tiraa karam hai jo saaya-fagan to kyaa gham hai
hazaar baar mire sar se aasmaan guzre

Mubarak Mungeri
Mubarak Mungeri
Mubarak Mungeri
Popular Shayari
2 totaljo kam-nigaah the vahi ahl-e-nazar bane
ham ko hamaare dida-e-binaa se kyaa milaa
Ghazalغزل
جادۂ محبت میں رہ گئے تھے ہم تنہا ورنہ کیا مٹا سکتا زندگی کا غم تنہا سہہ رہے ہیں ہم دونوں ہجر کا الم تنہا اس طرف ہیں وہ تنہا اس طرف ہیں ہم تنہا کیا ملا مٹا کر ہم تیرگی کے ماروں کو اب سنوارئیے اپنی زلف خم بہ خم تنہا ہم سفر نہ بننا تھا ساتھ چھوڑنے والے اب چلا نہیں جاتا ہم سے دو قدم تنہا
jaada-e-mohabbat mein rah gae the ham tanhaa
محرومیوں کا دل پر اتنا ہے کچھ اثر سا چاہت کے نام سے بھی لگنے لگا ہے ڈر سا اک آہ میں ڈھلی ہے روداد زندگانی عمر طویل کا ہے افسانہ مختصر سا رخصت ہوا ہے دل سے ہر شوق رفتہ رفتہ یہ شہر آرزو بھی بنتا چلا کھنڈر سا آتا ہے دھیان ان کا یوں دشت زندگی میں ظلمت میں شب کی جیسے ہو جلوۂ سحر سا آسودگئ غم نے کتنا سرور بخشا اپنے وجود سے بھی رہتا ہوں بے خبر سا انداز پرسش غم تھا دل فریب کتنا وہ دشمن تمنا لگتا تھا چارہ گر سا اشکوں نے ضبط غم کی رکھی ہے لاج ہر دم سو بار گھر کے آیا بادل مگر نہ برسا راہ حیات میں ہم تنہا نہیں مبارکؔ ان کا خیال ہر دم رہتا ہے ہم سفر سا
mahrumiyon kaa dil par itnaa hai kuchh asar saa
خزاں چمن میں یوں مستانہ وار گزری ہے گماں یہ ہوتا ہے جیسے بہار گزری ہے فضا اداس گلی مضمحل چمن پامال بہار اب کے خزاں درکنار گزری ہے ابھی وہی کہیں گزرے نہ ہوں ادھر ہو کر شمیم بیز ہوا عطر بار گزری ہے زہے تصور جاناں زہے خیال جمال ہر ایک سانس مری مشک بار گزری ہے ترے کرم سے ہمیشہ رہا ہے دل شاداب مرے چمن سے ہمیشہ بہار گزری ہے لبھا سکے گی مجھے کیا کسی کی رعنائی مری نظر سے تمہاری بہار گزری ہے عنایت آپ کی وجہ سکوں تو ہے لیکن میں کیا کروں کہ طبیعت پہ بار گزری ہے گزر رہی ہے مبارکؔ گزر ہی جائے گی وہ زندگی جو بہت ناگوار گزری ہے
khizaan chaman mein yuun mastaanaa-vaar guzri hai
دامن لہو لہو ہے گریباں لہو لہو ہیں کشتگان فصل بہاراں لہو لہو شاید گزر چکی ہے اسیروں کی جان پر زنجیر ہے خموش تو زنداں لہو لہو گو ہو چکا وجود پتنگوں کا بے نشاں ہے دامن چراغ شبستاں لہو لہو کس کاروان آبلہ پا کا گزر ہوا ہے دشت خون خون بیاباں لہو لہو خنجر فشاں ہے کس کی خدائی چہار سمت ہر گام پر ہے عظمت انساں لہو لہو آنچل ہے سرخ خوں سے عروس بہار کا گلچیں کے جور سے ہے گلستاں لہو لہو جولاں فقط رگوں میں مبارکؔ لہو نہیں ہے قل تا بہ دیدۂ گریاں لہو لہو
daaman lahu-lahu hai garebaan lahu-lahu
دل میں حسرت کا داغ جلتا ہے یا حرم میں چراغ جلتا ہے اب خرد بھی جنوں کی راہ لگی دل تو دل ہے دماغ جلتا ہے یاد آتی ہے آرزوؤں کی دل کا ایک ایک داغ جلتا ہے پھول ہیں یا دہکتے انگارے فصل گل ہے کہ باغ جلتا ہے یاس میں بھی یہ حوصلہ دل کا تیرگی میں چراغ جلتا ہے اب نشیمن کی خیر ہو یا رب شعلۂ گل سے باغ جلتا ہے
dil mein hasrat kaa daagh jaltaa hai
اس عہد میں سنا ہے مجبور آدمی سے رہتا ہے آدمی بھی اب دور آدمی سے یہ راز کب رہا ہے مستور آدمی سے زردار آدمی ہے مزدور آدمی سے عزم خودی سلامت مشکل بھی کوئی شے ہے اکثر ہوئی مشیت مجبور آدمی سے کھلتی گئیں ہیں جب سے گمراہیوں کی راہیں ہوتی گئی ہے منزل خود دور آدمی سے کہتا ہے اور ہی کچھ فقدان آدمیت ویسے تو ہے یہ دنیا معمور آدمی سے ہم جنس کے لہو سے کھیلے گا کون ہولی حیرت کہ یہ چلا ہے دستور آدمی سے جب آدمی ہی بننا مشکل ہے آدمی کا کیونکر خدا بنا تھا منصور آدمی سے گمنام آدمی کا دنیا میں کارنامہ منسوب ہو رہے گا مشہور آدمی سے اس دور بے بسی میں یہ حال ہے مبارکؔ جینے کا چھن چکا ہے مقدور آدمی سے
is ahd mein sunaa hai majbur aadmi se





