"tumhari yaad bhi chupke se aa ke baiTh ga.i ghazal jo 'mir' ki ik gunguna raha tha main"

Mohsin Aftab Kelapuri
Mohsin Aftab Kelapuri
Mohsin Aftab Kelapuri
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totaltumhaari yaad bhi chupke se aa ke baiTh gai
ghazal jo 'mir' ki ik gungunaa rahaa thaa main
Ghazalغزل
dard degi khuun ke aansu rulaaegi mujhe
درد دے گی خون کے آنسو رلائے گی مجھے زندگی تو اور کس حد تک ستائے گی مجھے بھوک سے بے حال میں بھی ایک دن ہو جاؤں گا ایک دن یہ بے بسی در در پھرائے گی مجھے میں چلا جاؤں گا جس دن آسمانوں کی طرف دیکھنا رو رو کے یہ دنیا بلائے گی مجھے اک یہی تو بات اس کی ہے مجھے بے حد پسند روٹھ جاؤں میں تو وہ آ کر منائے گی مجھے کچھ دنوں کے بعد میں بھی خاک میں مل جاؤں گا کچھ دنوں کے بعد تو بھی بھول جائے گی مجھے
meri fariyaad suno aao bachaa lo mujh ko
میری فریاد سنو آؤ بچا لو مجھ کو اپنے اندر ہی پھنسا ہوں میں نکالو مجھ کو حق بیانی ہے اگر جرم تو پھر اے لوگوں قتل کر دو مرا نیزوں پہ اچھالو مجھ کو دے رہا ہوں میں یہ تکلیف تمہیں آخری بار اپنے کاندھوں پہ مرے بچوں اٹھا لو مجھ کو سب کو حاصل نہیں ہوتا ہوں میں آسانی سے مجھ سے ملنے کی ہے خواہش تو کھنگالو مجھ کو میری تہذیب یہ کہتی ہے مجھے رو رو کر میں ہوں گرتی ہوئی دیوار سنبھالو مجھ کو
dhire dhire qabr ke andar talak pahunchaaegi
دھیرے دھیرے قبر کے اندر تلک پہنچائے گی ایک دن مجھ کو مری یہ حسرتیں کھا جائیں گی بول کالر چھوڑ دیں میرے چراغوں کی اے رات ورنہ جو پاگل ہوائیں ہیں تری پچھتائیں گی آؤ اپنے مسئلوں کو خود ہی سلجھاتے ہیں ہم یہ سیاسی پارٹیاں اور ہمیں الجھائیں گی بیٹیوں کو سانس لینے دو کھلے ماحول میں ورنہ یہ بیچاریاں گھٹ گھٹ کے ہی مر جائیں گی زندگانی سے ہیں جو شکوے گلے مٹ جائیں گے رحمتیں اللہ کی جب نور سے نہلائیں گی اپنی خودداری کو بھی نیلام میں نے کر دیا مجھ سے یہ مجبوریاں اب اور کیا کروائیں گی
nazar ko bhaae jo manzar pahan ke niklaa hai
نظر کو بھائے جو منظر پہن کے نکلا ہے دھنک وہ اپنے بدن پر پہن کے نکلا ہے میں آئنہ ہوں مگر پتھروں سے کہہ دینا اک آئنہ ہے جو پتھر پہن کے نکلا ہے وہ اپنی آنکھ کی عریانیت چھپانے کو حیا کی آنکھ پہ چادر پہن کے نکلا ہے چھپا کے رکھتا تو تو بھی ہوس سے بچ جاتا مگر تو حسن کا زیور پہن کے نکلا ہے زمانہ اس کو کبھی بھی ڈرا نہیں سکتا خدا کا خوف جو دل پر پہن کے نکلا ہے کلاہ سر پہ نہیں منصف زمانہ کے وہ اپنے سر پہ مرا سر پہن کے نکلا ہے
muddat se jo band paDaa thaa aaj vo kamra khol diyaa
مدت سے جو بند پڑا تھا آج وہ کمرہ کھول دیا میں نے تیرے سامنے دل کا کچا چٹھا کھول دیا مجھ سے لڑنے والے سارے میداں چھوڑ کے بھاگ گئے لے کر اک تلوار جو میں نے اپنا سینہ کھول دیا پھول سمجھ کر تتلی بھونرے اوس پہ آ کر بیٹھ گئے باغ میں جا کر جوں ہی اس نے اپنا چہرہ کھول دیا سارے کاموں کو نپٹا کر آدھی رات میں سوئی تھی بھور بھئے پھر اٹھ کر اما نے دروازہ کھول دیا مجھ کو دیکھ کے میرا جملہ جوں ہی اس کو یاد آیا اس نے جو باندھا تھا وہ بالوں کا جوڑا کھول دیا
taan kar siine ko chalne hi nahin deti mujhe
تان کر سینے کو چلنے ہی نہیں دیتی مجھے بزدلی گھر سے نکلنے ہی نہیں دیتی مجھے کوششیں اپنی طرف سے کر کے میں نے دیکھ لیں زندگی لیکن سنبھلنے ہی نہیں دیتی مجھے ہونٹ پر تالے لگا کر چھین لیتی ہے قلم زہر دل دنیا اگلنے ہی نہیں دیتی مجھے سوچتا ہوں میں بھی ہو جاؤں زمانے کی طرح پر مری فطرت بدلنے ہی نہیں دیتی مجھے میرے سینے میں جو پتھر ہے پگھل جاتا مگر جو انا مجھ میں ہے جلنے ہی نہیں دیتی مجھے





