ek tere na hone se mujh par
sau tarah kaa azaab hotaa hai
Meer Shamsuddeen Faiz
Meer Shamsuddeen Faiz
Meer Shamsuddeen Faiz
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
چراغ داغ دل سوختہ جو ہو روشن پتنگ پھر کہیں آنکھوں کو سینکتا نہ پھرے جو ہو طمانچۂ موج نسیم سے آگاہ حباب سر پہ لئے کاسۂ ریا نہ پھرے کلاہ فقر پہ نازاں ہوں میں بدولت عشق سر نیاز پہ میرے کبھی ہما نہ پھرے خیال خواب عدم گر نہ ہو گریباں گیر تو آنکھ موند کے یاں کوئی بلبلہ نہ پھرے نہ ہووے دیدۂ صبح وطن کبھو روشن غبار گور غریباں کبھو اڑا نہ پھرے
charaagh-e-daagh dil-e-sokhta jo ho raushan
ہر برہمن بھی دید کا مشتاق ہے سو ہے اس بت کو پاس خاطر عشاق ہے سو ہے مستور سو حجاب میں اس کا ہے رخ مگر حسن و جمال شہرۂ آفاق ہے سو ہے سو سو طرح کے رنج ہمیں ہجر میں ہیں ایک مشتاق وصل یہ دل مشتاق ہے سو ہے پیش نگاہ مجمع تقلید ہے تو کیا دل کو خیال عالم اطلاق ہے سو ہے
har barhaman bhi diid kaa mushtaaq hai so hai
فدا ہو جس مسیحائے زماں پر دماغ اس کا ہو چوتھے آسماں پر بتو آگے خدا کے بھی تمہارا نہ لائیں گے کبھو شکوہ زباں پر بہار افشاں کی دکھلاوے جو وہ مہ کریں جگ مگ نہ تارے آسماں پر ہوئی مٹی خراب اے فیضؔ اس کی جب آیا کوئی میرے امتحاں پر اسی کے منہ پہ گرتی ہم نے دیکھا اڑائی خاک جس نے آسماں پر
fidaa ho jis masihaa-e-zamaan par
جلوہ دکھلاتی ہے وحشت گردش تقدیر کا شعلۂ جوالہ حلقہ ہے مری زنجیر کا کام معنی سے نہیں صورت پرستی کے سوا خط رخسار بتاں خط ہے مری تقدیر کا عشق میں حد ناتواں ہوں مانی و بہزاد سے اٹھ نہیں سکتا کبھو خاکہ مری تصویر کا فیضؔ وصف مصحف رخسار میں یاں تک ہوں محو ہے مرے دیوان پر دھوکا مجھے تفسیر کا
jalva dikhlaati hai vahshat gardish-e-taqdir kaa
جب سے کسی صنم کا افسانہ جانتے ہیں ہر سنگ و خشت کو ہم بت خانہ جانتے ہیں اے شمع حسن و خوبی دل ہے وہی ہمارا محفل میں آپ جس کو پروانہ جانتے ہیں وہ رشک باغ رضواں جب تک نہ جلوہ گر ہو ہم روضۂ ارم کو ویرانہ جانتے ہیں مرقد پہ کوہ کن کے اے فیضؔ یوں لکھا ہے دیوانے ہیں جو مجھ کو دیوانہ جانتے ہیں
jab se kisi sanam kaa afsaana jaante hain
پیش نظر ہے نزع میں نقشہ نگار کا جلوہ خزاں دکھاتی ہے مجھ کو بہار کا سرمے سے رتبہ کم نہیں اپنے غبار کا ہے سنگ طور سنگ ہماری مزار کا ہے بعد مرگ شوق ہمیں دید یار کا چلمن کا حال ہے کفن تار تار کا تیرہ اقامت اپنی ہو باغ جہاں میں کیا آواز الرحیل ہے نالہ ہزار کا ہے اپنے سوز دل کا دماغ آسمان پر پرتو ہے آفتاب دل داغدار کا اے جان پاک کر نہ تن و توش پر غرور ہے حال جسم پیرہن مستعار کا تیار خاک گور سے ہوتے ہیں جام مے بعد فنا بھی رنج ہے مجھ کو خمار کا
pesh-e-nazar hai nazaa mein naqsha-nigaar kaa





