SHAWORDS
Muntazir Qaimi

Muntazir Qaimi

Muntazir Qaimi

Muntazir Qaimi

poet
1Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

کبھی سحر تو کبھی شام ہونا چاہتا ہوں کبھی پیالہ کبھی جام ہونا چاہتا ہوں نہیں ملے تھے تو شہرت کی بھوک جاگی تھی جو مل گئے ہو تو گمنام ہونا چاہتا ہوں ابھر رہے ہیں تری چاہتوں کے باغ و بہار میں چپکے چپکے دل آرام ہونا چاہتا ہوں سنہری یادیں ہی پلتی رہیں جس آنگن میں میں اس محل کے در و بام ہونا چاہتا ہوں میں اپنے خود کے بنائے ہوئے اصولوں میں کبھی میں کرشن کبھی رام ہونا چاہتا ہوں تیرے فسانے کی ہر خوش نما عبارت میں کہیں پہ ق کہیں ل ہونا چاہتا ہوں مرے خدا مجھے اب حسن کی بشارت دے میں اس کے شہر پہ الہام ہونا چاہتا ہوں اداسیوں نے لکھا ہے جو چہرے چہرے پے فسردگی کا وہ پیغام ہونا چاہتا ہوں قدم قدم پہ یہاں کربلائیں پھیلی ہیں میں وقت عصر کا ہنگام ہونا چاہتا ہوں

kabhi sahar to kabhi shaam honaa chaahtaa huun

غزل · Ghazal

ساحلوں کا بھی نہ احساں تھا گوارا مجھ کو اتنا دریا کے تلاطم نے سنوارا مجھ کو پیاس ایسی ہے کہ اندر سے سلگتا ہے بدن اور پانی کے سوا کچھ نہیں چارا مجھ کو اب تو دامن کو لپکتے ہیں لہو کے شعلے اور پکارے ہے کہیں خون کا دھارا مجھ کو خوں بہا لے کے ابھی خیر سے پلٹے بھی نہ تھے مقتل خوف میں پھر کس نے پکارا مجھ کو پاسداری کی جڑیں میں نے ہلا کر رکھ دیں وہ سمجھتے تھے فقط اینٹ اور گارا مجھ کو اجنبی شہر کی بیگانہ مزاجی کے خلاف میرے سائے نے دیا کتنا سہارا مجھ کو درد ہی درد کماتے ہو مگر کہتے ہو عشق کے کھیل میں ہوتا ہے خسارہ مجھ کو سرمئی شام کے چہرے پہ حیا کا آنچل اچھا لگتا ہے بہت ایسا نظارہ مجھ کو میں تو جگنو کی طرح شب میں پریشاں حیراں رات بھی کہتی ہے آوارہ ستارہ مجھ کو

saahilon kaa bhi na ehsaan thaa gavaaraa mujh ko

غزل · Ghazal

عدل سے منہ موڑ کر جب منصفی ہونے لگے سخت کافر جرم بھی اب مذہبی ہونے لگے تشنگی کی آنکھ میں بے سمت تیور دیکھ کر کتنے دریا دل سمندر بھی ندی ہونے لگے حسرتیں پلنے لگی ہیں پھر نبوت کے لئے کچھ دنوں میں کیا خبر پیغمبری ہونے لگے انتہا کو جب بھی پہنچے قربتوں کا اشتیاق کیا پتا جبریل کی بھی ہمسری ہونے لگے قلب تک پہنچی نہیں جن کے شراب معرفت ایسے فرضی لوگ دعوے سے ولی ہونے لگے عشق کو اب لے چلیں آؤ اک ایسے موڑ پر پیار میں جو کچھ بھی ہو وہ بندگی ہونے لگے مل گئی ہیں وقت کو جانے کہاں کی وسعتیں ان دنوں لگتا ہے لمحے بھی صدی ہونے لگے

adl se munh moD kar jab munsifi hone lage

غزل · Ghazal

موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے وہ شب ظلمت میں کتنے جانے پہچانے رہے ہوش والوں کو تماشے دیکھتے ہی منتظر دل پہ پتھر رکھ کے ہم اک عمر دیوانے رہے فاتح شب کی ہوس میں روشنی پہ مر مٹے خودکشی کی آڑ میں بے خوف پروانے رہے تج کے در تیرا مری آوارگی جاتی کہاں وہ تو کہیے شہر میں بے لوث مے خانے رہے نہ حسیں خوابوں کا موسم اور نہ گل کی آرزو اتنی مایوسی میں بھی ہم زندگی تانے رہے بے نیاز دہر ہو کر عشق ہم کرتے رہے اور زمانے کے لبوں پر صرف افسانے رہے اک نظر میں لٹ گیا تھا دل کا شہر آرزو زندگی میں دور تک خوابوں کے ویرانے رہے

mausam-e-hijrat mein jo apnon se begaane rahe

غزل · Ghazal

گردش وقت پھر اک تازہ سفر مانگے ہے اور مری خانہ بدوشی کوئی گھر مانگے ہے بام امید سے پلٹی ہوئی ناکام دعا باریابی کا کوئی اور ہنر مانگے ہے کاسۂ حرف بھی پندار کو گروی رکھ کر کبھی خلعت تو کبھی لعل و گہر مانگے ہے دل تو بس آپ کی رنگین خیالی میں ہے گم اور دھڑکن ترے آنے کی خبر مانگے ہے اک تھکا ہارا مسافر کوئی دم لینے کو بوڑھے برگد سے کوئی ایک پہر مانگے ہے اپنی تاریکی سے خود رات بھی ہے خوف زدہ اتنی وحشت ہے کہ اب خود ہی سحر مانگے ہے پہلے محدود تھی دل تک ہی یہ ویرانیٔ جاں اب یہ سنگین وبا پورا نگر مانگے ہے

gardish-e-vaqt phir ik taaza safar maange hai

غزل · Ghazal

عشرت نے تمناؤں کو بازار کیا ہے مجبوری نے ہر شے کو خریدار کیا ہے ڈر تھا کہ کہیں میں بھی نہ بن جاؤں فرشتہ یہ سوچ کے اپنے کو گنہ گار کیا ہے ملنے کو ضرور آئیں گے اک روز در و بام مجھ کو اسی امید نے دیوار کیا ہے خوش رنگ پرندے تو نہیں کرتے بسیرا اک پیڑ نے شاخوں کو خبردار کیا ہے لفظوں میں اتر آئی ہے سازش کی سیاہی اس عہد نے افواہوں کو اخبار کیا ہے تعمیر میں آتی ہے نظر خون کی لالی لوگوں نے کسے خواب کا معمار کیا ہے یہ بات اترتی نہیں سورج کے گلے سے تاریکی نے جگنو سے بہت پیار کیا ہے چنگاریاں دامن میں بھرے ایک دئے نے بے سمت ہواؤں کو گرفتار کیا ہے پھر شام کی شاخوں پہ ہیں یادوں کے بسیرے پھر اس نے مری رات کو گلزار کیا ہے پھر ہے دل ناداں کو کسی غم کی ضرورت خوشیوں نے تو جیسے مجھے بیمار کیا ہے

'ishrat ne tamannaaon ko baazaar kiyaa hai

Similar Poets