SHAWORDS
Mohsin Khan Mohsin

Mohsin Khan Mohsin

Mohsin Khan Mohsin

Mohsin Khan Mohsin

poet
1Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

جوں کلی وہ کھل گئیں بخت‌ سکندر دیکھ کر آپ کی تصویر کو آئیں نہ اندر دیکھ کر ساری باہر والیاں آئیں نہ اندر دیکھ کر آئنہ خانے میں تجھ کو اے سکندر دیکھ کر پھولے پھولے پر کا پنچھی شاخ گل پر دیکھ کر نامہ لایا ہوگا میں سمجھی کبوتر دیکھ کر خاطر حسن گل تر آگے جانا ہے عبث جانب بلیا بوا گلہائے بکسر دیکھ کر کیا کہوں کیوں ہو گئی میں کشتۂ تیر نگاہ رحم کی خو آپ میں مہر منور دیکھ کر ہم نے جانا آ گئیں ہمجولیٔ پردہ نشیں سر سے پا تک زیر چادر تم کو گوہر دیکھ کر یا کلائی دیکھتے تھے یا دلائی اوڑھ لی پاؤں پھیلانے لگے تیار بستر دیکھ کر روٹی کپڑے کو بھی اب بیگم بوا محتاج ہے آ گئی تھی چال میں ڈپٹی کلکٹر دیکھ کر موہنی تھی یا کہ رخ میں دیکھ کر بت ہو گئی آپ کو مندر کے اندر شام سندر دیکھ کر کس طرح باجی نہ مانو حیف اپنی آنکھ سے لونڈی میخانے میں آئی ان کو اکثر دیکھ کر کیا کہوں کیا کیا نہ مچلے آج لینے کے لئے وہ سنہری گوٹ والی اودی چادر دیکھ کر روٹی کپڑا دو اسے گھر میں بھی رکھو سوت کو اب کہاں جائے نگوڑی آپ کا در دیکھ کر اس کو رکھا اس کو چھوڑا ہے نگوڑا بے وفا چھوٹتے ہی اور کر لی مجھ سے بہتر دیکھ کر میری عنقاؔ کا ہے باجی وہ کلام دل ربا مست ہو ہو جاتے ہیں جس کو سخنور دیکھ کر

juun kali vo khil gaiin bakht-e-sikandar dekh kar

غزل · Ghazal

ذرا دیکھیے قبلہ چلمن الٹ ہیں مشتاق در پر کھڑے ٹھٹ کے ٹھٹ لگائی جو بوسہ کی مرزا نے رٹ کہا باجی نے دت نہ موئے دور ہٹ بلا سے کسی کو کرو چت کہ پٹ دلا دو مجھے لکھنؤ کا ٹکٹ کہیں شب جو دلہن سے کھٹ پٹ ہوئی کھٹا کھٹ موئے نے دئے توڑ پٹ بجاتا ہے ڈھولک موا رات بھر یہ بھڑوا کوئی بھانڈ ہے یا کہ نٹ کریں گر طوائف سے سٹ پٹ میاں کچہری میں جا کر میں بولوں رپٹ میں کٹ کٹ گئی بیگموں میں بوا وہ پیتے ہی غٹ غٹ گئے جو لپٹ ترقی ہو امسال دولہا کی پھر ریاست کا گر دے اجازت بجٹ ہے شیر خدا کا جو آنکھوں میں نور پلک مار کر شیر کو دے پلٹ چھنالوں کی جاکٹ میں پاکٹ لگیں یہاں روئیں کرتی کو گر جائے پھٹ یہ کروٹ کی آہٹ بلا ہے بوا چھپر کھٹ پہ کرتے ہیں کایا پلٹ سٹاسٹ وہ مارا کریں جان جائے مری بھی یہ ضد ہے نہ چھوڑوں گی ہٹ وہ بھڑوا سر بزم کٹ کٹ گیا رکھا عنقاؔ بیگم سے جس نے کپٹ

zaraa dekhiye qibla chilman ulaT

غزل · Ghazal

نہ ہم پیالہ شراب میں ہم نہ ہم نوالا کباب میں ہم ہیں پیاری گوئیاں عتاب میں ہم عذاب میں ہم عذاب میں ہم شراب میں وہ حجاب میں ہم شباب میں وہ شباب میں ہم تھے دونوں حیراں حساب میں ہم سوال میں وہ جواب میں ہم مزے اڑاتے ہیں بالا بالا ہے کٹنا لالہ کتاب والا بتاتے ہم کو نہ ٹالا بالا جو ہوتے کچھ بھی حساب میں ہم نظیر ہوتی اگر نہ پیاری تو ہم بھی ہوتے نہ اس پہ واری نہ آتی گر وہ نگوڑ ماری تو دیکھا کرتے تھے خواب میں ہم جو حسن گوہر نکھار پر ہے تو بندی بے ڈھب ابھار پر ہے اگر وہ موتی بہار پر ہے ہیں رشک در آب و تاب میں ہم بلا سے اب کچھ ہو یا کہ جب کچھ سنا کریں گے حضور سب کچھ نہ اس سے آگے کہیں گے اب کچھ تمہاری لونڈی کے باب میں ہم نہ بھول جانا لجا کے عنقاؔ ہم آئیں گے دس بجا کے عنقاؔ نہ چھوڑنا گھر بلا کے عنقاؔ جو آ بھی جائیں شتاب میں ہم

na ham-piyaala sharaab mein ham na ham-nivaala kabaab mein ham

غزل · Ghazal

آیا کئے وہ بہر ملاقات چند روز پر نائکہ سے ہو نہ سکی بات چند روز کیا کیا ہوئیں نہ ان کی عنایات چند روز کی جن سے ہم نے ترک ملاقات چند روز فصل بہار کی بھی ہے اوقات چند روز بلبل نہ پھول ہے یہ کرامات چند روز ممکن نہیں کہ سوت کا جھگڑا مٹے کہیں ٹل جائے اپنے سر سے وہ آفات چند روز ہر چند ہو گیا موا قائل ہزار میں باز آیا اس پہ بھی نہ وہ بد ذات چند روز شکر خدا کہ ایک بھی بھاری پڑی انہیں لاتے تھے چار چار جو ہیہات چند روز مطلب یہ تھا کہ چال میں آ جائے چھوکری سمجھی نہ بات کی بوا میں گھات چند روز ساون ہے جھولے ڈال کے گاؤ سہیلیو دو دن کا ابر ہے اری برسات چند روز ہے چار دن کی زندگی یہ بات پھر کہاں کر لو بوا جی حرف و حکایات چند روز دیکھیں وفا نکاحی میں ہے یا متاعی میں لیں امتحان قبلۂ حاجات چند روز عنقاؔ تمہاری آ گئیں محسنؔ سرور میں اب تم بھی کر دو بزم کو برخاست چند روز

aaya kiye vo bahr-e-mulaaqaat chand roz

غزل · Ghazal

چمن میں جا جا کے رنڈیوں کو پلاؤ گے یوں شراب کب تک کباب کھا کھا کے سوت کے تم کرو گے ہم کو کباب کب تک اجی وہ بالا نہ لاؤ گے تم یہ ٹالا کب تک بناؤ گے تم کبھی تو کمرے پہ آؤ گے تم کرو گے لالہ حجاب کب تک موے نے میری نہ ایک مانی وہی ہے گوہر پہ مہربانی خدا ہی جانے کہ مجھ پہ جانی رہے گا اب یہ عتاب کب تک ہوئی عدم کو بوا تیاری یہ صاف کہتی ہے بے قراری کروں کہاں تک میں آہ و زاری وہ لکھیں خط کا جواب کب تک ہوئی ہے اس دن سے ان کو نفرت بڑھائی رنڈی سے جب سے الفت یہی ہے گوئیاں مجھے بھی حیرت رہوں گی زیر عتاب کب تک ظہور پیری کرے گی صاحب کوئی نہ یوں پھر مرے گی صاحب جوانی کب تک رہے گی صاحب رہے گا دور شباب کب تک وہ سبزی منڈی میں ہے جو رنڈی موئی کو دے دے ہے سو کی بنڈی رقم ہو سو سو کی یوں جو ٹھنڈی چلے گا گھر کا حساب کب تک موا نشہ میں یہ بے خبر ہے ہیں پاؤں پٹی پہ نیچے سر ہے نہ روٹی کپڑا نہ گھر نہ در ہے پھروں میں در در خراب کب تک اسی سے گھل گھل گئی ہے بیگم ہے ننھی سی جاں پہ کوہ سا غم نگوڑی کسبی پہ قبلہ عالم رہیں گے شیدا جناب کب تک ہیں شہرے باجی ہماری گت کے جگت شرارت چکت چپت کے یہ راگ سن سن نئی گھڑت کے نہ لیں گے کروٹ نواب کب تک لگا کے پھولو نہ جنگلا دولہا کوئی بنائے نہ کنگلا دولہا ہے نقش بر آب بنگلہ دولہا رہے گا مثل حباب کب تک اتار سر سے کلاہ تتری پڑھیں جو آل نبی کی پتری بنے بوا جی نہ سر کی چھتری وہ سایۂ بو تراب کب تک چلے گی پیری میں کچھ نہ بڑبڑ نکال دیں گی چھنالیں لڑ لڑ گریں گے آخر موے وہ جھڑ جھڑ کرو گے مرزا خضاب کب تک نہیں رقیبوں سے وہ بھی کچھ کم یہ قسمیں کھا کھا کے کہتے ہیں ہم تمہارے محسنؔ سے عنقاؔ بیگم نہ ہوں گے وہ لا جواب کب تک

chaman mein jaa-jaa ke ranDiyon ko pilaaoge yuun sharaab kab tak

غزل · Ghazal

ابر اٹھا ہے گرے قطرۂ باراں سر پر گوئیاں ہشیار کہ ہے عیش کا ساماں سر پر کرتے کیا کیا نہیں وہ رنج کے ساماں سر پر رکھتے لا لا ہیں بوا روز مغل جاں سر پر اب نہ جائیں گے چھنالوں کی گلی میں مرزا قسمیں کھاتے ہیں بوا رکھتے ہیں قرآں سر پر حسرت دید ہے جاں تن سے نہ نکلے گی بوا کیوں فرشتے ہیں لیے موت کا چالاں سر پر بگڑے تیور ہیں الجھتے ہیں خفا ہوتے ہیں شیخ جی کے ہے بوا آج بھی شیطاں سر پر ساتھ رنڈی کے چلے مرزا جی کس شان کے ساتھ دہنا بغلوں میں دبائے ہوئے بایاں سر پر چٹکیاں صاف کہے دیتی ہیں دل کی ہم سے پیر و مرشد ہے وہی آج بھی شیطاں سر پر اب فرنگی ہیں بوا تخت پہ ہم باج گزار کبھی رکھتے تھے یہاں تاج مسلماں سر پر

abr uTThaa hai gire qatra-e-baaraan sir par

Similar Poets