"jis ko tum chaho zaruri nahin vapas chahe ye mohabbat hai newton ka to qanun nahin"

Mirza Raahil
Mirza Raahil
Mirza Raahil
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totaljis ko tum chaaho zaruri nahin vaapas chaahe
ye mohabbat hai newton kaa to qaanun nahin
Ghazalغزل
is se aage jo bachaa kirdaar vo laachaar hai
اس سے آگے جو بچا کردار وہ لاچار ہے ختم ہے جس پر کہانی یہ وہی دیوار ہے وقت پر بس اس لیے لیتا نہیں ہوں میں دوا پوچھ لے وہ کس سے کیسا اب مرا بیمار ہے بھوک غربت سر چھپانے کو جہاں پر گھر نہیں لوگ ایسے کس سے بولیں زندگی دشوار ہے یار بچھڑا ہے مرا کچھ روز پہلے غم میں ہوں ان دنوں میرے لیے دنیا بڑی بے کار ہے ماں سے رو کے کہہ رہی تھی ایک لڑکی رنج میں ماں مجھے جس سے محبت ہے وہی درکار ہے کہہ رہی تھی دوست سے راحلؔ ملے گا ایک دن باپ میرا اس قبیلے کا ابھی سردار ہے
jo hijr main ne sahaa hai us kaa hisaab aataa to mar na jaataa
جو ہجر میں نے سہا ہے اس کا حساب آتا تو مر نہ جاتا یا پھر کبھی جو کہیں اچانک وصال پاتا تو مر نہ جاتا وہ بے وفا تھا مگر وہ احساس جانتا تھا سو چپ رہا میں میں اس کے وعدے اسی کی قسمیں اسے سناتا تو مر نہ جاتا میں چند تصویر خط پرانے لیے ابھی تک تو جی رہا ہوں اگر میں ان کو کبھی جلاتا تمہیں بھلاتا تو مر نہ جاتا وہ اک صحافی جو سچ کو لکھتے نئی حکومت سے ڈر گیا تھا خلاف ہو کر وہی حکومت کو سچ دکھاتا تو مر نہ جاتا وہ ہجر تیرا وہ دن غریبی کے اور لوگوں کا جان کھونا میں ان حوادث سے بچ گیا ہوں جو مرنا آتا تو مر نہ جاتا
milaao us se ke jis kaa usuul ho mujh saa
ملاؤ اس سے کے جس کا اصول ہو مجھ سا اگر نہ ایسا ملے تو جہول ہو مجھ سا سبھی سے مل لو زمانے میں ڈھونڈ لو لیکن نہیں ملے گا چمن میں جو پھول ہو مجھ سا مزاج ملتا نہیں اب کسی سے میرا یہاں خدا نزول کرے جو ملول ہو مجھ سا مجھے گرا کے نظر سے تمہیں لگا ہوگا نہیں ہے کوئی یہاں جو فضول ہو مجھ سا حسین لگتے تھے جن کو نہیں رہے اب وہ نہیں ہے کوئی جسے اب قبول ہو مجھ سا میں جن کو مل نہ سکا ان کے واسطے یہ دعا قبول کر لے خدا اور نزول ہو مجھ سا
kaun aataa hai bulaataa hai chalaa jaataa hai
کون آتا ہے بلاتا ہے چلا جاتا ہے میں ہوں وحشی یہ بتاتا ہے چلا جاتا ہے میرے گاؤں چلا آتا ہے کھلونے والا اور بچوں کو رلاتا ہے چلا جاتا ہے مجھ کو تکلیف وہ دیتا ہے مزے لے لے کر آدھا چہرہ ہی دکھاتا ہے چلا جاتا ہے خواب جب بھی میں ترا دیکھتا ہوں جانے کون مجھ کو آتا ہے جگاتا ہے چلا جاتا ہے اب کسی اور کے حصے میں وہ شامل ہوگی یہ خبر یار سناتا ہے چلا جاتا ہے تیری آواز میں کوئی مجھے اپنا کہہ کے غم کے لمحوں میں ہنساتا ہے چلا جاتا ہے مل کے روتا تھا بچھڑ جانے کا سن کر ہی جو ہاتھ اب مجھ سے چھڑاتا ہے چلا جاتا ہے
DhunD letaa huun vajah koi nibhaane ke liye
ڈھونڈ لیتا ہوں وجہ کوئی نبھانے کے لیے ورنہ باتیں ہیں کئی چھوڑ کے جانے کے لیے تیرے میسج کو سنبھالا ہے بڑی مدت سے دل مچل جائے تو اوقات دکھانے کے لیے وہ جو بے نام سا اک ربط تھا اب ختم کریں خط کے اوراق نکالے ہیں جلانے کے لیے تو یہ سمجھے کہ اثر دل پہ نہیں ہوتا ہے جب کہ پھر موت تو عبرت ہے زمانے کے لیے ہم تھے خوددار سو گمنام رہے ساری عمر لوگ کم ظرف بنے نام کمانے کے لیے جب ترے شہر میں عشاق کا مجمع ہوگا ہم بھی آئیں گے وہاں شعر سنانے کے لیے ٹھوکریں کھا کے جو سجدے میں گرا اتنا کہا معذرت میرے خدا دیر سے آنے کے لیے
mere jazbon ko ravaani se nikal jaanaa hai
میرے جذبوں کو روانی سے نکل جانا ہے کہہ رہے ہیں ہمیں پانی سے نکل جانا ہے بات کرتے ہوئے لہجہ یہ بتاتا ہے ترا ہم کو اک روز کہانی سے نکل جانا ہے اس جنم دن یہ اداسی مجھے کھا جائے گی دو برس باد جوانی سے نکل جانا ہے تیرے ہر تحفے کو کمرے سے جدا کر کے اب تیری ہر ایک نشانی سے نکل جانا ہے آخری اشک تھے تیرے لیے میرے آنسو اب یہ بہتے ہوئے پانی سے نکل جانا ہے یہ عجب ضد ہے عجب طور کی فرمائش ہے رات کو رات کی رانی سے نکل جانا ہے





