ik ghaDi zindagi mein aati hai
maut kaa intizaar hotaa hai

Mirza Hasan Nasir
Mirza Hasan Nasir
Mirza Hasan Nasir
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
دیکھیں گے میری آہوں کے اک دن اثر کو آپ آئیں گے لوٹ کر یہیں تھامے جگر کو آپ بھینی سی ایک مد بھری اڑتی سگندھ ہے کھلتے گلاب لاکھ ہیں جائیں جدھر کو آپ جو بھی ملا ہے آپ کا دیوانہ بن گیا لیتے ہیں پل ہی میں چرا دل اور جگر کو آپ بیٹھے ہیں آج کچھ یہاں ناصرؔ رقیب بھی دل کو ذرا سنبھال کے پھینکیں ادھر کو آپ
dekheinge meri aahon ke ik din asar ko aap
کچھ ایسے شب ہجر میں دل میرا جلا ہے روئی ہے شمع ہاتھ پتنگے نے ملا ہے کاٹے نہ کٹے گی مجھے لگتا ہے کچھ ایسا فرقت کی یہ شب ہے یا بری کوئی بلا ہے دکھ درد وہ مفلس کے بھلا دیکھے گا کیسے دولت کی چکا چوند میں دائم جو پلا ہے ہر کوئی کوی چاہ کے بھی بنتا نہیں ہے فطرت ہی میں بستی ہے جو یہ کاویہ کلا ہے کیوں چھوڑ کے نج دیش وطن جائے پرائے ناصرؔ کو وطن اپنا تو جنت سے بھلا ہے
kuchh aise shab-e-hijr mein dil meraa jalaa hai
چوٹ پر چوٹ لگتی جاتی ہے یاد ماضی مجھے ستاتی ہے زندگی تو غموں کا دفتر ہے خواب میں بھی خوشی نہ آتی ہے دوریاں کاش یہ سمٹ جاتیں اب جدائی سہی نہ جاتی ہے ہوں وہ راضی تو باغ باغ ہے دل وہ جو روٹھیں تو جان جاتی ہے جب سے ان سے الجھ گئیں آنکھیں چیز کوئی مجھے نہ بھاتی ہے عمر میری بھی ان کو لگ جائے لب پہ ناصرؔ دعا یہ آتی ہے
choT par choT lagti jaati hai
دل بہت بے قرار ہوتا ہے اس کا جب انتظار ہوتا ہے پیار پہلا ہی پیار ہوتا ہے جو سدا پائیدار ہوتا ہے انگنت آفتاب روشن ہیں پھر بھی کیوں اندھ کار ہوتا ہے اک گھڑی زندگی میں آتی ہے موت کا انتظار ہوتا ہے آج تو بچ گئے مگر دیکھو کون کل کو شکار ہوتا ہے دشمنی دشمنی بڑھاتی ہے پیار کرنے سے پیار ہوتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ناصرؔ اس پہ ہی دل نثار ہوتا ہے
dil bahut be-qaraar hotaa hai
اب وہ راتیں اور وہ باتیں کہاں چوری چوری وہ ملاقاتیں کہاں آتی جاتی ہر برس ہیں آج بھی وہ مگر پہلی سی برساتیں کہاں ہر نظر پر ہارنا دل سو دفعہ ایسی پیاری اب وہ ہیں ماتیں کہاں کوئی اونچا یا کہ نیچا ہے نہیں ہیں بنائی رب نے یہ ذاتیں کہاں ایک دن پوچھو گے تم اس شہر میں کھو گئیں ناصرؔ خراباتیں کہاں
ab vo raatein aur vo baatein kahaan
تم ہمیں کاش مل گئے ہوتے پھول خوشیوں کے کھل گئے ہوتے بات دل کی زبان کہہ دیتی ہونٹ گر یوں نہ سل گئے ہوتے تم اگر بے حجاب ہو جاتے جانے کتنوں کے دل گئے ہوتے ہاتھ دل پر مرے جو رکھ دیتے زخم سینے کے سل گئے ہوتے لوگ کہتے ہیں آج محفل میں کاش ناصرؔ بھی مل گئے ہوتے
tum hamein kaash mil gae hote





