"aise chhute hain tasavvur men tujhe ham chup-chap jaise phulon ko chhua karti hai shabnam chup-chap"

Majaz Jaipuri
Majaz Jaipuri
Majaz Jaipuri
Sherشعر
aise chhute hain tasavvur men tujhe ham chup-chap
ایسے چھوتے ہیں تصور میں تجھے ہم چپ چاپ جیسے پھولوں کو چھوا کرتی ہے شبنم چپ چاپ
meri ankhen hain tire husn ki goya tasvir
میری آنکھیں ہیں ترے حسن کی گویا تصویر میں نے دیکھا ہے ترے حسن کا عالم چپ چاپ
kab ka guzar chuka hai divangi ka aalam
کب کا گزر چکا ہے دیوانگی کا عالم پھر بھی مجازؔ اپنا دامن رفو کرے ہے
Popular Sher & Shayari
6 total"meri ankhen hain tire husn ki goya tasvir main ne dekha hai tire husn ka aalam chup-chap"
"kab ka guzar chuka hai divangi ka aalam phir bhi 'majaz' apna daman rafu kare hai"
aise chhute hain tasavvur mein tujhe ham chup-chaap
jaise phulon ko chhuaa karti hai shabnam chup-chaap
meri aankhein hain tire husn ki goyaa tasvir
main ne dekhaa hai tire husn kaa aalam chup-chaap
kab kaa guzar chukaa hai divaangi kaa aalam
phir bhi 'majaaz' apnaa daaman rafu kare hai
Ghazalغزل
aise chhute hain tasavvur mein tujhe ham chup-chaap
ایسے چھوتے ہیں تصور میں تجھے ہم چپ چاپ جیسے پھولوں کو چھوا کرتی ہے شبنم چپ چاپ ترک الفت پہ بھی کر جاتے ہیں اکثر گمراہ میرے خوابوں کو ترے گیسوئے پر خم چپ چاپ جیسے کرتی ہی نہیں تنگ ہمیں یہ معصوم کیسے جاتی ہے شب ہجر سحر دم چپ چاپ کوئی ملتا ہی نہیں اس کو سخن کا موضوع بیٹھی رہتی ہے میرے پاس شب غم چپ چاپ شورش وقت نے بخشی نہیں جائے افسوس یعنی کرنا ہی پڑا زیست کا ماتم چپ چاپ موج ہنگام چراغاں ہے نہ وہ رنگ عبیر شوخیٔ عید بھی خاموش محرم چپ چاپ میری آنکھیں ہیں ترے حسن کی گویا تصویر میں نے دیکھا ہے ترے حسن کا عالم چپ چاپ دور ابلیس کے یہ بادہ گساران مجازؔ پیتے رہتے ہیں جہنم کا جہنم چپ چاپ
halqa-e-eatibaar mein kab the
حلقۂ اعتبار میں کب تھے ہم کسی کے شمار میں کب تھے غازۂ پر فریب کیا کرتا آئنے اختیار میں کب تھے سامنا اور ہم فقیروں کا حوصلے شہریار میں کب تھے جشن رخصت ہے شہر میں جن کا وہ امان حصار میں کب تھے دستکیں نا مراد ہی لوٹیں وہ مرے انتظار میں کب تھے بولتی کیوں نہیں یہ زنجیریں یہ قدم کوئے یار میں کب تھے ہم سے شاعر مجازؔ پہلے بھی سر نوشت دیار میں کب تھے
havaa mein tez-ravi hai na josh paani mein
ہوا میں تیز روی ہے نہ جوش پانی میں سکوت مرگ ہے سیلاب کی روانی میں نہ کوئی بات نہ جھگڑا نہ مدعا کوئی جھلس رہا ہے مرا شہر بد گمانی میں بلا سبب نہیں شرح حیات کی سرخی جگر کا خون بھی شامل ہے ترجمانی میں ہوئی تمام چلو زحمت خریداری بلا کا لطف ہے اس دور کی گرانی میں ہوا فقیر تو سدرہ پہ آ گیا آخر بھٹک گئے تھے قدم جس کے حکمرانی میں بوقت نزع نظر آ رہا ہے وہ معبود جو ہم کو یاد نہ آیا بھری جوانی میں مجازؔ جس کی ستائش میں شعر کہتا ہوں بس ایک وہ ہی نہیں ہے مری کہانی میں
kuchh gardish-e-zamaana kuchh aarzu kare hai
کچھ گردش زمانہ کچھ آرزو کرے ہے باقی جو بچ رہے ہے وہ کام تو کرے ہے خون جگر کرے ہے دل کو لہو کرے ہے یہ دور آدمی کو یوں سرخ رو کرے ہے موتی ہے یہ پلک پر رخسار پر ہے شبنم گر کر زمیں پہ آنسو بے آبرو کرے ہے زنداں کی دل شکستہ تنہائیوں میں کوئی دیوار و در سے جانے کیا گفتگو کرے ہے ہر ذرہ میکدہ ہے یہ تشنگی سلامت کیوں ماتم شکست جام و سبو کرے ہے کچھ معتبر نہیں ہے اسود ہو یا کہ مرمر ان پتھروں کے آگے کیا آرزو کرے ہے کب کا گزر چکا ہے دیوانگی کا عالم پھر بھی مجازؔ اپنا دامن رفو کرے ہے





