"ye faiz-e-ishq tha ki hui har khata muaaf vo khush na ho sake to khafa bhi na ho sake"

Makhmoor Jalandhari
Makhmoor Jalandhari
Makhmoor Jalandhari
Sherشعر
ye faiz-e-ishq tha ki hui har khata muaaf
یہ فیض عشق تھا کہ ہوئی ہر خطا معاف وہ خوش نہ ہو سکے تو خفا بھی نہ ہو سکے
go umr bhar na mil sake aapas men ek baar
گو عمر بھر نہ مل سکے آپس میں ایک بار ہم ایک دوسرے سے جدا بھی نہ ہو سکے
maujudgi-e-jannat-o-dozakh se hai ayaan
موجودگئ جنت و دوزخ سے ہے عیاں رحمت ہے ایک بحر مگر بیکراں نہیں
Popular Sher & Shayari
6 total"go umr bhar na mil sake aapas men ek baar ham ek dusre se juda bhi na ho sake"
"maujudgi-e-jannat-o-dozakh se hai ayaan rahmat hai ek bahr magar be-karan nahin"
ye faiz-e-ishq thaa ki hui har khataa muaaf
vo khush na ho sake to khafaa bhi na ho sake
go umr bhar na mil sake aapas mein ek baar
ham ek dusre se judaa bhi na ho sake
maujudgi-e-jannat-o-dozakh se hai ayaan
rahmat hai ek bahr magar be-karaan nahin
Ghazalغزل
ziist ki har rahguzar par hashr barpaa chaahiye
زیست کی ہر رہ گزر پر حشر برپا چاہئے دل میں ہنگامہ نگاہوں میں تماشا چاہئے آنسوؤں میں بھی ترا جلوہ ہویدا چاہئے غم کے طوفانوں میں صرف اتنا سہارا چاہئے شام غم دی ہے تو اک تاباں تصور دے مجھے میں اندھیرا کیا کروں مجھ کو اجالا چاہئے میری ہستی سے برسنے لگ گئی ہیں بجلیاں اب ترے جلووں کے پردے پر بھی پردا چاہئے بے نیازی آج سے کرتے ہیں ہم بھی اختیار ان کے حربے کو انہیں پر آزمانا چاہئے ساتھ ساتھ اس کو لئے پھرتی ہے کیوں تیری تلاش دشت کی تنہائی میں دیوانہ تنہا چاہئے دل پر اس ترتیب سے ہو بارش لطف و کرم سر خوشی کا نقش گہرا غم کا حلقہ چاہئے جذب ہو کر رہ گئی ہیں آشیاں میں بجلیاں اب فلک کو اس کے ہی شعلوں سے پھونکا چاہئے مست ہو سکتا ہے تو مخمورؔ لیکن اس طرح آنکھ میں ساغر لب رنگیں میں صہبا چاہئے
jis ko na dil pe naaz ho naaz tire uThaae kyuun
جس کو نہ دل پہ ناز ہو ناز ترے اٹھائے کیوں اٹھ نہ سکے جو آستاں لے کے وہ سر جھکائے کیوں میں جو ترا حجاب ہوں کس لئے بے نقاب ہوں پردہ ہو جس کا چاک چاک پردے میں منہ چھپائے کیوں وہ جو نہ دل میں بھر سکے نور و ضیا کی بجلیاں پھول میں مسکرائے کیوں ذرے میں جگمگائے کیوں حسن تباہ کار ہے چاہے کسی بھی شے میں ہو ہو نہ فریب اگر حسیں کوئی فریب کھائے کیوں چھایا ہوا ہے جب تمام عالم کائنات پر گوشۂ تنگ و تار میں دل کے وہ پھر سمائے کیوں حشر نئے اٹھائے کیوں حسن کو گر قرار ہو حسن جو بے سکوں نہ ہو فتنے نئے جگائے کیوں اب تو عیاں ہوئے بغیر جانے نہ پاؤ گے کبھی چھپ کے مری نظر سے تم خلوت دل میں آئے کیوں شوق ہو جس کا بے کراں دل سے بھی ہو جو بد گماں اپنی نگاہ کو بھی وہ جلوہ ترا دکھائے کیوں پیر مغاں شجیع ہو ظرف بھی جب وسیع ہو بادہ کش نگاہ مست نشے میں لڑکھڑائے کیوں
mujh se shakeb-e-qalb kaa saamaan na ho sakaa
مجھ سے شکیب قلب کا ساماں نہ ہو سکا اس پر بھی دل کا راز نمایاں نہ ہو سکا یہ دل مٹا مٹا سا یہ شعلہ بجھا بجھا ایک آفتاب سے بھی فروزاں نہ ہو سکا سلجھائے تیری زلف پریشاں کے بل مگر قائم نظام عالم امکاں نہ ہو سکا تجھ کو ترے شباب کو رنگ بقا دیا اپنی ہی زیست کا کوئی ساماں نہ ہو سکا چھڑکی ترے تبسم پنہاں کی چاندنی خلوت کا رنگ پھر بھی درخشاں نہ ہو سکا بیٹھا رہا جو گیسوئے مشکیں کے سائے میں وہ پائمال گردش دوراں نہ ہو سکا آئینہ عکس جلوہ سے ٹوٹا نہیں کبھی دل یورش جمال سے حیراں نہ ہو سکا نشے میں تیرے پاؤں پہ گرتا جبیں کے بل مخمورؔ اتنا کیف بہ داماں نہ ہو سکا
josh ubaltaa hai pighalti hai tamannaa dil mein
جوش ابلتا ہے پگھلتی ہے تمنا دل میں آگ ہی آگ ہے اس سوز سراپا دل میں تیرا جلوہ ہے کہ رنگین سا دھوکا دل میں کبھی ظلمت کبھی پیدا ہے اجالا دل میں اب نہیں تیرے دو عالم کی ضرورت مجھ کو عشق نے تیرے بسا دی نئی دنیا دل میں اپنی آنکھیں تو اٹھا محو شدہ جلوے بھی نظر آئیں گے تجھے انجمن آرا دل میں ناز تھا ان کو کہ ہر قید سے آزاد ہیں وہ میں نے کر ہی لیا پابند تمنا دل میں پھونکتا رہتا ہے کونین کو جن کا پرتو بے ضرر ہے انہیں جلووں کا تماشا دل میں آپ ہی بادہ ہوں میں آپ ہی ساقی مخمورؔ ساغر آنکھوں میں مری اور ہے مینا دل میں
mohabbat be-niyaaz-e-maa-sivaa hai
محبت بے نیاز اسوا ہے بڑے جھگڑوں پہ قابو پا لیا ہے تصور فی الحقیقت معجزہ ہے کسی کا دل پہ سایہ پڑ رہا ہے خدا ہی سے نہ کیوں مانگوں پناہیں کہ ذہن نا خدا میں بھی خدا ہے محافظ بھی مرا مجبور نکلا گنا کرتا ہوں میں وہ دیکھتا ہے سمجھتا ہے تجھے اپنی تجلی ترا پرتو بھی کتنا خود نما ہے خدائے عشق ہے وہ حسن کافر مگر اب تک نہ سمجھا عشق کیا ہے
ham aql pe ulfat mein bharosaa nahin karte
ہم عقل پہ الفت میں بھروسا نہیں کرتے جب کرتے ہیں کچھ کام تو سوچا نہیں کرتے خود جاگتے ہیں رکھتے ہیں تاروں کو بھی بیدار بیکار شب ہجر گزارا نہیں کرتے وہ جن کو یقیں حسن درخشاں پہ ہے اپنے کیوں دل کے اندھیرے میں اجالا نہیں کرتے ہم دیکھتے ہیں روز مہ و مہر کا جلوہ کس روز ترے رخ کا تماشا نہیں کرتے وہ جن کی نگاہوں میں ہے ناموس محبت بے پردہ بھی ہو کوئی تو دیکھا نہیں کرتے غم کیا متحمل جو نہیں میری نظر کے وہ میرے تصور سے تو پردا نہیں کرتے ہیں نام سے مخمورؔ کے مشہور زمانہ گو ہم کبھی شغل مے و مینا نہیں کرتے





