main apne aap laDungaa samundaron se jang
ab e'timaad mujhe apne naakhudaa pe nahin

Mubeen Mirza
Mubeen Mirza
Mubeen Mirza
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
کبھی خدا کبھی خود سے سوال کرتے ہوئے میں جی رہا ہوں مسلسل ملال کرتے ہوئے مگن تھا کار محبت میں اس طرح کہ مجھے خبر نہ ہو سکی اپنا یہ حال کرتے ہوئے کسے بتاؤں گزارا ہے میں نے بھی اک دور مثال ہوتے ہوئے اور مثال کرتے ہوئے وہ جذب و شوق ہی آخر عذاب جاں ٹھہرا حرام ہو گیا جینا حلال کرتے ہوئے نہ کوئی رنج ان آنکھوں میں تھا دم رخصت نہ تھی زبان میں لکنت سوال کرتے ہوئے یہ کام اس کے لیے جیسے مسئلہ ہی نہ تھا وہ پر سکون تھا کار محال کرتے ہوئے تمام عمر جو لو دیں مجھے رکھیں آباد گیا وہ ایسے غموں سے نہال کرتے ہوئے
kabhi khudaa kabhi khud se savaal karte hue
یہی تو دکھ ہے زمیں آسماں بنا کر بھی میں در بہ در ہوں خود اپنا جہاں بنا کر بھی اگر یہ سچ ہے کہ ہر شے یہاں پہ فانی ہے تو کیا کروں گا میں کچھ جاوداں بنا کر بھی مصر ہے اس پہ مجھے رائیگاں نہیں ہونا وہ زندگی کو مری رائیگاں بنا کر بھی کسے دکھاؤں جو تاریکیاں سمیٹی ہیں قدم قدم پہ نئی کہکشاں بنا کر بھی کچھ اور لوگ مگر بعد ازاں اسے یاد آئے وہ خوش نہیں تھا ہمیں داستاں بنا کر بھی کھلا مسافت ہستی میں کم نہیں ہوتے سفر کے رنج و الم کارواں بنا کر بھی
yahi to dukh hai zamin aasmaan banaa kar bhi
چلے جائیں گے سب اسباب حیرانی نہ جائے گی کسی صورت دل و جاں کی یہ ارزانی نہ جائے گی سو اب طے ہے نہ جائیں گی یہ دل کی وحشتیں جب تک رگوں میں اس امڈتے خوں کی طغیانی نہ جائے گی سبب یہ ہے کہ پہلے ہو چکا ہے فیصلہ سو اب گواہی دی تو جائے گی مگر مانی نہ جائے گی تجھے اس در سے لینا تھا نیا رنج و الم ہر پل دل وحشت اثر تیری تن آسانی نہ جائے گی کھلا یہ خون کی وحشت ہے سو میں مر تو سکتا ہوں مرے اندر سے لیکن خوئے سلطانی نہ جائے گی میسر آئیں گی ہر پل بہت آسائشیں لیکن مجھے معلوم ہے اب دل کی ویرانی نہ جائے گی
chale jaaeinge sab asbaab hairaani na jaaegi
یہ محبت ہے اسے گرمئ بازار نہ کر لاکھ وحشت سہی ایسا تو مرے یار نہ کر آج یہ سوچ کہ کل کیسے سنبھالے گا اسے بے سبب دل میں گمانوں کا یہ انبار نہ کر زیست ہر آن تغیر کا نشاں ہے لیکن یار کل تک جو رہے آج انہیں اغیار نہ کر ان بدلتے ہوئے رنگوں کے تماشے پہ نہ جا یہ جو دنیا ہے تو اپنا اسے معیار نہ کر مسئلہ حل بھی تو ہو سکتا ہے کچھ سوچ کے دیکھ یوں بگڑ کر مری ہر بات سے انکار نہ کر میں تجھے روک نہیں سکتا مگر جاتے ہوئے یہ جو امکان کا در ہے اسے دیوار نہ کر دوستی ختم ہوئی صاف بتا دے مجھ کو کم سے کم یوں کسی دشمن کی طرح وار نہ کر
ye mohabbat hai ise garmi-e-baazaar na kar
دن رات کے دیکھے ہوئے منظر سے الگ ہے یہ لمحہ تو موجود و میسر سے الگ ہے موجیں کہ بگولے ہوں مرے دل کا ہر اک رنگ صحرا ہے جدا اور سمندر سے الگ ہے وہ شے کہ لگے جس سے مری روح پہ یہ زخم واقف ہی نہیں تو ترے خنجر سے الگ ہے پوشیدہ نہیں مجھ سے یہ دنیا کی حقیقت باہر سے مرے ساتھ ہے اندر سے الگ ہے اک رنگ برستا ہی رہا مجھ پہ اگرچہ معلوم تھا وہ میرے مقدر سے الگ ہے تجھ کو نہیں معلوم ہوئے جس پہ فدا ہم ہے اور ہی کچھ جو ترے پیکر سے الگ ہے اس چشم کرم نے مجھے بخشا جو خزینہ ان مول ہے وہ اور زر و گوہر سے الگ ہے اس شخص کی الفت نے پھر اک روز بتایا قسمت مری دارا و سکندر سے الگ ہے
din raat ke dekhe hue manzar se alag hai
مجھے جس نے میرا پتا دیا وہ غم نہاں مرے ساتھ ہے مری زندگی مری روشنی دل بے اماں مرے ساتھ ہے مرا کارواں جو بچھڑ گیا مرے دل کا نقش بگڑ گیا میں ہوں اک مسافر گم شدہ سو یہی فغاں مرے ساتھ ہے اسی آرزو کی تڑپ لیے یونہی پھر رہا ہوں میں در بہ در وہی خاک ہے مرے سر میں بھی وہی آسماں مرے ساتھ ہے یہ جو آنکھ آج چھلک اٹھی مرے دل کا بھید ہی کھل گیا میں سمجھ رہا تھا یہ اب تلک غم بے نشاں مرے ساتھ ہے جو گئے دنوں پہ اٹھی نظر مرے دل نے خود یہ کہا مجھے میں کسی طلسم کدے میں ہوں کوئی داستاں مرے ساتھ ہے بڑی مدتوں کے بعد جو اب تری یاد آئی تو یوں لگا سر دشت وحشت زندگی کوئی مہرباں مرے ساتھ ہے یہی سوچ کر میں ہوں مطمئن تہی دست پھر بھی نہیں ہوں میں مرے دوست گو کہ چلے گئے غم دوستاں مرے ساتھ ہے کسی تال پر کسی تان پر مری روح آج ہے وجد میں مرا وہم ہے کہ حقیقتاً کوئی نغمہ خواں مرے ساتھ ہے یہ عجب رنگ مزاج ہے مگر اب یہی مجھے راس ہے کبھی ڈھونڈھتا ہوں میں خود کو بھی کبھی اک جہاں مرے ساتھ ہے
mujhe jis ne meraa pataa diyaa vo gham-e-nihaan mire saath hai





