ziist kaa ik gunaah kar sake na ham
saans ke vaaste bhi mar sake na ham
Khumar Qureshi
Khumar Qureshi
Khumar Qureshi
Popular Shayari
3 total'khumaar' aise safar mein aankh chhin jaati to achchhaa thaa
kahin shaakhon kaa saudaa aur kahin dekhaa shajar luTtaa
ghazal lutf-o-asar paa kar ba-tarz-e-'mir' raqsaan hai
chalo barpaa karein mahfil chalo dekhein sharar luTtaa
Ghazalغزل
کیا شکوہ کریں تہمت بے بال و پری کا ہر دن ہے شب زلف کی بیداد گری کا رہنے دو ابھی بام پہ کھلتی ہوئی آنکھیں منظر یہ مرے سامنے ہے خوش نظری کا اک ہاتھ بلاوے کے لئے روزن جاں میں اک ہاتھ علامت ہے کسی سبز پری کا احساس پشیمانیٔ احباب نہ پوچھو ہر ایک کو یاں غم ہے فقط بے ہنری کا دیوار و در و سقف و ستوں فرش و دریچہ رشتہ کسی گھر سے نہیں ہوتا سفری کا بستی مرے احباب سے خالی ہے ابھی تک سایہ ہے مری جاں پہ فقط بد نظری کا جادو ہے ترے جسم کے ہر پیچ میں خم میں نشہ ہے رگ و پے میں بھی شوریدہ سری کا چلتے رہے تجھ تک ہی پہنچنے کے لئے سب سب رنگ اڑا جاتا ہے نادیدہ وری کا ان روزوں ہے بدلی ہوئی یہ طبع ہماری اب خشک رہا کرتا ہے موسم بھی تری کا ہم کب سر و سامان سخن سے رہے خالی اک عمر سے یہ شغل رہا درد سری کا
kyaa shikva karein tohmat-e-be-baal-o-pari kaa
بہت ہوا تو مری محبت تری گلی تک سفر کرے گی گلاب جیسی حکایتوں کو ادھر ادھر معتبر کرے گی یہ تیری آنکھوں کی صبح خنداں یہ تیری زلفوں کی شام امکاں بجز قیامت یہ کچھ نہیں ہے تباہ یہ سربسر کرے گی افق افق انتخاب جاناں طرف طرف رنگ و بوئے خوباں اک ایسے عالم میں شب ہماری چراغ لے کر سحر کرے گی ہمیں ہیں واماندۂ دل و جاں ہمیں ہیں تقریب دل کا ساماں ہمارے رستے میں دشت و صحرا کی بے نوائی بھی گھر کرے گی ادھر نشیب عدم سے نکلے ادھر فراز عدم میں ڈوبے ہمیں یہ دنیا فراق دے کر کسے بہشت نظر کرے گی یہ شہر گل برگ کی ہوا بھی ہمارے حق میں سموم ٹھہری غزل ہمیں اتنا یاد رکھنا یہ جتنا صرف نظر کرے گی
bahut huaa to miri mohabbat tiri gali tak safar karegi
سمٹوں کہاں سے سطح پہ دریا رواں نہیں اٹھتا کہاں سے موج میں تاب و تواں نہیں تھمتا نفس نفس کے اشارے قدم قدم دوڑوں میں کیسے پاؤں میں ریگ رواں نہیں پرسان شب ستارے نہیں ہیں سر فلک شوریدہ سر خلاؤں بھرا آسماں نہیں اک رنج بے کنار تموج طلب کہاں اک لطف بے بہا سر دامن گراں نہیں کیا کہئے لمس ہائے خرابی کا انتشار نظروں میں اب زمین نہیں آسماں نہیں عالم پہ لخت لخت پڑے روشنی کا بوجھ آوارہ پا بھی شاکیٔ ظلمت فشاں نہیں پھر دشت لا مکاں میں صدائے جرس کہاں پھر مشت خاک لائق صد امتحاں نہیں
simTun kahaan se sath pe dariyaa ravaan nahin
اندھے رستوں پر پھیلاؤں ہاتھ کہاں میرے نصیبوں میں تاروں کی رات کہاں ڈالی ڈالی جگنو اور شرارے ہیں ریشم کے کیڑے کی یہ اوقات کہاں اس سے ملیں اور سکھ دکھ کی باتیں کر لیں اک طریق پہ رہتے ہیں حالات کہاں رات ہوئی اور نیند جزیرے میں پہنچی بے پتوار کی کشتی میں یہ بات کہاں پچھلا موسم بے ثمری میں بیت گیا اگلی رت میں ہاتھ آئیں گے پات کہاں گھر جیسے پھل پھول کہاں ملتے ہیں خمارؔ گھر سی نعمت ملتی ہے دن رات کہاں
andhe raston par phailaaun haath kahaan
مسمار شبوں کے دکھ اٹھاؤں آنکھوں کے بام و در جلاؤں چہرہ ہے کس کا استعارہ لہجے میں کسی کے دھوپ چھانو آیا ہے شگفت گل کا موسم مہکے گا کم از کم اب کے گاؤں سائے سے لپٹ کے رو پڑا میں ٹوٹے ہیں یہ کس کے ہاتھ پاؤں کل تم نے کہا تھا ساتھ دو گے اس بات کو کیسے بھول جاؤں کھائی ہے ادھر ادھر ہے دلدل کس اور میں اب قدم بڑھاؤں
mismaar shabon ke dukh uThaaun
زیست کا اک گناہ کر سکے نہ ہم سانس کے واسطے بھی مر سکے نہ ہم جانے کس وہم نے قدم پکڑ لئے اس کی دھند سے گزر سکے نہ ہم شہر کی وہ گلی سکوت پا گئی چار چھ دن سے جو گزر سکے نہ ہم گنجلک خواب کا مآل دیکھتے نیند کے غار میں اتر سکے نہ ہم اس طرف بھی کشادہ ہاتھ تھے خمارؔ دشت میں جس طرف بکھر سکے نہ ہم
ziist kaa ik gunaah kar sake na ham





