"chhupa rakkha tha yuun khud ko kamal mera tha kisi pe khul nahin paaya jo haal mera tha"

Mughni Tabassum
Mughni Tabassum
Mughni Tabassum
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalchhupaa rakkhaa thaa yuun khud ko kamaal meraa thaa
kisi pe khul nahin paayaa jo haal meraa thaa
Ghazalغزل
naam hi rah gayaa ik anjuman-aaraai kaa
نام ہی رہ گیا اک انجمن آرائی کا چھپ گیا چاند بھی اب تو شب تنہائی کا دل سے جاتی نہیں ٹھہرے ہوئے قدموں کی صدا آنکھ نے سوانگ رچا رکھا ہے بینائی کا ایک اک یاد کو آہوں سے جلاتا جاؤں کام سونپا ہے عجب اس نے مسیحائی کا اب نہ وہ لمس نگاہوں کا نہ خوشبو کی صدا دل نے دیکھا تھا مگر خواب شناسائی کا ساعت درد فروزاں ہے بہا لیں آنسو ٹوٹنے کو ہے کڑا وقت شکیبائی کا
main ek andhe kuein kaa qaidi kise milungaa
میں ایک اندھے کنویں کا قیدی کسے ملوں گا کہاں مجھے ڈھونڈھنے چلی ہے نجات میری خجالت درگزر سے لب پر دعا نہ ٹھہری در سماعت سے لوٹ آئی ہے رات میری میں کس کے قول و قرار سے اپنے اشک پونچھوں مکر گئی ہے خود اپنے وعدوں سے ذات میری ہے تشنگی کا نیا ہی اک ذائقہ لبوں پر سراب اندر سراب گرداں حیات میری طناب خیمہ کے ٹوٹنے تک قیام میرا کہ شاخ آہو پہ آج بھی ہے برات میری
subhein kaisi aag lagaane vaali thiin
صبحیں کیسی آگ لگانے والی تھیں شامیں کیسی دھواں اٹھانے والی تھیں کیسا اتھاہ سمندر تھا وہ خیالوں کا موجیں کتنا شور مچانے والی تھیں دروازے سب دل میں آ کر کھلتے تھے دیواریں چہروں کو دکھانے والی تھیں رستوں میں زندہ تھی آہٹ قدموں کی گلیاں کیا خوشبو مہکانے والی تھیں برساتیں زخموں کو ہرا کر دیتی تھیں اور ہوائیں پھول کھلانے والی تھیں کیسی ویرانی اب ان پہ برستی ہے یہ آنکھیں تو دیے جلانے والی تھیں ان باتوں سے دل کا خزانہ خالی ہے وہ باتیں جو اگلے زمانے والی تھیں
nigaahon se nikal kar jo gae hain
نگاہوں سے نکل کر جو گئے ہیں وہ چہرے آئنوں میں کھو گئے ہیں زمیں پر نور کی بارش تھی جن سے ستارے آسماں میں بو گئے ہیں کھلے تھے جو چمن میں گل کی صورت صبا کے ساتھ رخصت ہو گئے ہیں جلانے والے یادوں کے دیے اب چراغ جاں بجھا کر سو گئے ہیں
azaab ho gai zanjir-e-dast-o-paa mujh ko
عذاب ہو گئی زنجیر دست و پا مجھ کو جو ہو سکے تو کہیں دار پہ چڑھا مجھ کو ترس گیا ہوں میں سورج کی روشنی کے لیے وہ دی ہے سایۂ دیوار نے سزا مجھ کو جو دیکھے تو اسی سے ہے زندگی میرے مگر مٹا بھی رہی ہے یہی ہوا مجھ کو اسی نظر نے مجھے توڑ کر بکھیر دیا اسی نظر نے بنایا تھا آئینہ مجھ کو سراب عمر تمنا کی تشنگی ہوں میں اگر ہے چشمۂ فیاض تو بجھا مجھ کو کبھی تو اپنے بدن کے چراغ روشن کر کبھی تو اپنے لہو سے بھی آزما مجھ کو
yuun lagtaa hai sab kuchh khone aayaa thaa
یوں لگتا ہے سب کچھ کھونے آیا تھا میں اس گھر میں تجھ کو رونے آیا تھا تو میرے ہم راہ تو آیا تھا لیکن تنہائی کے کانٹے بونے آیا تھا میں اس کے دیدار سے کب سیراب ہوا وہ تو بس دامن کو بھگونے آیا تھا میں تکتا تھا اس کو پیاسے ہونٹوں سے بادل میری ناؤ ڈبونے آیا تھا گہری نیند سے مجھ کو جگا کر چھوڑ گیا خواب مری آنکھوں میں سونے آیا تھا





