kashtiyaan mazbut sab bah jaaeingi sailaab mein
kaaghzi ik naav meri zaat ki rah jaaegi

Khalid Suhail
Khalid Suhail
Khalid Suhail
Popular Shayari
2 totalhamaare daur ki taarikiyaan miTaane ko
sahaab-e-dard se khushiyon kaa chaand ubhraa hai
Ghazalغزل
تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی گفتگو اتنی بڑھے گی کچھ کمی رہ جائے گی اپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعد آخری سوغات میری خامشی رہ جائے گی کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میں کاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی حرص کے طوفان میں ڈھہ جائیں گے سارے محل شہر میں درویش کی اک جھونپڑی رہ جائے گی چھوڑ کر مجھ کو چلے جائیں گے سارے آشنا صبح دم بس ایک لڑکی اجنبی رہ جائے گی رات بھر جلتا رہا ہوں میں سہیلؔ اس آس میں میں تو بجھ جاؤں گا لیکن روشنی رہ جائے گی
tujh se sab kuchh kah ke bhi kuchh an-kahi rah jaaegi
ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے وہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں خزاؤں میں جو ڈوبے تھے تو ہم پر بہاروں کے حسیں منظر کھلے ہیں بظاہر وہ بہت ہی کم سخن تھے کتابوں میں مگر جوہر کھلے ہیں جو بالوں میں سفیدی آ گئی ہے تو پھر جا کر کہیں خود پر کھلے ہیں
hamaari zaat ke jab dar khule hain
سجا سجا سا نئے موسموں کا چہرہ ہے خزاں کا حسن بہاروں سے بڑھ کے نکھرا ہے رفاقتوں کے سمندر میں شہر بستے ہیں ہر ایک شخص محبت کا اک جزیرہ ہے سفر نصیب ہوا جب سے شاہراہوں پر تو فاصلوں کا بھی احساس مٹتا جاتا ہے ہمارے دور کی تاریکیاں مٹانے کو سحاب درد سے خوشیوں کا چاند ابھرا ہے
sajaa sajaa saa nae mausamon kaa chehra hai





