑے گا سب پتہ لگ جائے گا جھیل نیلے آسماں کی کتنی گہرائی میں ہے چھوڑ جاتی ہے ہوا بھی نقش اپنے خاک پر سوچتا ہوں تو کہاں پر جلوہ آرائی میں ہے ڈوب جاتے ہیں مناظر ڈوبتے سورج کے ساتھ سچ کہا کرتا تھا وہ بھائی کی جاں بھائی میں ہے لہلہاتی خاک کو دیکھا تو کیا دیکھا میاں اس کو دیکھا چاہئے جو اس کی رعنائی میں ہے کوئی دروازے کی دستک کان میں پڑتی نہیں بت بنا بیٹھا ہوں گھر میں دھیان شہنائی میں ہے گھیرے رہتا ہے مجھے لوگوں کی آوازوں کا شور وہ اکیلا دیکھ کر کہتے ہیں تنہائی میں ہے اڑتے طیارے کی کھڑکی سے ذرا سا جھانک لے اتنے ہنگاموں بھری دنیا بھی تنہائی میں ہے ہم کسی شیشے کو اپنے منہ سے پتھر کیوں کہیں جس کا جو کردار ہے وہ اس کی گویائی میں ہے دوستو کیا پوچھتے ہو حال اس کے گاؤں کا آئنہ لپٹا ہوا تالاب کی کائی میں ہے اٹھ رہی تھیں دور تک پانی کی دیواریں خلیلؔ ہم یہ سمجھے نقص کوئی اپنی بینائی میں ہے

غزل · Ghazal

jo is tarah liye phirtaa hai jaan hatheli par

جو اس طرح لیے پھرتا ہے جاں ہتھیلی پر وہ دیکھنا کبھی جاں سے گزر ہی جائے گا خیال ہے کوئی اڑتا ہوا پرند نہیں جہاں بھی جائے گا بے بال و پر ہی جائے گا یہ آسماں جو ازل سے سوا رہے مجھ پر یہ بوجھ بھی کہیں سر سے اتر ہی جائے گا میں اس کا چاہنے والا ہوں کوئی غیر نہیں وہ میرے سامنے آ کر نکھر ہی جائے گا وہ کب کہے گا کہ میں نے لگائی تھی یہ آگ وہ جب بھی سامنا ہوگا مکر ہی جائے گا کھلا ہوا ہے نظر میں گل خیال کوئی خلیلؔ آنکھ جو جھپکی بکھر ہی جائے گا

غزل · Ghazal

ye jo rishta hai meraa miTTi se

یہ جو رشتہ ہے میرا مٹی سے روپ سارا ہے میرا مٹی سے سبزہ کہتا ہے لوٹے جاؤ مجھے دل کشادہ ہے میرا مٹی سے میں ستارا نہیں ہوں سورج ہوں گہرا رشتہ ہے میرا مٹی سے میں تو خود رو درخت ہوں لیکن پیٹ بھرتا ہے میرا مٹی سے مطمئن ہوں کہ فصل اچھی ہے سینہ ٹھنڈا ہے میرا مٹی سے ہر حویلی میں دیپ روشن ہے گاؤں زندہ ہے میرا مٹی سے جو کہوں گا وہ سچ کہوں گا خلیلؔ کیونکہ رشتہ ہے میرا مٹی سے

غزل · Ghazal

main jaisaa bhi huun tere saamne huun

میں جیسا بھی ہوں تیرے سامنے ہوں جو دنیا ہے وہ دے دے سامنے ہوں تری دنیا ہے تو ہر چیز میں ہے جہاں بھی ہوں میں تیرے سامنے ہوں ابھی دن ہے بتا کیا چاہتا ہے ابھی زندہ ہوں تیرے سامنے ہوں فلک کی جگمگاتی چھت ہے سر پر میں حیراں ہوں کہ کس کے سامنے ہوں ہوا چلتی ہے یا گاتا ہے کوئی وہ کون ایسا ہے کس کے سامنے ہوں مجھے تو شرم آتی ہے یہ کہتے میں پیاسا ہوں تمہارے سامنے ہوں

غزل · Ghazal

raat khaDi hai sar pe sunahre diyon kaa thaal liye

رات کھڑی ہے سر پہ سنہرے دیوں کا تھال لیے اے من تو بھی عمر بتا دے نقش خیال لیے لمحے یہ بے رنگ پتنگے کب آتے ہیں ہاتھ سارا سارا دن پھرتا ہے سورج جال لیے پھلجھڑیاں سی چھوٹ رہی ہیں شام کے دامن میں کون کھڑا ہے نارنگی سا چہرہ لال لیے آج سمجھ میں آیا اپنی آنکھوں کا مفہوم ہر انسان ہے صورت پر دو زخم ملال لیے اجلی چاندنی رات سی آنکھیں اجلا دھوپ سا مکھ ہائے رے وہ ہرنی سی لڑکی شوق وصال لیے گھر والوں سے توڑ کے ناتا کس نے پایا مجھ کو کہاں پھرو گے شاعر صاحب دست سوال لیے گلزاروں میں بسنے والے بھکر دیس بھی دیکھ تھل کا ریگستان بھی ہے گدڑی میں لعل لیے آج تلک اس عورت سے آتا ہے خوف خلیلؔ گھر میں اک دن گھس آئی تھی بکھرے بال لیے

غزل · Ghazal

har koi sar uThaa ke chaltaa thaa

ہر کوئی سر اٹھا کے چلتا تھا گھر کی لسی تھی گھر کا آٹا تھا جانے کس بات پر خفا تھا وہ آپ جلتا تھا آپ بجھتا تھا اس کے اندر سے بولتا تھا کوئی جب کبھی موڈ میں وہ ہوتا تھا شاخ سے آم جس طرح ٹپکے اس طرح مجھ پہ جان دیتا تھا اوڑھ لی شال کیوں خموشی کی وہ تو اک گفتگو کا دھارا تھا رات سارا مکان ڈول گیا کیا ہوائی جہاز گزرا تھا کھو گیا تھا وہ گہری سوچوں میں دھوپ کے گھر میں کل اندھیرا تھا چھوڑ دیتے تھے راستہ دریا آدمی کا چراغ جلتا تھا ٹھنڈ تھی ریت کے مکانوں میں ساربانوں سے پیار ملتا تھا پھول کھلتے تھے ریگ زاروں میں ذکر مسجد میں اس کا ہوتا تھا کوئی سبزے کی لہر تھی شاید جس نے آرام سے سلایا تھا اب وہاں اونٹ بلبلاتے ہیں پہلے مرغابیوں کا ڈیرا تھا پیڑ اگتے تھے اپنی مرضی سے کوئی تحصیل تھی نہ تھانہ تھا شہر والے تو پھینک آئے تھے اس کو دریا اٹھائے پھرتا تھا رنگ کروا دیا تھا شیشوں پر روز سورج جو جھانکا کرتا تھا ٹیلی ویژن نوازتا ہے اب پہلے اخبار پر گزارا تھا جب پلٹتا تھا اس کے گھر سے خلیلؔ ایک سایہ سا ساتھ ہوتا تھا

Similar Poets