raaton ko puchhti hai talab mujh se ye savaal
kyon hijr ne rakhaa mire ghar ko ujaaD kar

Muhammad Shakeel Akhtar
Muhammad Shakeel Akhtar
Muhammad Shakeel Akhtar
Popular Shayari
2 totalik bosa sabt karne kaa e'laan kar diyaa
honTon kaa jis ne rakh diyaa huliya bigaaD kar
Ghazalغزل
اگا رہے ہیں سبھی آنکھوں میں ببولوں کو کہ جس سے نوچ سکیں گے بدن کے پھولوں کو چلن جو دیکھا زمانے کا بد چلن جیسا تو میں نے ترک کیا جینے کے اصولوں کو طلائی بوندوں کی جھڑیاں لگیں جو ساون میں کنواریوں نے شجر پہ لگایا جھولوں کو جگر پگھلتا ہے تو شاعری میں ڈھلتا ہے تو کون روکے گا پھر شعر کے نزولوں کو کسی کا عیب چھپانا بھی اک عبادت ہے فروغ دیتا نہیں عیب کے حصولوں کو بڑھاپا آیا تو آیا خدا بھی یاد اخترؔ رلا رہا ہوں جوانی کی اپنی بھولوں کو
ugaa rahe hain sabhi aankhon mein babulon ko
اک جنگ کے انداز میں گفتار کھڑی تھی بد رنگ انا مٹنے کو تیار کھڑی تھی کیوں عشق کے ہی شہر پہ ٹوٹا تھا فقط قہر جب حسن کی بستی بھی گنہ گار کھڑی تھی اک خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں تھا اک نیند شبستان میں بیدار کھڑی تھی آہٹ ہوئی گونگی یا سماعت ہوئی بہری دروازے پہ یا پھر کوئی دیوار کھڑی تھی قدموں کی جسارت رہی منزل کی طرفدار پر راہوں سے لپٹی ہوئی رفتار کھڑی تھی احساس کے پر کاٹ کے دل کر کے شکستہ ہونٹوں سے لگی طنز کی تلوار کھڑی تھی کیوں حسن کے بازار میں چلتا مرا سکہ جب چشم عدو دل کی خریدار کھڑی تھی اک آنچ تھی ہر نقش رخ یار میں پنہاں وہ حسن تھا یا آتشی یلغار کھڑی تھی روتا رہا اخترؔ میں گناہوں سے لپٹ کر اور میری خرد اک طرف بیمار کھڑی تھی
ik jang ke andaaz mein guftaar khaDi thi
آہوں کے سلسلے مرے سینے میں گاڑ کر وہ لے گیا ہے جسم سے دل کو اکھاڑ کر میں ہوں برا تو کیا سبھی اچھوں میں ہیں شمار ہر طنز کو میں رکھتا ہوں اکثر پچھاڑ کر رہنے دے مضطرب مجھے عشق ذلیل میں راتیں طویل کر سبھی دن کو پہاڑ کر اک بوسہ ثبت کرنے کا اعلان کر دیا ہونٹوں کا جس نے رکھ دیا حلیہ بگاڑ کر اب خاک ہو نہ جائیں تمنائیں وصل کی جسموں کے درمیاں نہیں اتنی دراڑ کر راتوں کو پوچھتی ہے طلب مجھ سے یہ سوال کیوں ہجر نے رکھا مرے گھر کو اجاڑ کر پتھر کے جسم میں نہیں اخترؔ بچا ہے کچھ کیا فائدہ ہے جسم کو اب چھیڑ چھاڑ کر
aahon ke silsile mire siine mein gaaD kar
ممکن کہاں غموں کا نیا سلسلہ نہ ہو جو رمز التفات سے دل آشنا نہ ہو وصل نگار کی نہیں منزل ہو دستیاب راہ طلب میں کوئی اگر نقش پا نہ ہو ہے موج درد کی بڑی بے غیرتی اگر پرواز درد عشق کی بے انتہا نہ ہو جب حسن کے حجاب میں آیا ہے انقلاب تب اشتہائے دید بھی کیوں کر سوا نہ ہو رسوائیوں سے پر ہے اگر عشق کا مزاج بہتر ہے تب دلوں میں کوئی رابطہ نہ ہو اشکوں کا خاندان ہے ارفع نہ معتبر خون جگر کا اس میں اگر ذائقہ نہ ہو دنیا مقام ابتلا ہے جانتے ہیں سب پھر کیا جواز حشر جو مطلق خطا نہ ہو اخترؔ نہ ہوگی ندرت فکر سخن اگر نوک قلم میں ذوق تجسس بھرا نہ ہو
mumkin kahaan ghamon kaa nayaa silsila na ho
پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا مجھ کو بھی حرمت زیبا کا خریدار کیا وہ جو تھا خود کی نمائش کا طرفدار بدن خود کو خوابیدہ کیا اور مجھے بیدار کیا باندھ کر شاخ لبوں پر وہ تبسم کے گلاب میری معصوم تمنا کو طلب گار کیا تم نے تحفے میں دئے تھے جو دہکتے بوسے ان کی خوشبو نے ہی رسوا سر بازار کیا ایک لمحے کو سہی دید کا موسم ٹھہرے کچھ سرابوں نے مجھے تشنۂ دیدار کیا قلب آشوب زدہ عصیاں سے ہوتا کیوں ہے روز محشر کا مجھے جس نے خطا وار کیا اپنی سوچوں کی لکیروں سے تراشا تھا تمہیں خطۂ جاں پہ مگر تم نے ہی آزار کیا درد کی دھوپ میں سایہ تھا سکونت کا جو شام آئی تو لپٹ کر مجھے بیزار کیا جس کی معصوم اداؤں پہ یقیں تھا اخترؔ اس نے پاکیزگی سے مجھ کو گنہ گار کیا
paarsaaon ne baDe zarf kaa izhaar kiyaa
اک زلزلہ سکوت کا تنہائیوں میں ہے کتنا سکون عشق کی رسوائیوں میں ہے ہوتے رہیں طویل نگاہوں کے فاصلے دل کا ملن تو یادوں کی گہرائیوں میں ہے سب سے بڑا فریب ہے دنیا کی زندگی دنیا تو چند روز کی شہنائیوں میں ہے گھلتا ہے اب نگاہوں میں نصف النہار مہر اتنی تپش جمال کی انگڑائیوں میں ہے کرنے لگے ہیں لوگ گنہ کی وضاحتیں پاکیزگی نگاہوں کی سچائیوں میں ہے اخترؔ کو ہے گماں کہ ادب کا ہے وہ نصاب لیکن غزل تو قافیہ پیمائیوں میں ہے
ik zalzala sukut kaa tanhaaiyon mein hai





