SHAWORDS
Manzar Naqvi

Manzar Naqvi

Manzar Naqvi

Manzar Naqvi

poet
2Shayari
17Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

کچھ بتاؤ تو سہی اب کے تماشا کیا ہے ہونٹ پر تالے لگے سب کے تماشا کیا ہے دل کے اک موڑ پہ رہتا ہے تمنا کا ہجوم جانے والے تو گئے کب کے تماشا کیا ہے ظلم ڈھاؤ یا بنا ڈالو محبت کا سفیر ہم نہیں رہتے کہیں دب کے تماشا کیا ہے جس کی خاموشی سے نکلا ہے سحر کا سورج ہم مسافر ہیں اسی شب کے تماشا کیا ہے رنگ مدھم ہیں مگر پیار کی خوشبو نہ گئی پھول تازہ ہیں تری چھب کے تماشا کیا ہے درد کے ساز پہ ہم نے بھی غزل خوانی کی گیت لکھے ہیں ترے لب کے تماشا کیا ہے تم تو دنیا ہو بدلنا ہے وطیرہ تیرا ہم کہاں بندے تیرے ڈھب کے تماشا کیا ہے صرف تم ہی تو بلندی پہ نہیں ہو تارو ہم بھی منظرؔ ہیں اسی رب کے تماشا کیا ہے

kuchh bataao to sahi ab ke tamaashaa kyaa hai

1 views

غزل · Ghazal

تم تو حسد کی آگ میں پتھر ہی لائے تھے نوحے ہوا کے دوش پہ ہم نے سنائے تھے یہ روشنی جو دیکھتے ہو تم جگہ جگہ ہم نے یہ سب چراغ ہوا میں جلائے تھے جب قافلہ ہمارا ہوا تھا لہو میں تر اس مجمع عدو میں نظر تم بھی آئے تھے جب شام کے غبار میں اجڑا تھا کوئی باغ اجلی سحر کے پھول تھے خوشبو نہائے تھے یہ تازگی کلام کو یوں ہی نہیں ملی دل کے معاملات بھی منظر بنائے تھے

tum to hasad ki aag mein patthar hi laae the

1 views

غزل · Ghazal

نہ کوئی شب بدلتی ہے نہ کوئی دن بدلتا ہے لہو ظلمت میں جب بولے نیا سورج نکلتا ہے کوئی دشت بلا ہو یا کوئی بھی ریگ صحرا ہو جہاں ہم ایڑیاں رگڑیں وہاں چشمہ ابلتا ہے گماں کا زہر پیتے ہو یقیں کا شہد بھی چکھو اسی کے ذائقے سے موت کا نشہ بدلتا ہے اسی کے ساتھ چلتا ہے کوئی امید کا جگنو کہ جس کے دل میں بھی کوئی چراغ عشق جلتا ہے یہ منظر بارہا دیکھا کہ ہر اک وقت کا جابر لہو کی روشنی میں آ کے اپنی آنکھ ملتا ہے

na koi shab badalti hai na koi din badaltaa hai

1 views

غزل · Ghazal

لہو میں تر ہے زمانے کا انتخاب وجود صلیب وقت پہ آیا ہے کامیاب وجود حسد کی آگ میں جلتے رہو تو جلتے رہو چمن کی خاک میں ہوگا مرا گلاب وجود وجود خاک ہی تو خاک کی امانت ہے تمہارا خوف رہے گا مرا حجاب وجود یہ ٹوٹتا نہیں جھکتا نہیں بدلتا نہیں تمہارے سارے سوالوں کا ہے جواب وجود تمہارے دن میں مرا نام ہی تو سورج ہے تمہاری رات میں منظرؔ ہے ماہتاب وجود

lahu mein tar hai zamaane kaa intikhaab vajud

1 views

غزل · Ghazal

سچ کو جھوٹ بنا جاتا ہے بعض اوقات بندہ ٹھوکر کھا جاتا ہے بعض اوقات گھر کی چھت پر رم جھم بارش جلتی دھوپ یہ موسم بھی آ جاتا ہے بعض اوقات اچھی قسمت اچھا موسم اچھے لوگ پھر بھی دل گھبرا جاتا ہے بعض اوقات روزانہ تو رات گئے گھر آتا ہے شام سے پہلے آ جاتا ہے بعض اوقات جیت کے مجھ سے اتنا کیوں اتراتے ہو ہار کے بھی جیتا جاتا ہے بعض اوقات تم نے ناحق رونے کا الزام دیا آنکھ میں پانی آ جاتا ہے بعض اوقات منظرؔ میٹھی باتیں بھی تو کرتا ہے کڑوے بول سنا جاتا ہے بعض اوقات

sach ko jhuuT banaa jaataa hai baaz auqaat

غزل · Ghazal

ہنر وری کو نہ شعلہ نہ راکھ داغ بنا جو دل میں لو ہے اسے شعر میں چراغ بنا وہیں سے عشق مسلسل سے آئے گی خوشبو الگ تھلگ ہی سہی کوئی اپنا باغ بنا پرندے بیٹھے ہوئے تھے شجر کے پہلو میں کہ شور و غل کا سبب ایک غول زاغ بنا بنا رہا ہوں میں اک نقش تیری چاہت کا کبھی تو دل یہ بنا ہے کبھی دماغ بنا اسی کے نام کی تختی نے رہنمائی کی وہی تو گمشدہ منظرؔ کا اک سراغ بنا

hunar-vari ko na shoala na raakh daagh banaa

Similar Poets