pattharo aao ki naadim hain shabihein khud par
aaine apni jasaarat ki sazaa chaahte hain
Muzaffar Mumtaz
Muzaffar Mumtaz
Muzaffar Mumtaz
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
رات کے پردے میں اک نور کا سیلاب بھی ہے دشت ظلمت میں کہیں وادیٔ مہتاب بھی ہے بہر پرسش ہی سہی آج ترا آ جانا ایک ہی وقت میں تعبیر بھی ہے خواب بھی ہے اصلیت دیکھ مرے چاک گریباں پہ نہ جا عشق چاہے تو بہت صاحب اسباب بھی ہے تو نے سوچا ہے کبھی جلوۂ ارزاں کے اسیر جس کو مہتاب سمجھتا ہے وہ مہتاب بھی ہے وقت کی تیز روانی سے ہے دہشت ورنہ یہی دریا جو ٹھہر جائے تو پایاب بھی ہے
raat ke parde mein ik nuur kaa sailaab bhi hai
کس خواب کا اثر ہے جو اب تک نظر میں ہے منزل کی ایک شبیہ غبار سفر میں ہے سمجھو کہ ایک پرتو منظر نہیں تمام ہے تیرگی وہ راز جو تاب گہر میں ہے دریا کی وسعتوں سے جو خائف رہے وہ لوگ سمجھے نہیں کہ ایک کنارہ بھنور میں ہے ہم منزل یقیں پہ نہ ٹھہرے یہ جان کر خلق خدا کے ساتھ خدا بھی سفر میں ہے رقصاں مری طلب میں ہے رقاص کائنات میری تلاش ہے جو دل رہ گزر میں ہے حیرت وفور شوق میں تکمیل کی طرف اک عکس آئنوں سے گریزاں سفر میں ہے
kis khvaab kaa asar hai jo ab tak nazar mein hai
حقیقتوں سے مگر منحرف رہا نہ گیا سو شہر خواب سے اپنا بھی آب و دانہ گیا حریف ذات عجب تھے کہ عمر بھر خود کو برا سمجھتے رہے پر برا کہا نہ گیا جو منتشر ہوں تو حیرت نہ کر کہ دریا میں بھنور کے بعد کسی لہر میں بہا نہ گیا عجیب لمس تھا اب کے جنوں کے ہاتھوں میں قبائے رنگ میں خوشبو سے پھر رہا نہ گیا ہوا مزاج ترے در بدر رہے تا عمر کسی بھی دشت کسی شہر میں بسا نہ گیا زمیں سے اڑ کے زمیں تک پہنچ گئی آخر سرشت خاک سے افلاک میں رہا نہ گیا
haqiqaton se magar munharif rahaa na gayaa
مجھی میں ڈوب گیا دشمنی نبھاتے ہوئے خدا بھی ہار گیا مجھ کو آزماتے ہوئے بھٹک نہ جائے وہ دن رات کے اندھیرے میں میں بجھ رہا ہوں جسے راستہ دکھاتے ہوئے گزر رہے ہیں شکستوں کے بھیس میں ہم بھی نئے سفر کے لئے منزلیں بناتے ہوئے الجھ رہا ہے وہ مجھ سے حقیقتوں کی طرح میں جھوٹ بول رہا ہوں اسے مناتے ہوئے یہ رقص کرتی ہوئی روشنی کے سائے ہیں کہ ہاتھ کانپ رہے ہیں دیا جلاتے ہوئے
mujhi mein Duub gayaa dushmani nibhaate hue
سکوں اگر ہے تو بس لطف انتظار میں ہے کہ بے بسی تو بہ ہر حال اختیار میں ہے یہ خوف بھی ہے کہ اشکوں میں ڈھل نہ جائے کہیں وہ ایک آہ جو نغمے کی انتظار میں ہے تھکا دیا ہے خود اپنی تلاش نے مجھ کو کہ میرا اصل مرے جھوٹ کے حصار میں ہے وہ دشمنوں کا ہو لشکر کہ دوستوں کا ہجوم یہ راز ہے جو ابھی پردۂ غبار میں ہے صدائے رنگ کی نغمہ گری سے کھل نہ سکا وہ ایک قفل جو اب تک لب بہار میں ہے
sukun agar hai to bas lutf intizaar mein hai
خود سے اکتائے ہوئے اپنا برا چاہتے ہیں بس کہ اب اہل وفا ترک وفا چاہتے ہیں ان کے ایماں پہ رہا ہے تری قدرت کا مدار یہی عشاق جو معتوب ہوا چاہتے ہیں ہم کہ خود سوز ہیں جینے نہیں دیتے خود کو تو میسر ہے تو کچھ تیرے سوا چاہتے ہیں پتھرو آؤ کہ نادم ہیں شبیہیں خود پر آئنے اپنی جسارت کی سزا چاہتے ہیں زندگی ضبط کی قائل ہے کہ سنتی ہی نہیں ایسے زخموں کی صدائیں جو دوا چاہتے ہیں
khud se uktaae hue apnaa buraa chaahte hain





