duhaai de ke vo jamhuriyat ki
nizaam-e-khvaab rusvaa kar rahaa hai

Mohammad Azhar Shams
Mohammad Azhar Shams
Mohammad Azhar Shams
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
شاخ گلشن پہ تھا جو ٹھکانہ گیا اس پرندے کا تو آب و دانہ گیا آندھیوں کی ہے زد پر گھروندے یہاں یعنی ہمدردیوں کا زمانہ گیا زرد موسم کی آمد نے بدلا سماں سبزۂ گلستاں کا زمانہ گیا میری حسرت نے اوڑھی جو لفظی قبا میرے خاموش لب کا ترانہ گیا شمع بزم طرب رات تنہا رہی کوئی پروانہ آخر کیوں آ نہ گیا یوں ہوئی شاخ سے ہجرت طائراں مرثیہ رہ گیا چہچہانا گیا یوں نہ کمزور رشتے کی بنیاد تھی آتے جاتے یوں ہی آنا جانا گیا
shaakh-e-gulshan pe thaa jo Thikaana gayaa
قاتل ہے جو میرا وہی اپنا سا لگے ہے دنیا سے جدا ہو کے وہ دنیا سا لگے ہے ہر شام مرے دل میں ہے یادوں سے چراغاں ہر شام مری پلکوں پہ میلا سا لگے ہے کس حال پہ چھوڑے ہے مجھے گردش ایام سبزہ بھی جہاں دیکھے ہوں صحرا سا لگے ہے باطل کے جلائے ہوے دیپک کا ہے چرچا جو سچ کا ہے سورج وہ تماشا سا لگے ہے ساون کی بہاروں سا وہی حسن کا پیکر کہنے کو ہے بیگانہ پر اپنا سا لگے ہے
qaatil hai jo meraa vahi apnaa saa lage hai
کل آج سے بہتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں منصور و مظفر ہو آؤ یہ دعا مانگیں دنیا کی فصیلوں پر ہوں امن کی رعنائی نے خون نہ خنجر ہو آؤ یہ دعا مانگیں ہیں چاہ میں اقرا کی اس علم دو عالم میں ہر قطرہ سمندر ہو آؤ یہ دعا مانگیں جو تفرقہ ہم میں ہے نشتر کے مماثل ہے اب دور یہ نشتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں چھوٹا نہ بڑا کوئی بندے ہیں سبھی رب کے عالی نہ ہو کمتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں صالح تھا عمل جب تک سردار رہے ہم ہی پھر ہم میں عمل گر ہو آؤ یہ دعا مانگیں
kal aaj se behtar ho aao ye duaa maangein
تجلیوں سے اندھیروں کی جنگ جاری ہے اجالے سرخ رو ہوں یہ دعا ہماری ہے جہاں پہ کل تھا گلستاں وہ آج مقتل ہے فلک خموش ہے پھر دیکھیں کس کی باری ہے سر نیاز جھکانا محبتیں دینا یہ بزدلی نہیں دراصل خاکساری ہے رہ جمود سے نفرت اڑان کی خواہش حقیقتاً یہ ضرورت ہے جاں نثاری ہے یہ گلستاں ہے ہماری ریاضتوں کا ثمر اسے سنوارنے میں سب کی حصہ داری ہے
tajalliyon se andheron ki jang jaari hai
میں دور ہو کے بھی اس سے جدا نہیں ہوتا ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہیں ہوتا بغیر اس کے ہو احساس زندگی کا سفر یہ سوچتا تو ہوں پر حوصلہ نہیں ہوتا وہ اس طرح سے مری زندگی کا حصہ ہے اس ایک حس کا بدل دوسرا نہیں ہوتا کیا ہے گردش حالات نے مجھے مجبور وگرنہ ظرف چھلکتا صدا نہیں ہوتا یہ سب ہے سحر اسی نرگسی نگاہی کا مجھے تھا فخر کبھی کہ نشہ نہیں ہوتا نہ جمع کرتے جو لکڑی سیاستوں کے گروہ دھواں تو شہر سے ہرگز اٹھا نہیں ہوتا
main duur ho ke bhi us se judaa nahin hotaa
دور بیٹھے ہیں کیوں پاس تو آئیے وقت رکتا نہیں یوں نہ شرمائیے زینۂ عشق بھی زینت بیت بھی دل میں رکھیے قدم دل میں بس جائیے چار سو ہے گھٹا ہے قیامت بپا زلف بہر کرم یوں نہ بکھرائیے چاند تو ہے حسیں آپ سا تو نہیں بات سچ ہے یہی مان بھی جائیے میں ہوں بسمل نظر آپ کو ہے خبر مر نہ جاؤں کہیں اب نہ تڑپائیے آپ ہی کا تو نقش قدم چاند ہے چاندنی بن کے آنگن میں چھا جائیے
duur baiThe hain kyuun paas to aaiye





