"vabasta meri yaad se kuchh talkhiyan bhi thiin achchha kiya ki mujh ko faramosh kar diya"

Meem Hasan Lateefi
Meem Hasan Lateefi
Meem Hasan Lateefi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalvaabasta meri yaad se kuchh talkhiyaan bhi thiin
achchhaa kiyaa ki mujh ko faraamosh kar diyaa
Ghazalغزل
chashm-e-millat mein makin kaun hai aaghaa shorish
چشم ملت میں مکیں کون ہے آغا شورش گوشۂ دل کے قریں کون ہے آغا شورش شعر و انشا کی بہاریں ہیں بہاریں جس سے وہ بہاروں سے حسیں کون ہے آغا شورش جس پہ بے تول خزانے بھی لٹا کے نہ ہوں سیر بے بہا در ثمیں کون ہے آغا شورش جس کی جانکاہیٔ ایثار سے زنداں بھی تھا طور وہ درخشندہ نگیں کون ہے آغا شورش کس کی بے باکی کردار ہے ایماں افروز غیرت دیر نشیں کون ہے آغا شورش جس کو یورپ کا مقامر نہ کبھی جیت سکے نرد ناصید مکیں کون ہے آغا شورش جس جواں فکر کی تقریر سے باطل لرزے وہ جواں عزم و یقیں کون ہے آغا شورش کس کی کرنوں میں نئے سانحے پڑھ سکتے ہیں ہند کی تاب جبیں کون ہے آغا شورش عزم و ایثار کا اک پیکر بیدار و بلند ہمدم زار و حزیں کون ہے آغا شورش پوچھا ساقی سے مئے تند نے مستی چلائی مرد پایندہ تریں کون ہے آغا شورش شورشیں آپ کی ہیں معنیٔ نو سے لبریز امن عالم کا امیں کون ہے آغا شورش
hashr miraa ba-khair ho mujh ko banaa rahe ho tum
حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم خاک میں جان ڈال کر خاک اڑا رہے ہو تم عبرت ذوق زہر خندۂ ذوق زبونی دو چند شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بجھا رہے ہو تم میرے عدم میں بھی بہم تھا ستم ازل کا غم پہلے ہی میں نزار تھا اور ستا رہے ہو تم سوز تو سوز ہے مگر ساز بھی سوز ہو نہ جائے ساز کو آج سوز کے سامنے لا رہے ہو تم درخور سجدہ ہے ابھی اور ابھی ننگ زندگی عشق وفا سرشت کو خوب رلا رہے ہو تم تہمت ہست بھی روا حاصل نیست بھی بجا ہاں مری سر نوشت کے داغ مٹا رہے ہو تم خندۂ زیر لب بھی ہے گریۂ بے سبب بھی ہے بے ہمہ و بہر ادا رنگ جما رہے ہو تم
ghairon kaa to kahnaa kyaa mahram se nahin kahtaa
غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا میں عالم غم اپنا عالم سے نہیں کہتا پڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں دکھ اپنے میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا رہ گیر ہوں میں ایسا ہر غم سے گزرتا ہے دعوت پہ جو رندان خرم سے نہیں کہتا موسم ہمہ گردش ہے پس ماندۂ گردش ہے لب تشنہ کوئی یہ شے کیوں جم سے نہیں کہتا کسب متحرک سے پابستہ نسب طغرے یہ کیا ہے کوئی اہل خاتم سے نہیں کہتا آ داغ محبت کے سانچے میں تجھے ڈھالوں خاتم سے میں کہتا ہوں درہم سے نہیں کہتا کچھ بات تھی کہنے کی کچھ بھول گیا اب میں فطرت سے نہیں کہتا آدم سے نہیں کہتا کہتے تو نہیں باور نا کہئے تو کافر تر کہنے کی قسم مجھ کو میں دم سے نہیں کہتا کہلانے میں خود ان کا کچھ تکملہ نارس ہے الٹے انہیں شکوے ہیں کیوں ہم سے نہیں کہتا ہاں میری یہ الجھن تو ہر دل میں کھٹکتی ہے کچھ مڑ کے کوئی زلف برہم سے نہیں کہتا کیوں ہو نہ جنوں کم گو جب ہوتا ہے یہ زیرک دہرائی ہوئی باتیں محرم سے نہیں کہتا کہنے سے ہوا گہرا کچھ اور غم پنہاں میں سائے سے کہتا ہوں ہمدم سے نہیں کہتا جس لمحے سے دیکھا ہے اک شعر سراپا کو دانستہ کوئی مصرع اس دم سے نہیں کہتا دیتے ہیں وہ محفل میں یوں داد لطیفیؔ کو اشعار یہ کیا اکثر مبہم سے نہیں کہتا
nazdik si shai saaya-e-haail se bahut duur
نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دور منزل ہے شناسائی منزل سے بہت دور دشوار سہی دور نہیں نکتہ رسی سے لیکن ہے غلط رسمیٔ راحل سے بہت دور یہ عین خودی عشق کے آثار میں ہے غم پہلو سے ہے کم دور مقابل سے بہت دور ہر سہل طلب سے تو ہے برگشتہ بدیہہ ہر سائل کامل کے بھی حاصل سے بہت دور قربانیاں کچھ رکھ دے گرو ایسی اٹھے گونج گر پڑ کے جو پہنچے کوئی مشکل سے بہت دور طاری اثر صدمہ کبھی نشۂ تندی خود سنجیٔ حق سیرت زائل سے بہت دور مشاطگیٔ شانہ بہت سلسلۂ جنباں تہہ داریٔ صد زلف اوائل سے بہت دور اک سلسلۂ موجۂ زنجیر شکن سا گھستے ہوئے زنداں سے سلاسل سے بہت دور غلطیدہ و پیچیدہ و آشفتہ سی اک موج ساحل کو لیے زد میں ہے ساحل سے بہت دور صد زاویہ محراب تغیر کم و افزوں ادراک کے بازوئے حمائل سے بہت دور یوں جیسے کہ ہر عصر رواں کے متوازی موسم کی ہر اک شق کے مماثل سے بہت دور پنہاں ابھی کم پوش بھی مبہم ابھی ہر بار پایابیٔ مضراب رگ دل سے بہت دور لاہوت کی اک لہر سوئے کرب دل خاک لایا کوئی جذبہ کسی محفل سے بہت دور آشوب قدح جستہ سوئے گشت پیادہ واماندگیٔ تشنہ و سر جوشیٔ بادہ





