main kyuun kahun ki zamaana nahin hai raas mujhe
main dekhtaa huun zamaane ko raas main bhi nahin

Khawar Rizvi
Khawar Rizvi
Khawar Rizvi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
با ہمہ یورش آلام و ستم زندہ ہوں میں مصحف وقت کا اک باب درخشندہ ہوں میں میرے سینے میں دھڑکتا ہے دل عصر رواں اس زمانے کا مفسر ہوں نمائندہ ہوں میں میں کہ حق تھا ہوا ہر دور میں مصلوب مگر کل بھی پائندہ تھا میں آج بھی پائندہ ہوں میں تو تمنائی ہے اک جنت موعودہ کا اپنی گم کی ہوئی فردوس کا جوئندہ ہوں میں میرے زخموں سے ہویدا ہے حنا بندی گل اک نوید چمن آرائی آئندہ ہوں میں مدح خوان شب تاریک مجھے کیا سمجھے صبح گل ریز کے نغموں کا نویسندہ ہوں میں یہ جہاں کیسے فراموش کرے گا مجھ کو اس کے افلاک کا اک خاورؔ تابندہ ہوں میں
baa-hama yurish-e-aalaam-o-sitam zinda huun main
گرتے شیش محل دیکھو گے آج نہیں تو کل دیکھو گے اس دنیا میں نیا تماشا ہر ساعت ہر پل دیکھو گے کس کس تربت پر روؤ گے کس کس کا مقتل دیکھو گے دیر ہے پہلی بوند کی ساری پھر ہر سو جل تھل دیکھو گے ہر ہر زخم شجر سے خاورؔ پھوٹتی اک کونپل دیکھو گے
girte shish-mahal dekhoge
خوابوں کی طلسماتی گپھاؤں سے نکل کے دیکھو کبھی ویرانۂ جاں آنکھ کو مل کے ہر لمحہ ہے اک آئنۂ عمر گذشتہ پیشانیٔ امروز پہ بھی زخم ہیں کل کے طے ہو نہ سکا مرحلۂ دشت تمنا دیوار بنی پاؤں کی زنجیر پگھل کے اک روز تو یہ دل کی تڑپ لب پہ بھی آئے اک روز تو یہ ساغر لبریز بھی چھلکے دیکھا جو کبھی دل کے دریچے میں سمٹ کر صدیاں ملیں سمٹی ہوئی آغوش میں پل کے ہیجان سے ہیں گونجی ہوئی دھیان کی گلیاں دل میں اتر آئے ہیں نگاہوں کے دھندلکے خاورؔ ابھی کچھ یاد کی شمعیں ہیں فروزاں روشن ہیں در و بام ابھی میری غزل کے
khvaabon ki tilsmaati guphaaon se nikal ke
یوں تو ہر چھب وہ نرالی وہ فسوں ساز کہ بس ہائے وہ ایک نگاہ غلط انداز کہ بس دیکھنے والو ذرا رنگ کا پردہ تو ہٹاؤ سینۂ گل پہ ہے زخموں کا وہ انداز کہ بس دل کے داغوں کو چھپایا تو ابھر آئے اور رازداری ہی نے یوں کھول دیئے راز کہ بس ہم نے بخشی ہے زمانے کو نظر اور ہمیں یوں زمانے نے کیا ہے نظر انداز کہ بس رنج و غم عشق و جنوں درد و خلش سوز و فراق ایسے ایسے ملے خاورؔ ہمیں دم ساز کہ بس
yuun tu har chhab vo niraali vo fusun-saaz ki bas
وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں فریب خوردۂ وہم و قیاس میں بھی نہیں فضائے شہر طلب ہے انا گزیدہ بہت ادا شناس رہ التماس میں بھی نہیں میں کیوں کہوں کہ زمانہ نہیں ہے راس مجھے میں دیکھتا ہوں زمانے کو راس میں بھی نہیں وہ فیصلے کی گھڑی تھی کڑی سو بیت گئی بچھڑ کے تجھ سے کچھ ایسا اداس میں بھی نہیں یہ واقعہ کہ تجھے کھل رہی ہے تنہائی یہ حادثہ کہ ترے آس پاس میں بھی نہیں ہوا کرے جو ہے خاورؔ فضا خلاف مرے اسیر حلقۂ خوف و ہراس میں بھی نہیں
vo khud-parast hai aur khud-shanaas main bhi nahin
دل ہی دل میں گھٹ کے رہ جاؤں یہ میری خو نہیں آج اے آشوب دوراں میں نہیں یا تو نہیں سنگ کی صورت پڑا ہوں وقت کی دہلیز پر ٹھوکروں میں زندگی ہے آنکھ میں آنسو نہیں شب غنیمت تھی کہ روشن تھے امیدوں کے خطوط دن کے صحرا میں کوئی تارا کوئی جگنو نہیں چار جانب یہ سجے چہرے ہیں یا کاغذ کے پھول رنگ کے جلوے تو ہیں لیکن کہیں خوشبو نہیں تیری رحمت کا نہیں ہر چند میں منکر مگر سر پہ جو چڑھ کر نہ بولے وہ کوئی جادو نہیں مصلحت ہے جن کا مسلک وہ مرے بھائی کہاں جو نہ اٹھیں میرے دشمن پر مرے بازو نہیں
dil hi dil mein ghuT ke rah jaaun ye meri khu nahin





