garm chaae pi hai teri yaad ki
tishna-lab huun sharbat-e-didaar kaa

Moeen Gauhar
Moeen Gauhar
Moeen Gauhar
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
اس کے گن گانے پہ احساس ہوا عشق ہوا خود پہ اترانے پہ احساس ہوا عشق ہوا کوئی روٹھے بھی تو پرواہ نہیں تھی مجھ کو اس کو منوانے پہ احساس ہوا عشق ہوا عشق ہوتے ہوئے محسوس نہیں ہوتا ہے عشق ہو جانے پہ احساس ہوا عشق ہوا وہ نظر آیا تو پھر نظریں چرا کر اس کو دیکھتے جانے پہ احساس ہوا عشق ہوا اس نے جو بات کہی بات وہ تنہائی میں خود سے دہرانے پہ احساس ہوا عشق ہوا چوٹ جب اس کو لگی خود کو اذیت دے کر چوٹ پہنچانے پہ احساس ہوا عشق ہوا طے شدہ ایک ملاقات کے ٹل جانے سے خوب پچھتانے پہ احساس ہوا عشق ہوا اس کے جاتے ہی مرے گلشن دل کے گوہرؔ پھول مرجھانے پہ احساس ہوا عشق ہوا
us ke gun gaane pe ehsaas huaa 'ishq huaa
کاش اس صدمۂ پیہم کا جنازہ اٹھے ایسا کچھ ہو کہ مرے غم کا جنازہ اٹھے اشک برساؤ مناؤ اسے تاکہ اس سے آتش ہجر کے موسم کا جنازہ اٹھے عالم غم میں بھی عالم کی پڑی ہے مجھ کو چاہتا ہوں غم عالم کا جنازہ اٹھے اس کی خواہش ہے نئے رشتے کو اب دفن کریں یعنی میں تم ہی رہیں ہم کا جنازہ اٹھے آپ مصرع تو اٹھائیں بہت اونچا لیکن ایسے مت گائیں کہ سرگم کا جنازہ اٹھے فکر میت کی تمہیں ہے تو دعا یہ بھی کرو جسم سے پہلے مرے دم کا جنازہ اٹھے صرف الماری سے گھر کی نہیں چلتا گوہرؔ دل سے بھی یادوں کے البم کا جنازہ اٹھے
kaash is sadma-e-paiham kaa janaaza uTThe
اس لیے بھی دکھ نہیں تکرار کا تار اسی نے ہم میں جوڑا پیار کا پھول نے ہی خار بھیجا ہے مجھے غم کا تحفہ ہے دیا غم خوار کا زہر لگتے ہیں تمہارے میٹھے بول قتل کر دے گا یہ لہجہ پیار کا سر پہنچتا ہے ہمارا دار تک سر نہیں جاتا کسی سردار کا گرم چائے پی ہے تیری یاد کی تشنہ لب ہوں شربت دیدار کا چھٹی لے لی ہے تمہارے واسطے کون دیکھے راستہ اتوار کا گوہرؔ اس کا یوم پیدائش ہے یہ یہ جو نمبر ہے ہماری کار کا
is liye bhi dukh nahin takraar kaa
سب لوگ ہنس رہے ہیں کے الٹا پہن لیا ماں باپ اس پہ خوش ہیں کہ جوتا پہن لیا میں نے وہ دن بھی دیکھے ہو اچھا اگر لباس کچھ یار پوچھتے تھے یہ کس کا پہن لیا آنکھوں سے بہتا چشمہ دکھائی نہ دے تمہیں یہ سوچ کر ہی آنکھوں پہ چشمہ پہن لیا حیرت یہ ہے کہ اس کو نظر اس لیے لگی یارو لباس اس نے نے جو کالا پہن لیا عزت اتار دی گئی جب اک شریف کی مجبور ہو کے اس نے بھی غصہ پہن لیا بیدلؔ تمہاری طرز پہ گوہرؔ نے دیکھیے کیسے پہن لیا کو دوبارہ پہن لیا
sab log hans rahe hain ke ulTaa pahan liyaa
کچھ فائدہ تو ہے نہیں کر کے شدید جنگ کتنے ہی بے گناہ کرے گی شہید جنگ معصوم اور نہتوں پہ حملہ اگر ہوا پھر دیکھ لیجئے گا بڑھے گی مزید جنگ خوشیوں کے بن ہی آئیں گے تہوار اگلے سال دیوالی ہونے دے گی کہیں اور نہ عید جنگ میزائیل اور بم سے ہیں چھلنی کئی بدن لاشوں کو کتنا رکھتی ہے محروم دید جنگ بے چینیوں کا ہوتا ہے ماحول ہر طرف کرتی ہے یوں بھی امن کی مٹی پلید جنگ ہوتی اسی سے پہلے جو آتا تھا روبرو اب بے خبر ہیں زد میں تری اے جدید جنگ زخمی بدن شکستہ دکان و مکاں بھی ہیں کتنے غموں کی ہاتھ میں دے گی رسید جنگ معیار جنگ گر گیا تلوار کے بغیر میزائلوں کی جب سے ہوئی ہے مرید جنگ محفوظ بچے عورتیں رہتے تھے ہر طرف بہتر قدیم والی تھی تجھ سے جدید جنگ ہر جنگ نے سکھایا ہے گوہرؔ یہی سبق ہوتی نہیں کسی کے لئے بھی مفید جنگ
kuchh faaeda to hai nahin kar ke shadid jang
تیرے آنے کی بہت دھوم مچی ہے بارش کہیں الجھن کہیں لوگوں میں خوشی ہے بارش اس کے بن زخم ہر اک بوند سے پایا میں نے جیسے پانی نہیں پتھر کی ہوئی ہے بارش میرے محبوب کو محبوب یہی موسم ہے اس لئے بھی مجھے محبوب رہی ہے بارش ہے مری جان مزاج آپ کا موسم کی طرح کبھی سردی کبھی گرمی تو کبھی ہے بارش ان کو حالات نے مجبور کیا کہنے پر کچے گھر والے جو کہتے ہیں بری ہے بارش کاش وہ تیری طرح لوٹ کے آ جائے کبھی جس طرح لوٹ کے تو آنے لگی ہے بارش تیرے آنے سے ہی پہچان ملی ہے اس کو پھر سے لگنے لگا بستی میں ندی ہے بارش یوں کیا ہم کو بھی حالات کے طوفاں نے جدا جس طرح تجھ کو ہوا لے کے اڑی ہے بارش گمشدہ بچے کے ملنے کی خوشی کی مانند اب کسانوں کو خبر تیری ملی ہے بارش تیرے آنے سے ہے امکان کہ دھل جائے غبار کئی رشتوں پہ یہاں دھول جمی ہے بارش اس کی یادوں کی گھٹا چھائی تو گوہرؔ برسے یعنی اشعار کی پھر مجھ پہ ہوئی ہے بارش
tere aane ki bahut dhuum machi hai baarish





