naa-muraadi se mire dil ki khalish kam na hui
tishnagi aur baDhi hasrat-e-naakaam ke baad

Khursheed Alig
Khursheed Alig
Khursheed Alig
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
درد اب حد سے گزر کر لا دوا ہونے کو ہے آپ کی الفت میں دیکھیں اور کیا ہونے کو ہے آپ کے ابروئے پر خم کے کرشمے الاماں اک اشارے میں نہ جانے کیا سے کیا ہونے کو ہے بے حیائی دور حاضر کی یہ کہتی ہے مجھے حسن پردے سے نکل کر بد نما ہونے کو ہے تارے ٹکرانے کو ہیں اور زلزلے آنے کو ہیں از زمیں تا آسماں محشر بپا ہونے کو ہے رات دن کٹتی ہے اب عمر عزیز اس فکر میں حشر میں پیش خدا خورشیدؔ کیا ہونے کو ہے
dard ab had se guzar kar laa-davaa hone ko hai
قصہ تباہیوں کا سنایا نہ جائے گا دل میں جو غم چھپا ہے بتایا نہ جائے گا اخلاق سے حسیں کوئی دنیا میں شے نہیں یہ وہ چراغ ہے جو بجھایا نہ جائے گا آزاد اپنے آپ کو سمجھیں گے اس گھڑی جب خون بے بسوں کا بہایا نہ جائے گا ناحق بچھا رہا ہے جہاں سازشوں کا جال اسلام کا وجود مٹایا نہ جائے گا ثابت قدم ہیں آج بھی ہم اپنے قول پر دشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا اس نے وفا کا رنگ کچھ ایسا چڑھا دیا اب دل پہ کوئی رنگ چڑھایا نہ جائے گا ظالم کا ناز اٹھاتے ہیں خورشیدؔ سب مگر مجھ سے کبھی یہ ناز اٹھایا نہ جائے گا
qissa tabaahiyon kaa sunaayaa na jaaegaa
بھری محفل میں ضبط غم با آسانی بھی کرتے ہیں مگر تنہائی میں اشکوں کی ارزانی بھی کرتے ہیں میاں ہم خاکساری میں جواب اپنا نہیں رکھتے ضرورت آ پڑے تو پھر ہمہ دانی بھی کرتے ہیں انہیں مت دیکھیں اہل دل حقارت کی نگاہوں سے فقیران حرم شہروں پہ سلطانی بھی کرتے ہیں شکایت بے سبب کرتے ہیں اپنے گمشدہ دل کی کبھی آپ اپنی چیزوں کی نگہبانی بھی کرتے ہیں کھڑے ہیں سب صف انسانیت میں ہاتھ باندھے پر ذرا سوچیں کبھی کیا کار انسانی بھی کرتے ہیں یہی کاسہ لیے خورشیدؔ جو پھرتے ہیں گلیوں میں یہی جب وقت آ جائے تو من مانی بھی کرتے ہیں
bhari mahfil mein zabt-e-gham baa-aasaani bhi karte hain
کہا نہ کچھ بھی دبا دی گئی مری آواز اڑا نہ تھا کہ شکستہ ہوئے پر پرواز عجیب قید میں دم ہے یہ کیسا جینا ہے کہ زندگی ہوئی جاتی ہے موت کی غماز تڑپ تڑپ کے سر دار مر گیا کوئی حیات کہیے کہ مرنے ہی کا ہے اک انداز جگر کا سوز میسر نہیں تو کچھ بھی نہیں جگر کے سوز سے ساز حیات با آواز کوئی صلیب پہ کیا سوچ کے لٹکتا ہے مسیح وقت سے پوچھے ذرا کوئی یہ راز فراق یار میں ہر لمحہ زندگی ہے عذاب دراز سلسلۂ زیست ہے بہت ہی دراز غم حیات نے شاعر بنا دیا خورشیدؔ وگرنہ میں کہاں اور شاعری کا یہ اعزاز
kahaa na kuchh bhi dabaa di gai miri aavaaz
حسن معصوم نہیں عشق پہ الزام کے بعد آپ کا نام بھی آتا ہے مرے نام کے بعد ہے یہی عالم معراج محبت شاید اب کوئی نام نہیں لب پہ ترے نام کے بعد اب محبت کی تمہیں لاج تو رکھنی ہوگی لوگ لیتے ہیں ترا نام مرے نام کے بعد نا مرادی سے مرے دل کی خلش کم نہ ہوئی تشنگی اور بڑھی حسرت ناکام کے بعد الجھنیں عشق میں کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہیں کبھی آغاز سے پہلے کبھی انجام کے بعد میں خطا وار محبت سہی لیکن اے دوست زندگی اور نکھر آئی اس الزام کے بعد
husn maasum nahin ishq pe ilzaam ke baad
یہ نہ سمجھو غبار ہیں ہم لوگ خوشبوؤں کی قطار ہیں ہم لوگ لوگ ہم کو خزاں سمجھتے ہیں جب کہ تازہ بہار ہیں ہم لوگ یہ شرافت نہیں تو پھر کیا ہے دشمنوں پر نثار ہیں ہم لوگ وہ بھی کانٹوں سے کم نہیں ہیں کچھ جن کی نظروں میں خار ہیں ہم لوگ تھوڑا ہم سے بھی پیار کر لیجے قابل اعتبار ہیں ہم لوگ اپنی حالت سنور نہیں سکتی بزدلی کا شکار ہیں ہم لوگ آج مومن ہیں مائل پستی اس کے خود ذمے دار ہیں ہم لوگ تھے کبھی تاجدار اب خورشیدؔ دامن تار تار ہیں ہم لوگ
ye na samjho ghubaar hain ham log





