"qatl ke kab the ye saare saman ek tiir ek kaman thi pahle"

Muneer Saifi
muneer saifi
muneer saifi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalqatl ke kab the ye saare saamaan
ek tiir ek kamaan thi pahle
Ghazalغزل
har gumbad-e-be-dar mein bhi ik dar hai ki tu hai
ہر گنبد بے در میں بھی اک در ہے کہ تو ہے پھر مجھ میں کوئی اور نواگر ہے کہ تو ہے اک اور ہی عالم ہے ورائے خس و خاشاک اک اور ہی منظر پس منظر ہے کہ تو ہے تا حد نظر ایک ندی ہے کہ ہوں میں بھی تا حد خیال ایک سمندر ہے کہ تو ہے پیوست ہیں مٹی میں مرے پاؤں کہ میں ہوں افلاک کے سینے پہ مرا سر ہے کہ تو ہے وحشت اسے کہیے نہ تحیر اسے کہیے میں بھول چلا تھا مجھے ازبر ہے کہ تو ہے دیکھوں تو ترا ہونا سہارا بھی ہے مجھ کو سوچوں تو مجھے ایک یہی ڈر ہے کہ تو ہے
sone vaalon ko koi khvaab dikhaane se rahaa
سونے والوں کو کوئی خواب دکھانے سے رہا میں تہ خاک تو اب خاک اڑانے سے رہا کوئی دروازہ نہ حائل کوئی دہلیز رہی عشق صحرا میں رہا اور ٹھکانے سے رہا ڈوب جائیں تو کنارے پہ پہنچ سکتے ہیں اب سمندر تو ہمیں پار لگانے سے رہا ان دیوں ہی سے کسی طور گزارا کر لو اب میں کمرے میں ستاروں کو تو لانے سے رہا اپنے ہاتھوں ہی شکار اپنا میں کر لوں نہ منیرؔ اور کچھ دیر اگر دور نشانے سے رہا
havaa ke saath safar ikhtiyaar karnaa thaa
ہوا کے ساتھ سفر اختیار کرنا تھا دیار شب کو خموشی سے پار کرنا تھا ہماری خاک کوئی چاندنی میں ڈال آئے ہمارا کام ستارے شکار کرنا تھا ہوئی تھی اس لیے تاخیر تم سے ملنے میں خود اپنا بھی تو مجھے انتظار کرنا تھا تمہارے واسطے کرنا تھا میں نے خود کو تلاش تمہارے واسطے میں نے فرار کرنا تھا ابھی سے تم نے مجھے بے کنار کر ڈالا ابھی تو تم نے مجھے ہم کنار کرنا تھا ہماری سمت بھی اک سکہ مسکراہٹ کا ہمیں بھی اپنی رعایا شمار کرنا تھا فلک تو بھول بھی سکتا تھا لغزشیں سیفیؔ مگر زمیں نے بہت شرمسار کرنا تھا
itne pur-maghz hain dalaail kyaa
اتنے پر مغز ہیں دلائل کیا دل کو کر لو گے اپنے قائل کیا پھر وہی سر ہے اور وہی تیشہ عشق کیا عشق کے مسائل کیا روشنی روشنی پکارتے ہو روشنی کے نہیں مسائل کیا روز میدان جنگ بنتا ہوں مجھ میں آباد ہیں قبائل کیا کس قدر عرضیاں گزاری ہیں کبھی دیکھی ہے میری فائل کیا ہاتھ پھیلانا کوئی کم تو نہیں پیٹ دکھلائے تم کو سائل کیا بیٹھے اب کرچیاں سمیٹتے ہو اپنے رستے میں خود تھے حائل کیا رات بھر جاگتے رہے ہیں درخت کوئی پنچھی ہوا ہے گھائل کیا بات بے بات ہنس رہے ہو منیرؔ یوں اثر غم کا ہوگا زائل کیا
ruuh sulagti rakkhi hai aur siina jaltaa rakkhaa hai
روح سلگتی رکھی ہے اور سینہ جلتا رکھا ہے اس نے مجھ کو لاکھوں انسانوں سے اچھا رکھا ہے تم روشن کر رکھو جتنے ہجر الاؤ ممکن ہوں میں نے بھی اپنی آنکھوں کے پیچھے دریا رکھا ہے آنکھ کہاں ہے ایک آفت گویا رکھی ہے چہرے پر دل کب ہے میرے پہلو میں ایک تماشا رکھا ہے جو مجھ میں کھل کر ہنستا اور ساون بھادوں روتا تھا اس بچے کو میں نے اب تک خود میں زندہ رکھا ہے جس دن میری دھرتی اپنی چادر مجھ پر ڈالے گی بس اس دن کی خاطر میں نے خود کو زندہ رکھا ہے خاک بسر پھرتی ہیں جس میں لیلائیں دن رات منیرؔ میں نے اپنی زا میں ایک ایسا بھی صحرا رکھا ہے
ek se jazbe khuun mein surkhi ek hi thi
ایک سے جذبے خون میں سرخی ایک ہی تھی دیس جدا تھے پیار کرنسی ایک ہی تھی اس پر بھی بس لیلیٰ لیلیٰ لکھا تھا اس کے پاس اگرچہ تختی ایک ہی تھی گھوڑے بنانا چھوڑ دیے کمہاروں نے گاؤں میں ڈوبنے والی لڑکی ایک ہی تھی حصہ بخرے بانٹ لئے ہیں لوگوں نے بے چارے کیا کرتے دھرتی ایک ہی تھی پھر کوئی طوفان نہ آیا ٹھیک ہوا ورنہ نوح کے پاس بھی کشتی ایک ہی تھی اس کے بعد سراب تھا یا ویرانے تھے سات زمینوں پر بھی بستی ایک ہی تھی اپنے سامنے میں خود ہی صف آرا تھا اور مری بندوق میں گولی ایک ہی تھی





