vo aag bujhi to hamein mausam ne jhinjhoDaa
varna yahi lagtaa thaa ki sardi nahin aai

Khurram Afaq
Khurram Afaq
Khurram Afaq
Popular Shayari
2 totalkaan maanus hote jaaeinge
aur lagegaa ki shor ghaT gayaa hai
Ghazalغزل
بڑی مشکل سے نیچے بیٹھتے ہیں جو تیرے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اکیلے بیٹھنا ہوگا کسی کو اگر ہم تم اکٹھے بیٹھتے ہیں اور اب اٹھنا پڑا نا اگلی صف سے کہا بھی تھا کہ پیچھے بیٹھتے ہیں یہیں پر سلسلہ موقوف کر دو زیادہ تجربے لے بیٹھتے ہیں نگاہیں کیوں نہ ٹھہریں اس پہ آفاقؔ شجر پر ہی پرندے بیٹھتے ہیں
baDi mushkil se niche baiThte hain
جانے کیا آس لگائی ہے سفر سے میں نے ایک تنکا بھی اٹھایا نہیں گھر سے میں نے ورنہ چپ کس سے رہا جاتا ہے اتنا عرصہ تجھ کو دیکھا ہی نہیں ایسی نظر سے میں نے اتر آیا ہے حریفوں کی طرف داری پر وہ جسے سامنے کرنا تھا ادھر سے میں نے یوں نہ کر وصل کے لمحوں کو ہوس سے تعبیر چند پتے ہی تو توڑے ہیں شجر سے میں نے دیکھنی ہو کبھی بے چینی تو ان سے ملنا جن کو روکا ہے تری خیر خبر سے میں نے
jaane kyaa aas lagaai hai safar se main ne
ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اس کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے اس کے یہی نہ ہو کہ توجہ ہٹا لے وہ اپنی زیادہ دیر نہ بچنا نشانے سے اس کے وہ مجھ سے تازہ محبت پہ راضی ہے لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانے سے اس کے وہ تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے اس کے وہ چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں خرمؔ سرک رہا تھا مرا ہاتھ شانے سے اس کے
hamein bhi kaam bahut hai khazaane se us ke
ہر کوئی اپنے گھر پلٹ گیا ہے مسئلہ خیر سے نمٹ گیا ہے کان مانوس ہوتے جائیں گے اور لگے گا کہ شور گھٹ گیا ہے وہ بھی خاموش ہو گیا میں بھی یوں لگا جیسے فون کٹ گیا ہے اک قدم میں نے آگے کیا رکھا دو قدم کوئی پیچھے ہٹ گیا ہے ہاتھ آنکھوں پہ رکھ کے چلتے ہیں راستہ اب تو اتنا رٹ گیا ہے
har koi apne ghar palaT gayaa hai
کسی طرح سنبھل نہیں رہا ہوں میں کہ بہہ رہا ہوں چل نہیں رہا ہوں میں گلے لگا اے موسموں کے دیوتا بدل مجھے بدل نہیں رہا ہوں میں یہ سکھ بھی ہے کہ تیرے طاقچے میں ہوں یہ دکھ بھی ہے کہ جل نہیں رہا ہوں میں سوال پوچھنے لگے ہیں راستے سفر پہ کیوں نکل نہیں رہا ہوں میں طلوع ہو رہا ہوں دوسری طرف اداس مت ہو ڈھل نہیں رہا ہوں میں
kisi tarah sambhal nahin rahaa huun main
اپنا ہوتا نہ کسی چشم دگر میں رہتا اور کچھ روز جو میں تیری نظر میں رہتا فاصلہ دیکھ ذرا رزق و محبت کے بیچ اور خود سوچ کہ کب تک میں سفر میں رہتا کوئی اپنوں کے علاوہ بھی نبھاتا مرا ساتھ کوئی لہروں کے علاوہ بھی بھنور میں رہتا اپنی امید تو سرحد پہ ہی دم توڑ گئی اب وہ ایران میں رہتا کہ قطر میں رہتا اس کے جاتے ہی محبت کو نکالا دل سے ورنہ یہ سانپ بہت دیر کھنڈر میں رہتا
apnaa hotaa na kisi chashm-e-digar mein rahtaa





