jo ek pal ke liye khud badal nahin sakte
ye kah rahe hain ki saaraa jahaan badal Daalo

Muzaffar Ali Syed
Muzaffar Ali Syed
Muzaffar Ali Syed
Popular Shayari
5 totalye bhi kyaa kam hai basirat ki nazar haasil hui
doston ne ki jo tujh se dushmani maatam na kar
maanind-e-qais ret na sahraa ki chhaaniye
kis ko mili hai kis ki khabar raqs kijiye
dekho to har baghal mein hai daftar dabaa huaa
akhbaar mein jo chhaapnaa chaaho khabar nahin
laalach ki nazar kaun kisi shakhs ko dekhe
aankhon ke vare khaak hai aankhon ke pare khaak
Ghazalغزل
کام کوئی تو کبھی وقت سے آگے کر جا اے دل زندہ مرے مرنے سے پہلے مر جا ساغر چشم کو زہراب سے خالی کر دے اور جو بھرتا ہے تو پیمانۂ ہستی بھر جا تشنگی کم ہو مگر دور نہ ہونے پائے اپنے پیاسے کو نہ سیراب محبت کر جا خاک سے تا بہ فلک خواب کا پھیلا دامن کوئی کوشش نہ کہیں اور تمنا ہر جا تو مسافر ترے کس کام کی شہرت سیدؔ یہ سخاوت سر دہلیز رفیقاں دھر جا
kaam koi to kabhi vaqt se aage kar jaa
ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل ترے حضور سے بڑھ کر غیاب کی منزل نہیں ہے آپ ہی مقصود اپنا جوہر ذات کہ آفتاب نہیں آفتاب کی منزل کچھ ایسا رنج دیا بچپنے کی الفت نے پھر اس کے بعد نہ آئی شباب کی منزل مسافروں کو برابر نہیں زمان و مکاں ہوا کا ایک قدم اور حباب کی منزل محبتوں کے یہ لمحے دریغ کیوں کیجے بھگت ہی لیں گے جو آئی حساب کی منزل ملے گی بادہ گساروں کو شیخ کیا جانے گنہ کی راہ سے ہو کر ثواب کی منزل مسام ناچ رہے ہیں معاملت کے لیے گزر گئی ہے سوال و جواب کی منزل ملی جو آس تو سب مرحلے ہوئے آساں نہیں ہے کوئی بھی منزل سراب کی منزل مزاج درد کو آسودگی سے راس کرو کہاں ملے گی تمہیں اضطراب کی منزل رہ جنوں میں طلب کے سوا نہیں سیدؔ اگرچہ طے ہو خدا کی کتاب کی منزل
har ek raah se aage hai khvaab ki manzil
بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو نظام دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو نیا بنایا ہے دستور عاشقی ہم نے جو تم بھی قاعدۂ دلبراں بدل ڈالو اگر یہ تختۂ گل زہر ہے نظر کے لیے تو پھر ملازمت گلستاں بدل ڈالو جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو تمہارا کیا ہے مصیبت ہے لکھنے والوں کی جو دے چکے ہو وہ سارے بیاں بدل ڈالو مجھے بتایا ہے سیدؔ نے نسخۂ آساں جو تنگ ہو تو زمیں آسماں بدل ڈالو
bahut nahif hai tarz-e-fughaan badal Daalo
قطرے میں بھی چھپے ہیں بھنور رقص کیجیے قید صدف میں مثل گہر رقص کیجیے کیجے فسردگیٔ طبیعت کا کچھ علاج اس خاکداں میں مثل شرر رقص کیجیے اک نوجواں نے آج بزرگوں سے کہہ دیا ہوتی نہیں جو عمر بسر رقص کیجیے سوجے ہیں پاؤں آنکھ سے ہی تال دیجئے الجھا ہوا ہے تار نظر رقص کیجیے گردش میں اک ستارۂ بے چارہ ہی نہیں ہے آسماں بھی زیر و زبر رقص کیجیے گزرے جو ماہ و سال تو لے بھی بدل گئی اب کے برس بہ رنگ دگر رقص کیجیے فریاد کیجیے نہ کوئی ظلم ڈھائیے اک وہم ہے شکست و ظفر رقص کیجیے اس طائفے میں ایک کمی ہے تو آپ کی اے دشمنان علم و ہنر رقص کیجیے فیشن ہے آج کل کا مداری کی ڈگڈگی دل چاہے یا نہ چاہے مگر رقص کیجیے اپنی تو جھونپڑی میں تھرکتا نہیں چراغ جا کر کسی رقیب کے گھر رقص کیجیے سیدؔ نہ ریڈیو نہ سنیما ہے آپ کا اپنے ہی گیت گائیے اور رقص کیجیے
qatre mein bhi chhupe hain bhanvar raqs kijiye
کیا غم جو فلک سے کوئی اترا نہ سر خاک جز خاک نہیں کوئی یہاں چارہ گر خاک ملتی ہے شرابوں کی جگہ گرد بیاباں مے خانے کو جاتے ہیں تو کھلتا ہے در خاک صحرا کو گلستان بڑے شوق سے کہہ لو یعنی شجر خاک سے توڑو ثمر خاک درمان محبت ہے نشان کف پا بھی آنکھوں سے لگا کر کبھی دیکھو اثر خاک آغوش لحد پہلوئے مادر سے سوا ہے کس خوف سے لرزاں ہے تو اے بے خبر خاک بے مقصدیٔ دہر کا مظہر ہے تساہل کرنے کو نہ ہو کام تو انسان کرے خاک لالچ کی نظر کون کسی شخص کو دیکھے آنکھوں کے ورے خاک ہے آنکھوں کے پرے خاک ہے کون جو پھولوں کی تمنا نہیں رکھتا اک سیدؔ دیوانہ کہ دامن میں بھرے خاک
kyaa gham jo falak se koi utraa na sar-e-khaak
سیدؔ تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں ہو بھی خبر کسی کو تو سمجھو خبر نہیں موجود ہو تو کس لیے مفقود ہو گئے کن جنگلوں میں جا کے بسے ہو خبر نہیں اتنی خبر ہے پھول سے خوشبو جدا ہوئی اس کو کہیں سے ڈھونڈھ کے لاؤ خبر نہیں دل میں ابل رہے ہیں وہ طوفاں کہ الاماں چہرے پہ وہ سکون ہے مانو خبر نہیں دیکھو تو ہر بغل میں ہے دفتر دبا ہوا اخبار میں جو چھاپنا چاہو خبر نہیں نوک زباں ہیں تم کو شرابوں کے نام سب لیکن نشے کی بادہ پرستو خبر نہیں کاغذ زمین شور قلم شاخ بے ثمر کس آرزو پہ عمر گزارو خبر نہیں سیدؔ کوئی تو خواب بھی تصنیف کیجیے ہر بار تم یہی نہ سناؤ خبر نہیں
'sayyad' tumhaare gham ki kisi ko khabar nahin





