"main aa gaya huun vahan tak tiri tamanna men jahan se koi bhi imkan-e-vapsi na rahe"
Mahmood Ghazni
Mahmood Ghazni
Mahmood Ghazni
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalmain aa gayaa huun vahaan tak tiri tamannaa mein
jahaan se koi bhi imkaan-e-vaapsi na rahe
Ghazalغزل
paise hote to tujhe le ke khilaune detaa
پیسے ہوتے تو تجھے لے کے کھلونے دیتا ورنہ کیا میں میرے بچے تجھے رونے دیتا ہونٹ پر رکھتا ہے انگشت شہادت ایسے بات میری وہ مکمل نہیں ہونے دیتا ہے تو مفلس وہ مگر اپنی دوائی سے کبھی خرچ احباب کے پیسے نہیں ہونے دیتا ایسا کرنے کی بھی بخشی نہ اجازت اس نے کم سے کم درد تو شعروں میں سمونے دیتا میرے بیٹے کوئی چارہ ہی نہیں تھا ورنہ اپنے حصے کے تجھے بوجھ نہ ڈھونے دیتا دکھ بھی دیتا ہے تو دیتا ہے قیامت کے مجھے اور مری آنکھ بھی گیلی نہیں ہونے دیتا بیٹیوں کا کبھی گھر بار نہ اجڑے غزنیؔ یہ وہ دکھ ہے جو نہیں باپ کو سونے دیتا
mire gharib se ghar mein tire qadam aae
مرے غریب سے گھر میں ترے قدم آئے وہ چند لمحے تھے جو زندگی میں کم آئے کبھی تو آنکھ میں الفت کی روشنی دیکھوں کبھی تو پیار میں ڈھل کر ترا ستم آئے یہی خیال ہے روز ازل خدا کے حضور تمام لوگ خوشی لے چکے تو ہم آئے کبھی کبھی تو زمانوں کے بعد ملتے ہو ملا کرو کہ ذرا دوستی میں دم آئے یہ سانحہ ہے کہ سادہ تھے جس قدر غزنیؔ رہ حیات میں اتنے ہی پیچ و خم آئے
tiraa khayaal agar juzv-e-zindagi na rahe
ترا خیال اگر جزو زندگی نہ رہے جہاں میں میرے لیے کوئی دل کشی نہ رہے میں آ گیا ہوں وہاں تک تری تمنا میں جہاں سے کوئی بھی امکان واپسی نہ رہے تو ٹھیک کہتا ہے اے دوست ٹھیک کہتا ہے کہ ہم ہی قابل تجدید دوستی نہ رہے حضور یاد ہے میدان حشر کا وعدہ کہیں وہاں بھی مری آنکھ ڈھونڈھتی نہ رہے مرا تو خیر ازل ہی سے غم مقدر ہے تری نگاہ کی پہچان بے رخی نہ رہے تو اس طرح سے لپٹ جا چراغ کی لو سے کہ بعد مرگ یہاں تیری راکھ بھی نہ رہے کسی کے ہجر کا موسم عذاب ہے غزنیؔ کبھی کبھی تو میں کہتا ہوں زندگی نہ رہے





