SHAWORDS
M

Muntazir Lakhnavi

Muntazir lakhnavi

Muntazir lakhnavi

poet
1Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

دیدہ ہے کہیں دل کہیں اور جان کہیں اور بیٹھا تو ہوں یاں پر ہے مرا دھیان کہیں اور کیوں سیر گلستاں کو ہم اس کوچہ سے جاویں لگتا ہی نہیں دل کسی عنوان کہیں اور دنیا میں گو مشکل کوئی آساں نہیں ہوتی شاید کہ ہو مشکل مری آسان کہیں اور فریاد کو جی چاہے تو جز کوچۂ جاناں جانا نہ کبھی اے دل نادان کہیں اور ہے طرفہ کہ تجھ سا نہ مرا دوست ہو ناصح اور جاؤں سلانے میں گریبان کہیں اور جس شہر میں ہم رہتے ہیں ہے جائے طلسمات ایسی تو پری ہوں گی نہ انسان کہیں اور اے منتظرؔ اس زلف کا تو چھیڑ نہ قصہ ہو جاوے ترا دل نہ پریشان کہیں اور

diida hai kahin dil kahin aur jaan kahin aur

1 views

غزل · Ghazal

جس کی بخدا اس بت کافر پہ نظر ہے چھاتی ہے پہاڑ اس کی تو پتھر کا جگر ہے اے دل در دنداں کو ذرا دیکھ تو اس کے کیا درج میں یاقوت کی یہ سلک گہر ہے کیا صاف کہوں یار کے رخسار کا اوصاف اک غیرت خورشید ہے ایک رشک قمر ہے بینائی کہاں اتنی نظر آئے جو مجھ کو باریک رگ جاں سے بھی کچھ اس کی کمر ہے کرتا ہے دلا کس لئے تو یار کو بدنام باعث تری رسوائی کا یہ دیدۂ تر ہے سمجھوں نہ جدائی کو میں کیوں وصل سے بہتر صورت تری آنکھوں کے تلے آٹھ پہر ہے روتا ہے وہ حسرت پہ تری سوختہ جاں کی جوں شمع سحر جو کوئی سرگرم سفر ہے

jis ki ba-khudaa us but-e-kaafir pe nazar hai

غزل · Ghazal

یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا کبھی اتنا میں پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوا واقعی جائے ندامت تو یہی ہے کہ کبھو مجھ سے جو کام عزیزاں نہ ہوا تھا سو ہوا تجھ کو دیکھے کوئی اور اس سے خفا ہونا ہائے کیا کروں اے دل ناداں نہ ہوا تھا سو ہوا کر کے نظارہ تن صاف کا اس کے ہیہات شکل آئینہ جو حیراں نہ ہوا تھا سو ہوا ہنستے ہنستے نہ سنا تھا کہیں ہو خانہ خراب رؤو اب دیدۂ گریاں نہ ہوا تھا سو ہوا بال وے بکھرے ہوئے دیکھ کے رخ پر اس کے کبھو کافر جو مسلماں نہ ہوا تھا سو ہوا منتظرؔ اس دل بیتاب کے ہاتھوں شب وصل کیا کہیں تم سے میاں جو نہ ہوا تھا سو ہوا

yaar se dast-o-garebaan na huaa thaa so huaa

غزل · Ghazal

اس شوخ کے انداز کو دیکھا تو غضب ہے اور اس کے سوا ناز کو دیکھا تو غضب ہے باتوں میں جو چھل لیوے ہے دل پیر و جواں کا اس طفل دعا بار کو دیکھا تو غضب ہے کیا کیا نہ کہا اس نے مجھے تیری طرف سے کافر ترے ہم راز کو دیکھا تو غضب ہے ہر چند کہ ہے طوطیٔ ہند ایک ہی خوش گو پر بلبل شیراز کو دیکھا تو غضب ہے ہرچند کہ ہے عشق کا انجام ہی کچھ قہر ہر حسن کے آغاز کو دیکھا تو غضب ہے ہم منتظرؔ اتنا نہ سمجھتے تھے اسے لیک خوب اس بت خود ساز کو دیکھا تو غضب ہے

us shokh ke andaaz ko dekhaa to ghazab hai

غزل · Ghazal

عمر بھر اس پہ میں مرا ہی کیا وہ مسیحا بھی دم دیا ہی کیا تھا وہ نا آشنا مزاج ولے آخرش ہم نے آشنا ہی کیا عاشقی کے سوا بھی ہم نے اور جو کیا کام سو برا ہی کیا کر گئے قیس و کوہکن جو جو ہم نے اس سے بھی کچھ سوا ہی کیا گو بھلا یا برا تھا شعر اپنا سن کے یاروں نے واہ وا ہی کیا اک نہ اک اس کی زلف برہم سے پیچ دل پر مرے پڑا ہی کیا شب فرقت میں منتظرؔ ہر روز شمع سا دل مرا جلا ہی کیا

umr bhar us pe main maraa hi kiyaa

غزل · Ghazal

یک بیک جاتا رہا دلبر جو گھر آیا ہوا دوڑا دوڑا میں پھرا گلیوں میں گھبرایا ہوا جان کیا جلاد کی لیوے دوبارا حکم قتل منہ سے اس ظالم نے جو یکبار فرمایا ہوا ہجر میں اس گل کے یہ صورت ہماری بن گئی رنگ بھی ہے زرد اور چہرہ بھی مرجھایا ہوا خانۂ دل سے کریں غم یار کا کس طرح دور در سے اٹھتا ہے محصل کوئی بٹھلایا ہوا کیا غضب ٹوٹے ہے دیکھیں عاشقوں کی جان پر آج کچھ غصہ میں ہے بیٹھا وہ جھنجھلایا ہوا یوں کیا برباد اس گل نے دل پژمردہ کو پھینک دے ہے پھول جیسے کوئی کملایا ہوا منتظرؔ کا جی جلا دے کیوں نہ ہر اک بات میں ہے وہ ظالم شعلہ خو غیروں کا بھڑکایا ہوا

yak-ba-yak jaataa rahaa dilbar jo ghar aayaa huaa

Similar Poets