roz-o-shab-e-hayaat ke khaanon mein baanT kar
qiston mein khud-kushi ke vasaail hue hain log

Mahboob Anwar
Mahboob Anwar
Mahboob Anwar
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
ہم اپنے سر پہ تو سورج اٹھا کے چلتے ہیں سنا ہے برف کے گھر میں بھی لوگ جلتے ہیں یہ کیسی رت ہے کہ نیزوں پہ سر اچھلتے ہیں ہمارے شہر کے بچوں کے دل دہلتے ہیں جو ریڈیم کے اجالے رخوں پہ ملتے ہیں وہ اپنی ذات سے باہر نہیں نکلتے ہیں وہ ہم کہ خار بھی ہم سے جدا نہیں ہوتے وہ کیسے لوگ ہیں پھولوں کو بھی مسلتے ہیں جو مجھ پہ گزرے ہیں بیتے ہیں جن کو جھیلا ہے وہ حادثے مرے جام غزل میں ڈھلتے ہیں فلک سے آگ برستی تو کوئی بات نہ تھی زمین والے زمیں پر ہی زہر اگلتے ہیں وہ فصل گل نہ سہی یہ خزاں سہی انورؔ کبھی تو کاغذی پھولوں کے دن بدلتے ہیں
ham apne sar pe to suraj uThaa ke chalte hain
صدائے سنگ دامن گیر تھی پل پل بہت رویا گھنی آبادیوں سے لوٹ کر پاگل بہت رویا مرے کھیتوں کو صحرا کر گیا بستی کو ویرانہ مگر دریا پہ جب پہنچا تو یہ بادل بہت رویا مرے کمرے کی تنہائی میں گہری تیرگی پھیلی کسی کی آنکھ کا لگتا ہے پھر کاجل بہت رویا وہ جب بھی رزق کے سورج سے جل بھن کر ہوا واپس تو اس کی بوڑھی ماں کا بیقرار آنچل بہت رویا پھر اب کے اس کی سکھیوں کے گھر آنگن پھول کھل اٹھے پھر اب کے سال اس کی گود کا چاول بہت رویا فقط یہ بات کہ آبادیوں میں سر اچھلتے ہیں درندے بن گئے انسان تو جنگل بہت رویا ہمارے عہد کا گوتم بھی قاتل دوست ہے انورؔ بس اتنی سی خبر پر سایۂ پیپل بہت رویا
sadaa-e-sang daaman-gir thi pal pal bahut royaa
شیشے کا گھر سمجھ کے جو مائل ہوئے ہیں لوگ خود اپنے پتھروں سے ہی گھائل ہوئے ہیں لوگ حل ہو نہیں رہے ہیں ہزاروں نشست میں کچھ اس طرح سے الجھے مسائل ہوئے ہیں لوگ چہروں پہ غم کی سوئیاں چلتی ہیں روز و شب جیسے پرانی گھڑیوں کے ڈائل ہوئے ہیں لوگ آبادیوں کی برف کی سل پر کھڑے ہوئے صحرا کی طرح پیاس کے سائل ہوئے ہیں لوگ روز و شب حیات کے خانوں میں بانٹ کر قسطوں میں خود کشی کے وسائل ہوئے ہیں لوگ انورؔ ابھی تو شہر تعلق کی راہ میں دیوار چین کی طرح حائل ہوئے ہیں لوگ
shishe kaa ghar samajh ke jo maail hue hain log
سنگ و شیشہ در و دیوار کے چہرے دیکھے ہم نے اکثر رسن و دار کے چہرے دیکھے خود ہتھیلی پہ اٹھائے ہوئے اپنے سر کو سر پہ لٹکی ہوئی تلوار کے چہرے دیکھے اپنے بے چہرہ تبسم کو مقید کر کے ہم نے یوسف کے خریدار کے چہرے دیکھے قتل خود کو کئی قسطوں میں کیا ہے ہم نے قاتلوں میں بھی اگر پیار کے چہرے دیکھے ہم نے یادوں کے دوراہے پہ صدا میں گھر کر کبھی دشمن کبھی غم خوار کے چہرے دیکھے تشنگی لب پہ سمیٹے ہوئے صحرا کی طرح ہم نے ساقیٔ طرحدار کے چہرے دیکھے آفتابوں سے بھرے شہر میں کجلائے ہوئے ہم نے پھر صبح کے آثار کے چہرے دیکھے سادے اوراق پہ بکھرا کے خود اپنا ہی وجود ہم نے اپنے دل بے کار کے چہرے دیکھے
sang-o-shisha dar-o-divaar ke chehre dekhe
ملا کے ہونٹوں کے زہراب آبگینوں میں یہ کس نے آگ سی بھر دی ہمارے سینوں میں اب اس کے بعد کوئی چہرہ دیکھنا ہی نہیں ہم اپنی آنکھیں بھی چھوڑ آئے مہ جبینوں میں کسی کی آنکھوں میں جھانکوں تو اپنا عکس ملے اب ایسے لوگ کہاں ہیں تماش بینوں میں انہیں کے تلووں سے کانٹے لہو نصیب ہوئے جو چاند بوتے رہے عمر بھر زمینوں میں حلال رزق کبھی رائیگاں نہیں جاتا کہ چیونٹیاں کبھی لگتیں نہیں پسینوں میں تبسموں سے ہی کام اس کا چل گیا ورنہ چھپا کے لایا تھا خنجر بھی آستینوں میں نہ جانے کون سی کشتی میں جا کے بیٹھ گیا دعائے ماں متلاشی رہی سفینوں میں ان اونچے لوگوں میں انورؔ کبھی نہیں ملتا جو علم و فن ہے چھپا بوریا نشینوں میں
milaa ke honTon ke zahraab aabginon mein
کتنے ارماں کتنی امیدوں کے پیکر لے گیا اب کے پھر سیلاب غم آنکھوں کے منظر لے گیا خامشی اوڑھے ہوئے دیوانہ میرے گاؤں کا چن کے تیرے شہر کا ہر ایک پتھر لے گیا مجھ کو پہلے کوئی پیاسا وادیٔ قطبین کا اپنے کوزے میں سمو کر پھر سمندر لے گیا اب کے میرے قتل کی سازش میں ہے وہ بھی شریک مانگ کر مجھ سے ہی میرا دوست خنجر لے گیا بس اسی اک بات پر روٹھے ہیں ارباب ہنر غم زمانے بھر کا کیوں محبوب انورؔ لے گیا
kitne armaan kitni ummidon ke paikar le gayaa





