SHAWORDS
Mahesh Janib

Mahesh Janib

Mahesh Janib

Mahesh Janib

poet
1Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہو رہا ہے کیا جہاں میں اک نظر مت دیکھیے پہلے پنے پر ہے جو بس وہ خبر مت دیکھیے دنیا کو تبدیل کرنے کے ہیں اس میں خواب بس انقلابی ہوں مرا رخت سفر مت دیکھیے پیار سے بگڑے بھی ہیں کچھ لوگ یہ مانا مگر ہو دوا لازم تو اس کے بد اثر مت دیکھیے کیا اجڑتا جا رہا ہے اس پہ بھی رکھیں نظر صرف بستے اینٹ پتھر کے نگر مت دیکھیے دیکھنا ہے یہ کہ بالکل ٹھیک ہو اپنی دشا کتنی بھی چاہے ہو پر خم رہ گزر مت دیکھیے شرم سے مر جاؤ گے انسان ہیں گر آپ اک کس طرح کرتے ہیں یہ مفلس گزر مت دیکھیے چاہے رک جاؤ کہیں بھی تان دو تنبو کہیں پیچھے مڑ مڑ کر کبھی جانبؔ مگر مت دیکھیے

ho rahaa hai kyaa jahaan mein ik nazar mat dekhiye

غزل · Ghazal

احمق نہیں کہ سمجھیں برا وقت ٹل گیا کچھ روز کے لیے جو یہ موسم بدل گیا یک لخت ہنستے لوگ یہ برہم کیوں ہو گئے شاید مری زبان سے کچھ سچ نکل گیا راضی تھے ہم تو جان بھی دینے کے واسطے کم ظرف لے کے دل ہی ہمارا مچل گیا کیا بولنے کے حک کا اٹھائے گا فائدہ جو بھوک میں زبان ہی اپنی نگل گیا مانگے گا جائیداد میں حصہ یہ ایک روز فی الحال چاہے لے کے کھلونے بہل گیا احسان مند چاہے ہمارا نہ ہو کوئی پر ہم گرے تو سارا زمانہ سنبھل گیا کانٹوں پہ احتیاط سے چلتا تھا آدمی ان چمچماتے فرشوں پہ جانبؔ پھسل گیا

ahmaq nahin ki samjhein buraa vaqt Tal gayaa

غزل · Ghazal

دل ٹوٹنے کا بند یہ رنج و ملال کر اب پھینکنا یہ کانچ کہاں ہے خیال کر مصروف ڈھونڈنے میں ہے کوئی شکار کو بیٹھا ہے کوئی اپنا یہاں جال ڈال کر جس آدمی کو زہر بھی پچتا تھا اے طبیب پینے لگا ہے آج وہ پانی ابال کر ناسور ہو گیا تھا یہ ناقابل رفو دل پھینکنا پڑا ہمیں آخر نکال کر ایمان کو بھی اپنے جہاں سے بچایئے لاکر میں مال و زر ہی نہ رکھئے سنبھال کر گر پوچھنا ہی ہے تو زمانہ کا حال پوچھ بارے پڑوسیوں کے نہ ہم سے سوال کر جانبؔ نصیب والے تو چاہیں گے بس یہی ہو فیصلے جہان میں سکے اچھال کر

dil TuTne kaa band ye ranj-o-malaal kar

غزل · Ghazal

مقرر وقت سے پہلے سمجھ داری نہیں آتی نہ آنی ہو کسی کو گر تو فن کاری نہیں آتی جھکانا سیکھنا پڑتا ہے سر لوگوں کے قدموں میں یوں ہی جمہوریت میں ہاتھ سرداری نہیں آتی چلاتے ہیں اگر تلوار یہ تو کیا تعجب ہے کریں گے اور کیا جن کو قلم‌ کاری نہیں آتی سیاسی آندھیوں سے آگ لگنی غیر ممکن تھی کہیں سے اڑ کے مذہب کی جو چنگاری نہیں آتی کیوں بڑھتی جا رہی ہے بھوک دولت کی زمانہ میں طبیبوں کی سمجھ اک یہ بھی بیماری نہیں آتی سبھی سے ہم ادب سے اور ہنس کے بات کرتے ہیں ہمیں اس سے زیادہ بس اداکاری نہیں آتی بجھانا بھول جائیں کیسے جلتی بتیاں گھر کی ہمارے گھر اے حاکم بجلی سرکاری نہیں آتی تری بیباکیاں جانبؔ یہی تصدیق کرتی ہیں ہر اک انسان کو دنیا میں ہشیاری نہیں آتی

muqarrar vaqt se pahle samajhdaari nahin aati

Similar Poets